فیک ویڈنگ: جنریشن زی اور معاشرتی اقدار

Blogger Ikram Ullah Arif

وہ ایک شادی تھی، مگر تھی بھی نہیں۔
اب قارئین سوچیں گے کہ یہ کیا بات ہوئی؟، تو بالکل ایسا ہی تھا……!
بات دراصل یہ تھی کہ پشاور میں ایک پروگرام منعقد ہوا تھا، جس پر پولیس نے چھاپا مارا اور شرکا کو گرفتار کر لیا۔ شرکا میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دونوں موجود تھیں۔ گرفتار شدگان کے ساتھ پھر کیا ہوا؟ اس کو فی الحال یہی چھوڑ دیں۔ کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ من چلوں کی گرفتاری پر کیا ہوتا چلا آ رہا ہے……!
اب سوال یہ ہے کہ اس پروگرام کو پولیس نے تہس نہس کیوں کیا؟ جواب دیا گیا کہ یہ لوگ "Fake Wedding” یعنی ’’جعلی یا خیالی شادی‘‘ منا رہے تھے۔ اس بارے اکثر لوگوں نے سنا بھی نہیں ہوگا کہ اس قسم کی شادیاں بھی منائی جاتی ہیں…… اسے خیالی نہیں، جعلی شادی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ کیوں کہ شادی ہوتی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقتاً ایسا ہوتا نہیں۔
خیر، اس حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں سے پوچھا، تو اندازہ ہوا کہ اکثریت کو معلوم ہی نہیں۔ حالاں کہ نئی نسل اس حوالے سے مشاق ہہوچکی ہے۔ تبھی سوچا اس حوالے سے کچھ لکھا جائے۔
اس بارے جب تحقیق کی، تو معلوم ہوا کہ واقعی یہ ایک شادی ہی جیسا عمل ہوتا ہے، جس میں ایک بڑے ہال کو ایسا ہی سجایا جاتا ہے، جیسا کہ شادی ہال ہوتا ہے۔ ایک نوجوان لڑکا دولھا بنتا ہے، روایتی لباس زیبِ تن کرتا ہے۔ اگر یہ سرگرمی پاکستان میں ہو رہی ہو، تو دولھا سہرا بھی باندھتا ہے۔ دلھن بھی سجی سجائی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ مہندی سے لے کر سلامی تک شادی کی تمام رسوم ادا کی جاتی ہیں، ماسوائے نکاح اور رخصتی کے۔
یہ سلسلہ مغربی دنیا میں بہت پہلے شروع ہوا ہے۔ اب جنوبی ایشیا میں بڑی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ خاص کر ’’جنریشن زی‘‘ اس سلسلے میں بہت فعال ہے۔ عرب بہار، نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں حالات کے اُلٹ پھیر نے جنریشن زی کو خوب متعارف کروایا ہے۔
فیک شادی میں اَن جان نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی خوشی اور مرضی سے شامل ہوتی ہیں۔ کئی ایسی اطلاعات بھی زیرِ گردش ہیں کہ ان پروگراموں میں منشیات کی ترسیل اور استعمال کے لیے بھی راستے ہم وار کیے جاتے ہیں۔
اس طرح کچھ محققین کا کہنا ہے کہ اس عمل کا آغاز کئی سال قبل ارجنٹینا میں ہوا تھا، جس کا مقصد مقامی سطح پر شادیوں کے ختم ہوتے رواج کو ردِعمل دینا تھا…… مگر اب ’’جنریشن زی‘‘ نے اس کو عالمی سطح پر قبول کرلیا ہے اور اسے مقامی یا ثقافتی رنگوں کا نام دے رہے ہیں۔
چوں کہ یہ ایک مکمل بدیسی عمل ہے، اس لیے یہاں کا معاشرہ اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس اس قسم کے پروگراموں کو زبردستی رُکوا رہی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر یہ حق نہیں کہ کسی کو کسی کام کرنے سے روکوں یا نہ کرنے پر ٹوکوں…… مگر بہ حیثیت ایک شہری کے یہ اپنا فرض ضرور سمجھتا ہوں کہ اپنے قارئین کے سامنے حقائق تحریری شکل میں رکھوں۔
ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ یہاں انتہاؤں کا راج ہے۔ ایک طرف لوگ ’’اتنڑ‘‘ کے خلاف آسمان سر پر اٹھا رہے ہیں، تو دوسری طرف ایسے مخلوط پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں نکاح اور رخصتی کے علاوہ شادی کے باقی ماندہ لوازمات پورے کیے جا رہے ہیں۔ اگر مذکورہ محافل سجانے والوں کا بروقت قبلہ درست نہیں کیا گیا، تو کسی کو شک میں نہیں رہنا چاہیے کہ ’’جنریشن زی‘‘ ان محافل کو گلی گلی آباد کرنے کو اپنا اعزاز سمجھے گی۔اس کے بعد ہمارے معاشرے کے روایتی حلیے کے ساتھ کیا ہوگا؟ یہ سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔
آپ کہیں گے کہ نئی نسل کو حق ہے کہ جو چاہے کرے۔ مجھے بھی کسی کے انفرادی عمل پر کوئی اعتراض نہیں، مگر جب کوئی انفرادی ناپسندیدہ عمل، اجتماعی بننے جا رہا ہو، جس سے معاشرے کی بقا پر سوالیہ بن جائے، تو پھر آواز اُٹھانا لازمی بن جاتا ہے ۔ مَیں صرف اپنے حلقۂ اثر کو جھجھوڑنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اگر ان پروگراموں پر عوامی آگاہی میسر نہ ہو اور گاؤں گاؤں ایسی محافل منعقد ہونا شروع ہوجائیں، تو پھر نتائج ظاہر ہے اچھے نہیں ہوں گے۔
ویسے بھی بڑے شہروں میں بغیر نکاح کے تعلقات کو بھی عام معاملہ سمجھا جاتا ہے، جو کہ ہمارے جیسے معاشروں کے لیے سماجی، اخلاقی، قانونی اور مذہبی لحاظ سے تاحال ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے میں ’’فیک ویڈنگ‘‘ کے ذریعے شادی جیسی ایک مذہبی رسم، سماجی ریت اور بنیادی معاملے کو متنازع بنانا یا تفنن طبع کا سامان بنانا کوئی ایسی بات ہرگز نہیں جس کو معمول کا معاملہ سمجھا جائے۔
عرضِ مکرر ر ہے کہ یہ کسی کے ذاتی فعل پر نقد نہیں، مگر سماجی بنت کے تناظر میں ایک ہم دردانہ اپیل ضرور ہے کہ اس معاملے میں عوامی آگاہی، قانونی وضاحت اور شخصی تربیت کو ضروری سمجھا جائے، تاکہ تفریح کے نام پر سماج کے وہ تار و پود بکھر نہ جائیں، جو ابھی تک مقدس اور محترم مانے جاتے ہیں۔
شادی آغازِ نسل کی بنیادی رسم ہے۔ اس کو متنازع بنانے سے بہ ہر صورت احتراز کرنا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے