ایک متحرک انسان کا باوقار سفرآخرت

Blogger Fazal Maula Zahid, Swat

20 دسمبر 2025ء، ہفتے کو صبحِ صادق کے وقت جیسے ہی آنکھ کھلی، تو بستر ہی سے یونیورسٹی ایلومینائی کے واٹس ایپ گروپ میں حاضری لگانے کے لیے حسبِ معمول صبح بخیر کا روایتی پیغام شیئر کیا، تاکہ دوستوں کو خبر ہو کہ ابھی ہم اس پرائی دنیا میں ایک ڈیفالٹر کی حیثیت سے سانس لے رہیں ہے۔ موبائل پرے پھینک کر ناشتے کے انتظار میں کتاب کی ورق گردانی شروع کر دی۔ یہ بھی اپنے روٹین کا حصہ ہے۔ ایک لمحہ کے لیے کھلی کھڑکی سے صحن کی طرف جھانکا۔ وادیِ سوات کی صبحیں ویسے ہی پرنور ہوتی ہیں، لیکن آج آسمان َمیں موجود بادل کچھ ’’مائل بہ کرم‘‘ لگ رہے تھے، تاہم فضا میں مسحور کن ٹھنڈک اور تازگی، میناوں کی اُچھل کود اور مانوس چہچہاہٹ معمول کے مطابق تھی، لیکن ایک بات معمول کے مطابق نہیں تھی۔ موبائل پر وٹس ایپ کی ہلکی سی ٹون، بار بار پُرسکون ماحول میں خلل ڈال رہی تھی، جو کسی غیر معمولی بات کا احساس دلا رہی تھی، مگر ہم نے اُس کی آواز کا گلا گھونٹ کر مکمل بے اعتنائی اختیار کی۔
خور و نوش کی نشست کے بعد جب اطمینان سے موبائل سکرین پر دوستوں کے وٹس ایپ پیج کا مشاہدہ کیا، تو دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ یا اللہ خیر……! ایک تصویر کے ساتھ پورا اسکرین ’’اِنّا للہ و اِنّا اِلَیہِ راجِعون‘‘ اور دعاؤں سے بھرا ہوا دیکھا۔ اس سے پہلے کہ وائس نوٹ میں محمد زعیم خان کی دل گیر و نحیف آواز سنائی دی۔ جسے سنتے ہی جسم لرز اُٹھا، ہاتھ پاؤں سن لگنے لگے اور دماغ پر جیسے ہتھوڑے برسنے لگے۔ جس سے اس خبر پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی کہ ہمارے یونیورسٹی کے کلاس فیلو، ایک سرگرم، زندہ دل اور ہمہ وقت متحرک شخصیت زرتاج خان، جو ایلومینائی گروپ کے روحِ رواں بھی تھے، جو کسی کی تکلیف سنتے ہی سب سے پہلے رابطہ کرتے اور خوشی کی خبر پر دل کھول کر مبارک باد دینے پہنچ جاتے، اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
ترکئی صوابی کے 66 سالہ زرتاج خان ریٹائرڈ زندگی میں زیادہ سرگرم دکھائی دیتے تھے۔ وہ اسلام آباد میں رہایش پذیر تھے۔ خبر کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے دوست اظہار احمد خان کے ساتھ اسلام آباد سے صوابی آ رہے تھے۔ مقصد ایک اور کلاس فیلو، لقمان خان، کے جنازے میں شرکت تھا۔ نمازِ جمعہ کے بعد جنازے کا وقت طے تھا۔ وہ گاؤں کی مسجد میں پہنچے اور خشوع و خضوع کے ساتھ خطبہ سن کر اگلی صف میں نماز کی ادائی کی خاطر کھڑے ہو گئے۔ امام صاحب نے نیت باندھی۔ کانوں تک ہاتھ اُٹھے، اللہ اکبر کی صدا گونجی۔ مقتدیوں نے بھی ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی نیت باندھی۔ ابھی امام رکوع کی طرف بڑھنے ہی والے تھے کہ عین اُسی لمحے زرتاج خان دھڑام سے زمین پر گر پڑے۔ اظہار احمد اور دیگر لوگ سلام بیچ میں پھیر کر اُن کے گرد جمع ہوگئے۔ اس کے جسم کو ٹٹولا، حرکت دی، سینے کا مساج کیا، مگر جسم میں زندگی کی رمق تک نہیں تھی۔ حیرت انگیز طور پر چہرے پر اطمینان اور ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جسے دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ نہ کوئی درد، نہ تکلیف، نہ فریاد، بس ایک سانس تھی…… جو خاموشی سے اپنے خالق کی طرف لوٹ گئی۔ تسلی کے لیے فوراً ایمبولنس میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی موت کی تصدیق کر دی۔
یوں وہ مسجد کی صف سے سیدھا اپنے رب کے حضور پہنچ گئے…… بچوں، عزیزوں اور دوستوں کو روتا ہوا چھوڑ کر۔ خاص طور پر اظہار احمد، جو موقع پر موجود تھے، اس سانحے کی وجہ سے شدید سکتے اور صدمے کی کیفیت میں چلے گئے۔ اسی لمحے شدت سے احساس ہوا کہ انسان کتنا بے بس، کتنا کم زور اور کتنا لاچار ہے اور زندگی کتنی ناپائیدار۔
کیا بھروسا ہے زندگانی کا
آدمی بلبلا ہے پانی کا
مرحوم صرف ہمارے کلاس فیلو ہی نہیں تھے، ہاسٹل فیلو بھی تھے اور دوست بھی۔ یہ کہنا بہ جا ہوگا کہ پوری یونیورسٹی میں وہ ایک ہردل عزیز شخصیت تھے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد عملی زندگی میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔ ایک سیلف میڈ انسان تھے۔ ملازمت کے سلسلے میں پورے ملک کا چپہ چپہ چھان مارا، مگر کبھی تھکے ، رُکے نہ شکوہ ہی کیا۔ بس خاموشی سے محنت کرتے رہے اور بڑھتے رہے ۔
مرحوم، یاروں کے یار تھے۔ حاضر جواب اور سٹیریٹ فارورڈ انسان تھے۔کشادہ دل، کھلے ڈھلے مزاج کے مالک…… کینہ، بغض اور حسد سے کوسوں دور۔ چہرے پر ہمہ وقت ایک بابرکت سی مسکراہٹ۔ جس سے ملتے، یوں ملتے جیسے برسوں کی جدائی کوئی معنی ہی نہ رکھتی ہو۔
دو سال قبل مرحوم سے اسلام آباد کلب میں ایلومینائی گروپ کی ایک گیدرنگ میں ملاقات ہوئی 25 برس بعد۔ تب بھی لہجے کی وہی مٹھاس، وہی چال ڈھال، وہی بانکپن۔ فرق صرف یہ تھا کہ داڑھی سفید ہوچکی تھی، مگر زندہ دلی ویسی کی ویسی ہی تھی…… قہقہوں، شوخی اور اپنائیت کے احساس کے ساتھ۔
یونیورسٹی ایلومینائی کے قیام میں اُنھوں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ نہایت تن دہی سے کام کیا۔ بکھرے ہوئے دوستوں کو ایک لڑی میں پرونے میں جن چند لوگوں کا کردار کلیدی رہا، وہ اُن میں نمایاں تھے۔ آج اگر دوست رو رہے ہیں، تو اس لیے کہ وہ صرف ایک دوست نہیں تھے، بل کہ دوستوں کو جوڑنے والی ایک طاقت تھے۔ شاید وہ پیدا ہی اس لیے ہوئے تھے کہ رشتوں اور دوستوں کو جوڑتے رہیں۔
اللہ بخشے، زرتاج خان کے نام کے ساتھ ’’مرحوم‘‘ کا لفظ لکھنے کے لیے واقعی بڑا حوصلہ اور دل گردہ چاہیے ۔ ہم نے ’’لاکھوں میں ایک‘‘ اصطلاح سنی تھی، مگر زرتاج خان کی اس بابرکت رخصتی نے ثابت کر دیا کہ ایسی موت لاکھوں میں نہیں، کروڑوں میں کسی ایک کو نصیب ہوتی ہے۔
اب دوستوں کی بنیادی ذمے داری بنتی ہے کہ اُن کی روح کو سکون پہنچانے کے لیے اُن کے جوڑے ہوئے رشتوں اور تعلق کو زندہ رکھیں، اور اُن جیسے دوستوں کو یاد رکھنے کے لیے ’’یادِ رفتگاں‘‘ کے عنوان سے ہر سال ایک پروگرام آرگنائز کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے مرحوم دوست زرتاج خان کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے دیگر مرحومین، محمد رحیم خان، غنی شاہ، لقمان خان اور ممتاز خٹک کی مغفرت فرمائے۔ اُنھیں جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا کرے اور اُن کے اہلِ خانہ، بچوں اور تمام دوستوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ، آمین!
بزرگ فرماتے ہیں کہ موت زندگی کی سب سے بڑی اور اٹل حقیقت ہے۔ دنیا عارضی ہے اور اصل ٹھکانا آخرت ہے۔ موت خالقِ حقیقی سے ملاقات کا دروازہ ہے۔ فرماتے ہیں کہ موت کا خوف انسان کو غرور سے بچاتا ہے، گناہوں سے روکتا ہے اور زندگی کو بامقصد بناتا ہے۔ کاش! ہم اس سچائی کو سمجھ لیں۔ اس سے پہلے کہ ہماری بھی باری آ جائے۔ اللہ کرے کہ زرتاج خان کی طرح مطمئن، بے فکر اور عاجزی کا پیکر بن کر ہمیں بھی اس دنیا سے رخصتی نصیب ہو، آمین!
ان کی وفات کے بعد پورے علاقے میں ایک عجیب سی روحانی کیفیت طاری ہو گئی۔ جس جس نے یہ خبر سنی، اس کے لہجے میں افسوس بھی تھا اور رشک بھی۔ واقعی مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران میں ایسی رخصتی کروڑوں میں کسی ایک ہی کو نصیب ہوتی ہے۔
کیا خوب اشعار ہیں کسی کے، جس کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ
جانا ٹھہرا ہے تو آداب و سلیقے سے نکل
سانس کی گٹھڑی اُٹھا، عمر کے میلے سے نکل
عصر ہو جائے، تو پھر دھوپ ٹھہرتی کب ہے
اب فقط لمحوں کو گن، سال و مہینے سے نکل
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

One Response

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے