ہنر کی قدر، انسان کی محرومی

Blogger Doctor Gohar Ali

’’بڑھئی‘‘ کے عنوان سے یہ اُردو درسی متن، جو 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں اُس وقت کے صوبہ سرحد (NWFP)، موجودہ خیبر پختونخوا، میں پرائمری سطح پر بہ طورِ نصاب پڑھایا جاتا رہا۔ بہ ظاہر محنت، دیانت اور خدمتِ خلق کی اخلاقی اقدار کو اجاگر کرتا ہے۔ بچوں کے لیے لکھی گئی اس سادہ کہانی میں ایک بڑھئی کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو سماج کے لیے نہایت مفید خدمات انجام دیتا ہے۔ تاہم گہرے اور تنقیدی مطالعے سے یہ متن محض اخلاقی سبق نہیں رہتا، بل کہ ایک ایسے سماجی تضاد کی عکاسی بن جاتا ہے، جس میں محنت کش طبقہ اپنی اِفادیت کے باوجود مستقل محرومی اور حاشیے پر موجود رہتا ہے۔ مارکسی تنقیدی تناظر میں یہ کہانی پشتون معاشرے کے اُس طبقاتی ڈھانچے کو بے نقاب کرتی ہے، جو ہنر کی تعریف تو کرتا ہے، مگر ہنرمند انسان کو سماجی وقار اور مساوی حقوق دینے سے قاصر رہتا ہے۔
کارل مارکس کے مطابق قدر (Value) کی تخلیق کا اصل سرچشمہ محنت ہے، لیکن طاقت اور اختیار رکھنے والا طبقہ اسی محنت کے ثمرات پر قابض ہو جاتا ہے۔ مذکورہ درسی متن میں ’’بڑھئی‘‘ ایک ایسا فرد ہے، جو دیہی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس کا ہنر گھروں کے لیے فرنیچر، دروازے اور دیگر اشیا فراہم کرتا ہے، مگر اس کے باوجود اُس کی معاشی حالت ابتر رہتی ہے۔ یہ صورتِ حال اُس بنیادی مارکسی تضاد کی عکاس ہے، جس میں محنت کش قدر پیدا کرتا ہے، لیکن خود معاشی تحفظ اور سماجی عزت سے محروم رہتا ہے۔
پشتون معاشرے کے تاریخی تناظر میں بڑھئی، لوہار، نائی اور دیگر پیشہ ور طبقات کو ہنرمند یا دیہاتی ماہر کہا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ یہ اصطلاحات بہ ظاہر احترام پر مبنی ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک واضح سماجی حد بندی بھی قائم کرتی ہیں۔ زمین کی ملکیت، جو پشتون سماج میں طاقت، عزت اور اختیار کی بنیادی علامت ہے، ان طبقات سے ہمیشہ دور رکھی گئی۔ مارکسی نقطۂ نظر سے ذرائع پیداوار پر عدم کنٹرول اس طبقے کو مستقل انحصار اور محکومی کی حالت میں رکھتا ہے، جس کا نتیجہ نسل در نسل غربت اور سماجی پس ماندگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
درسی متن میں بڑھئی کی غربت اور کس مہ پرسی کو کسی سماجی یا معاشی ڈھانچے کا نتیجہ قرار دینے کے بہ جائے ایک معمول کی اور فطری حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں مارکسی تنقید متن کے پوشیدہ نظریاتی کردار کو آشکار کرتی ہے۔ غربت کو تقدیر یا ذاتی حالات کا نتیجہ بناکر پیش کرنا دراصل اس نظام کو جواز فراہم کرتا ہے، جو اس غربت کو پیدا اور برقرار رکھتا ہے۔ یوں محنت کش کی محرومی ایک انفرادی مسئلہ دکھائی دیتی ہے، حالاں کہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی اور ساختی مسئلہ ہے۔
جرگہ، جو پشتون معاشرے میں انصاف، مشاورت اور اجتماعی فیصلے کا ایک اہم ادارہ سمجھا جاتا ہے، عملی طور پر طاقت ور اور زمین دار طبقات کے مفادات کا نگہ بان رہا ہے۔ ہنرمند طبقات کی جرگے سے بے دخلی اس بات کی واضح علامت ہے کہ سماجی اختیار اور فیصلہ سازی صرف اُن طبقات کے پاس مرکوز رہی، جو نسب اور زمین کے مالک تھے۔ مارکس کے تصورِ بالائی ڈھانچے (Superstructure) کے مطابق ایسے ادارے معاشی ناہم واری کو سماجی، اخلاقی اور ثقافتی جواز فراہم کرتے ہیں۔
ثقافتی اقدار جیسے خاندانی برتری، نسب کی پاکیزگی، عزت اور غیرت کے تصورات پشتون معاشرے میں طبقاتی فرق کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتے رہے ہیں۔ ہنرمند طبقات کو شادی بیاہ کے رشتوں سے محروم رکھنا اسی نظریاتی غلبے کی ایک واضح صورت ہے۔ مارکسی اصطلاح میں یہ بالادست طبقے کی وہ حکمتِ عملی ہے، جس کے ذریعے طبقاتی سرحدوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے اور سماجی نقل و حمل کو روکا جاتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ یہ کہانی ابتدائی جماعتوں کے بچوں کے لیے تیار کی گئی تھی اور ریاستی نصاب کا حصہ تھی۔ ریاستی نصاب ہونے کے ناتے یہ متن محنت کی اخلاقی اہمیت تو اجاگر کرتا ہے، مگر طبقاتی ناہم واری، سماجی استحصال اور طاقت کے غیر مساوی تعلقات پر سوال اُٹھانے سے گریز کرتا ہے۔ اس طرح یہ نصاب بچوں کے ذہن میں ایک ایسا غلط شعور (False Consciousness) پیدا کرتا ہے، جس میں محنت قابلِ فخر عمل تو ہے، لیکن سماجی ناانصافی ایک ناقابلِ تغیر حقیقت بن کر قبول کر لی جاتی ہے۔
پشتون ولی کے ضابطۂ اخلاق میں انصاف، مساوات اور انسان دوستی جیسے اعلا اُصول شامل ہیں، مگر ہنرمند طبقات کی عملی زندگی ان اُصولوں سے متصادم نظر آتی ہے۔ مارکسی تجزیہ اس تضاد کو نظریے اور عمل کے درمیان فاصلے کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں اخلاقی اقدار محض علامتی رہ جاتی ہیں اور معاشی تعلقات اصل طاقت بن جاتے ہیں۔
الغرض، یہ درسی متن ایک بڑھئی کی کہانی کے پردے میں پشتون معاشرے کے گہرے طبقاتی تضادات کو نمایاں کرتا ہے۔ مارکسی تنقیدی مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ہنرمند طبقے کی محرومی کسی فرد کی ناکامی نہیں، بل کہ ایک ایسے سماجی و معاشی نظام کا نتیجہ ہے، جو قدر کی تخلیق کرنے والوں ہی کو حاشیے پر رکھتا ہے۔ اگر اس متن کو تنقیدی شعور کے ساتھ پڑھا جائے، تو یہ صرف اخلاقی سبق نہیں رہتا، بل کہ سماجی انصاف، طبقاتی مساوات اور نصابی نظریات پر ایک سنجیدہ سوال بن کر سامنے آتا ہے۔
متن کی تصویر ذیل میں دی گئی ہے:
Darsi Matan
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے