انسانی شعور جب بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، تو وہ شور اور ہنگامے کے بہ جائے خاموشی اور گہرائی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ وجودِ باری تعالیٰ جیسے نازک اور حساس موضوع پر گفت گو کرنا کوئی معمولی بات نہیں، کیوں کہ یہاں منطق کی خشک زمین اور جذبات کے طوفان اکثر آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے ہیں…… لیکن دہلی میں مفتی شمائل ندوی صاحب اور جاوید اختر صاحب کے درمیان ہونے والے مباحثے نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر نیت ’’سچائی کی تلاش‘‘ ہو اور دل میں دوسرے کے لیے احترام موجود ہو، تو کٹھن سے کٹھن منزل بھی سہل ہوجاتی ہے۔ فریقین نے جس پختگی کا ثبوت دیا، وہ اس عہد میں ایک نایاب مثال ہے…… جہاں سوشل میڈیا کے سطحی تبصروں سے لے کر ٹی وی کے چیختے چنگھاڑتے ٹاک شوز تک، ہر جگہ مکالمہ محض ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جنگ بن چکا ہے۔ آج کے دور میں جہاں اختلافِ رائے کو دشمنی کا نام دے دیا جاتا ہے، وہاں فریقِ مخالف کی بات کو تحمل سے سننا بہ ذاتِ خود ایک بڑی اخلاقی فتح ہے۔
تاریخِ انسانی کا گہرا مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ تہذیبوں کا عروج ہمیشہ اُن ادوار میں ہوا جب فکر و نظر کی آزادی کو مقدم رکھا گیا۔ اندلس (اسپین) کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں مسلم، مسیحی اور یہودی سکالر ایک ہی چھت تلے بیٹھ کر کائنات کے اَسرار پر بحث کیا کرتے تھے۔ اسی طرح بغداد کے ’’بیت الحکمت‘‘ میں جب یونانی فلسفے کا عربی میں ترجمہ ہو رہا تھا، تو مقصد کسی نظریے کو شکست دینا نہیں، بل کہ سچائی کی تہوں تک پہنچنا تھا۔
دہلی کی مذکورہ مجلس میں بھی وہی تاریخی روح کارفرما نظر آئی کہ دلیل کا جواب صرف دلیل ہے۔ جب ایک فریق اپنا مقدمہ پیش کر رہا تھا، تو دوسرا فریق اُسے اِس لیے نہیں سن رہا تھا کہ اُس میں سے کیڑے نکالے، بل کہ اس لیے سن رہا تھا کہ اُس کے زاویۂ نظر کو سمجھ سکے۔ رواداری کا اصل مفہوم بھی یہی ہے۔ ہم آہنگی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سب کی رائے ایک جیسی ہوجائے، بل کہ اصل کمال یہ ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود انسانیت اور باہمی احترام کا رشتہ ٹوٹنے نہ پائے۔
مذکورہ مباحثے نے اس ضرورت کو اُجاگر کیا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو اب محض ’’ڈگری دینے والی فیکٹریوں‘‘ کے بہ جائے ’’فکری تربیت گاہوں‘‘ میں تبدیل ہونا ہوگا۔ ہمیں اپنے نصاب میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور فنِ مکالمہ کو ایک لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنا ہوگا۔
طلبہ کو سکھانا ہوگا کہ جو شخص آپ سے مختلف رائے رکھتا ہے، وہ آپ کا دشمن نہیں، بل کہ آپ کے علم میں اضافے کا ایک ذریعہ ہے۔جب تک سوال کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی، معاشرہ ذہنی جمود کا شکار رہے گا۔ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بہ جائے اصل ماخذ تک پہنچنے کی عادت ہی انتہا پسندی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ جب ہمارے تعلیمی ادارے اور بیٹھکیں ایسے مکالموں کا مرکز بنیں گی، تبھی وہ نسل تیار ہوگی، جو جذباتی نعروں کے پیچھے بھاگنے کے بہ جائے دلیل کی طاقت پر بھروسا کرے گی۔
موجودہ دور میں جس فکری اور نظریاتی انتہا پسندی نے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس کا واحد علاج اسی طرح کے علمی اور تہذیبی مکالموں میں پوشیدہ ہے۔ انتہا پسندی ہمیشہ ’’خوف‘‘ اور ’’جہالت‘‘ سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم اپنے تعصبات کی عینک اُتار کر مقابل کو ایک انسان کی حیثیت سے دیکھیں، تو نفرتوں کی وہ دیواریں جو برسوں میں کھڑی ہوئی تھیں، لمحوں میں گرنے لگتی ہیں۔
عقیدے کا ابلاغ ایک سماجی عمل ہے؛ اور جب یہ عمل شایستگی کے لبادے میں ہوتا ہے، تو اس کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس مباحثے نے ہمیں یہ ابدی سبق دیا کہ اپنی بات کو منوانے کے لیے لہجے میں کرختی لانا ضروری نہیں، بل کہ الفاظ کا انتخاب اور استدلال کی مضبوطی وہ ہتھیار ہیں، جو دلوں کے بند کواڑ کھول دیتے ہیں۔
مکالمے کی یہ روایت دراصل ایک روشن مستقبل کا وہ نقشہ ہے، جہاں انسان کی پہچان اس کا قبیلہ، رنگ یا گروہ نہیں، بل کہ اس کا علم، اس کا اخلاق اور اس کی عالی ظرفی ہوگی۔ اس تحریر کا مقصد کسی خاص نقطۂ نظر کی جیت کا جشن منانا نہیں، بل کہ اس ’’اُسلوب‘‘کو زندہ کرنا ہے، جو ہماری تہذیب کا خاصہ رہا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ایک پُرسکون اور فکری طور پر زرخیز دنیا میں سانس لیں، تو ہمیں آج ہی سے ’’مکالمے کی حرمت‘‘ کو بہ حال کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سچائی کسی ایک شخص یا گروہ کی جاگیر نہیں، بل کہ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سفر ہے، جس میں ہم سب شریکِ سفر ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










