توروالی شناخت، دریا اور ترقی کا فریب

Blogger Zubair Torwali, Swat

ہم ایک مقامی (Indigenous) قوم ہیں۔ اکثر لوگوں کے لیے یہ جملہ محض ایک تجریدی دعوا ہے، لیکن ہمارے لیے، بالائی سوات کے توروالی لوگوں کے لیے یہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے، جس کی جڑیں ریاستی ڈھانچوں میں نہیں، بل کہ زمین، دریا، زبان اور یادداشتوں میں پیوست ہیں۔ ہماری شناخت اُن پہاڑوں سے جڑی ہے، جہاں ہم بستے ہیں…… اُن دریاؤں سے، جن کا ہم احترام کرتے ہیں…… اُن چراگاہوں سے، جہاں ہمارے ریوڑ چرتے ہیں اور اُن آبائی نظاموں سے جن پر ہم آج بھی عمل پیرا ہیں۔ اس خطے میں ہم سے پہلے کسی اور برادری کی موجودگی کے کوئی تاریخی شواہد نہیں ملتے۔ ہمارا روایتی نظامِ حکم رانی، ماحولیاتی علم اور لسانی ورثہ…… یہ سب ہماری قدیم موجودگی کی گواہی دیتے ہیں۔
آج بھی کراچی، کوئٹہ، حیدرآباد یا راولپنڈی نقلِ مکانی کرنے والے مقیم توروالی اپنے آبائی خطے کو ’’وطن‘‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے، جو ’’ہوم لینڈ‘‘ سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ کیوں کہ اس کے ساتھ ان کا تعلق صرف گھر کا نہیں، بلکہ کمیونٹی اور دھرتی کا ہے۔ ایک ضرب المثل اس بندھن کا اظہار یوں کرتی ہے: ’’تو وطن گے کے بدو، وطنا کے واد۔‘‘ ان فقروں کو تواتر سے ان شہروں میں بسے ہوئے توروالیوں میں سنا جاسکتا ہے۔ تمھارا جسم کہیں بھی رہے، تمھارا دل وطن ہی کا رہے گا۔
یہ تعلق محض استعاراتی نہیں، بل کہ ماحولیاتی ہے۔ ہماری زبان نے ہر چٹان، پتھر، نالے، چشمے، چراگاہ اور درے کو ایک نام دے رکھا ہے۔ توروالی زبان اگرچہ ہند-آریائی ہے، مگر اس میں قبل از آریائی اور گندھارا تہذیب کے وہ عناصر موجود ہیں، جو صدیوں تک اس مناظرِ فطرت کے ساتھ جڑے رہنے سے پیدا ہوئے۔ ہماری شاعری برفانی میدانوں، آبشاروں، دیودار کے جنگلوں اور بلند چوٹیوں سے اپنے استعارے لیتی ہے۔ ایک توروالی شاعر نے ہماری وادی کو آب و ہوا میں پاکیزہ اور قیمتی قرار دیا ہے کہ جس کا حسن سب پر غالب ہے۔
زمین کے ساتھ یہ قربت ہمارے طرزِ زندگی کی بنیاد ہے۔ جنگلات اور مشترکہ اراضی کے انتظام کے لیے ہمارا ’’دھیمی نظام‘‘ (Dheemi System) آج بھی فعال ہے۔ پانی کی تقسیم کے روایتی نظام جے یاب، گورنال، دیریل، مینکھال، پورن گام اور بھیم گڑھی جیسے دیہاتوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ ’’بہادر کاگا‘‘ کا سکھایا ہوا زرعی کیلنڈر آج بھی کسانوں کی راہ نمائی کرتا ہے۔ یہ محض ماضی کی باقیات نہیں، بل کہ مقامی حکم رانی کے زندہ ڈھانچے ہیں، جو جدید ریاست سے بھی قدیم ہیں۔
زمین سے یہی گہرا تعلق ہمارے دریاؤں کو مقدس بناتا ہے،محض علامتی طور پر نہیں، بل کہ وجودی طور پر۔ دریا کھونے کا مطلب تاریخ، روزگار، شناخت اور تخیل کو کھو دینا ہے۔ بحرین میں درال دریا کے ساتھ بالکل یہی ہوا۔
ایک وقت تھا جب گرمیوں میں درال کے پل پر کھڑے ہونا جنت کے کسی نہر کے کنارے کھڑے ہونے جیسا محسوس ہوتا تھا۔ اس کی ٹھنڈیلہروں کی پھوار روح کو ٹھنڈک بخشتی تھی؛ اس کے پانی سے باغات اور کھیت لہلہاتے تھے؛ بچے اس کے تالابوں میں کھیلتے تھے؛ خواتین میٹھے چشموں سے پانی بھرتی تھیں اور بزرگ ایک خاموش فخر کے ساتھ اس کے کناروں پر چہل قدمی کرتے تھے۔ یہ دریا محض پانی نہیں تھا۔ یہ ایک جیتی جاگتی ہستی تھا، دیوی دارا کا روپ جو ہمیں ہمارے اجداد سے جوڑتا تھا۔
پھر پن بجلی کا منصوبہ آیا۔ بجلی کے بحران کو جواز بنایا گیا۔ رپورٹیں تیار ہوئیں۔ وعدے کیے گئے۔ ملازمتوں کی پیش کش ہوئی اور ترقی کے خواب دکھائے گئے۔ عوامی مزاحمت کے باوجود منصوبہ مسلط کر دیا گیا۔ بجلی نہیں، بل کہ منافع اصل ترجیح تھا۔ عوامی دباو پر ایشیائی ترقیاتی بینک تو پیچھے ہٹ گیا، لیکن حکومت نے وہی پرانے نوآبادیاتی ہتھکنڈے استعمال کیے۔ پرانے تنازعات کو ہوا دی، برادریوں میں پھوٹ ڈالی اور ایک ثقافتی جد و جہد کو دفتری طریقۂ کار تک محدود کر دیا۔
آج ’’درال‘‘ پانی پر لکھی ہوئی ایک عبرت ہے۔ پاور ہاؤس دریا کے بہاو کو ایک ٹونٹی کی طرح کنٹرول کرتا ہے، جس سے دریا کا ایک بڑا حصہ خشک پڑا رہتا ہے۔ خزاں تک کناروں پر مچھروں کی افزایش ہوتی رہتی ہے۔ ٹنل سے اچانک پانی چھوڑنے کی وجہ سے بچے ڈوبتے ڈوبتے ہی بچے۔ صرف اُن مقامی نوجوانوں کی ہمت نے ایک بڑا المیہ رونما ہونے سے بچایا، جنھوں نے پرانے درال میں تیراکی سیکھی تھی۔ اس نقصان نے ہمیں ایک تلخ سچائی سکھائی کہ جب ایک دریا مشین بن جاتا ہے، تو اس سے جڑی ہر چیز(ثقافت، ماحول، معیشت اور شناخت) بکھر جاتی ہے۔
اسی تناظر میں بالائی سوات کے لوگ اب ’’مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ‘‘ کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ 207 میگاواٹ کا مدین ہائیڈرو منصوبہ کم از کم اُن 18 اسکیموں میں سے ایک ہے، جو مدین اور کالام کے درمیان منصوبہ بند ہیں۔ ان میں سے صرف تین (مدین، اسریت-کیدام، اور کالام-اسریت) مل کر 675 میگاواٹ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ درال، گورنئی، کیدام، مانکیال، گبرال اور اُتروڑ پر بھی منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ اگرچہ اُنھیں صوبائی یا نجی منصوبوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن اصل طاقت ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے عالمی مالیاتی اداروں کے پاس ہے۔ اُن میں سے مدین منصوبے کو ترجیح قرار دیا گیا ہے ۔
’’پیڈو‘‘ (PEDO) اور صوبائی ماحولیاتی حکام نے جولائی 2023ء میں مدین کے ایک ہوٹل میں عوامی سماعت کے ذریعے اسے زبردستی آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ درال کے زخم خوردہ لوگ بڑی تعداد میں وہاں پہنچے، لیکن اس کے باوجود ’’این اُو سی‘‘ (NOC)جاری کر دیا گیا۔ اس صورتِ حال نے مقامی لوگوں کو ’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ (Save River Swat Movement) کے نام سے جولائی 2024ء میں ایک مسلسل مزاحمت شروع کرنے پر مجبور کیا۔ پچھلی کوششوں کے برعکس، اس تحریک نے بہ راہِ راست مالیاتی ادارے (ورلڈ بینک) سے رابطہ کیا۔ اگست 2024ء سے ہم ورلڈ بینک کو باقاعدہ شکایات جمع کرا رہے ہیں کہ وہ اپنی ہی ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کی پالیسیوں کے تحت اس منصوبے پر نظرِثانی کرے ۔
18 مہینوں میں ہم نے بینک کے ساتھ سیکڑوں خطوط کا تبادلہ کیا؛ پشاور، اسلام آباد اور آن لائن میٹنگز کیں اور ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں ’’پیڈو‘‘ کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے۔ ہم نے اقوامِ متحدہ کے اداروں سمیت بین الاقوامی فورموں کو آگاہ کیا۔ اس دوران میں مدین سے کالام تک جرگے منعقد ہوئے۔ 23 اگست 2024ء کو بحرین میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا؛ ایک ماہ بعد نوجوانوں نے دوبارہ مارچ کیا۔ سوات اور اسلام آباد میں پریس کانفرنسوں نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی۔ میڈیا مہمات نے ہماری آواز کو بلند کیا۔ یہاں تک کہ ہمارے بچوں نے وزیرِاعظم کو خط لکھے۔
اس مزاحمت نے بے مثال عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ پہلی بار بین الاقوامی تنظیمیں شمالی پاکستان میں پن بجلی کے تنازع کی نگرانی کر رہی ہیں۔ ورلڈ بینک نے یہ تعین کرنے کے لیے ایک نایاب مطالعہ شروع کیا ہے کہ آیا توروالی لوگ اس کی پالیسی کے تحت ’’آبائی قوم‘‘ (Indigenous People) کے معیار پر پورا اُترتے ہیں یا نہیں؟ یہ اس خطے میں یہ ایک غیر معمولی قدم ہے۔
تاہم مرکزی مسئلہ اب بھی وہی ہے، یعنی رضامندی۔ پن بجلی کو’’صاف توانائی‘‘ (Clean Energy) کے طور پر بیچا جاتا ہے، لیکن کس کے لیے صاف……؟ بین الاقوامی قانون اور مقامی اقوام کے حقوق پر اقوامِِ متحدہ کا اعلامیہ (UNDRIP) واضح ہے۔ کوئی بھی آزادانہ، پیشگی اور باخبر رضامندی (FPIC) کے بغیر شروع نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملا؟ جلد بازی میں کی گئی سماعتیں، ناقابلِ فہم دستاویزات، طریقۂ کار میں شارٹ کٹس اور بیوروکریٹک دباو، ان میں سے کوئی بھی حقیقی رضامندی نہیں کہلاتا۔
ہم نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو ہماری زمین، پانی، ثقافت اور زندگی کے حقوق کے لیے خطرہ ہو، ہمیں نامنظور ہے۔ حقیقی ترقی وہ ہے، جو مقامی برادریوں کو مضبوط کرے، ماحولیاتی نظام کی حفاظت کرے اور موسمیاتی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔ جو کچھ یہاں مسلط کیا جا رہا ہے، اُس میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ ہمارے لیے دریا محض ایک وسیلہ نہیں۔ یہ ایک رشتہ ہے، ایک مقدس امانت ہے، ایک زندہ یادگار ہے۔ ہماری رضامندی کے بغیر اس پر بند باندھنا ہمیں ہماری ذات سے محروم کرنا ہے۔
ڈیڑھ سال سے بالائی سوات کے عوام نے پُرامن، منظم اور باخبر مزاحمت کے ذریعے اس منصوبے کو روک رکھا ہے۔ ہم کام یاب ہوں یا نہ ہوں، ہماری تحریک نے ایک گہری حقیقت کو ثابت کر دیا ہے: مقامی حقوق اور ماحولیاتی انصاف ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے؛ دریاؤں کے حقوق اس لیے ہیں، کیوں کہ مقامی لوگوں کے اُن کے ساتھ رشتے ہیں اور ہر ترقی کو اُن لوگوں کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے، جو اس کے نتائج بھگتتے ہیں۔
اقبالؔ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بنجر زمینیں کبھی نااُمید نہیں ہوتیں:
نہیں ہے نااُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو، تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
آمن پیانُواو
چھی نام اسپور نُو تُھو
تُنُو ڈے سی ڈی جالئیو
أ نیاشام اسپور نُو تُھو
توروالی لوگوں کی مزاحمت شبنم کا وہی قطرہ ہے، جومسلط کردہ ترقی کے سامنے وقار، اتحاد اور ہمت کو چمکاتا ہے…… اور جب تک دریائے سوات بہتا رہے گا، ہم اس کا دفاع کرتے رہیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے