مینگورہ کی تاریخی جنازہ گاہ (جنازو جمات) کا نوحہ

Blogger Sajid Aman

جنازو جمات (مسجد)، ڈھیرئی مقبرہ مینگورہ، محض ایک جنازہ گاہ یا عمارت نہیں تھی جس کو مسمار کرکے اب ایک اور عمارت زیرِ تعمیر ہے۔ یہ تو ورثہ تھا، تاریخ تھی، ایک تعلق تھا۔
والی صاحب جیسے جہاں دیدہ انسان نے جنازو جمات کے لیے جگہ کا انتخاب کیا، تو اس میں اُن کی دور اندیشی اور قابلیت کا بڑا عمل دخل تھا۔ آج بھی کئی دہائیوں بعد جنازو جمات تک پہنچنے کی کئی راہیں ہیں، جو فوتگی کی تکلیف اور جنازے کے فرائض کے درمیان میں کم از کم وقت حائل ہونے کے لیے بہترین جگہ تھی اور آج بھی ہے، جہاں مینگورہ کی مین روڈ اور والی صاحب کی بنائی ہوئی روڈوں کی شاخیں ملتی تھیں۔
ریاست سوات کے آخری دور میں، والی صاحب کی ہدایت پر، مینگورہ ڈھیرئی، قبرستانوں کی سب سے موزوں جگہ پر جنازو جمات کے نام سے قائم ہوا۔ یہ جنازہ گاہ اس خطے میں باقاعدہ پہلی مسجد تھی، جو جنازوں کے لیے مختص کی گئی تھی۔ اس کو مسلم اقدار اور سواتی طرزِ تعمیر کا خوب صورت مرقع بنایا گیا، جہاں دیدہ زیب جالیاں اور ہوادار روزن جنازہ گاہ کی شان بڑھاتے۔
یہ احساس کہ میت اور دنیا کے سامنے پردے حائل ہونے لگے ہیں اور پُروقار رخصتی کا عمل جاری ہے، جنازوں جمات کی پُرشکوہ عمارت ڈھیرئی قبرستانوں میں ریاست سوات کی یادداشت اور عوام کی فلاح کی نشانی کے طور پر قائم رہی۔ یہ عمارت شاہی تعمیر، مختصر برآمدے اور کھلے صحن کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلاتی تھی۔
وقت کے ساتھ آبادی بڑھتی گئی۔ جنازو جمات میں پہلی توسیع بیرم خان تاتا (مرحوم) نے اپنی چیئرمینی کے دور میں کی۔ برآمدے میں توسیع کی گئی، مگر عمارت کی شان اور وقار کا خیال رکھا گیا۔ تاتا (مرحوم) فرزندِ مینگورہ نے بڑے خلوص اور محبت کے ساتھ وقت نکال کر عمارت کی توسیع اور تذئین میں ساتھ دیا۔
دوسری توسیع ڈاکٹر محبوب الرحمان (مرحوم) نے کی۔ اُنھوں نے باقاعدہ وضو کے لیے جگہ، پانی اور برآمدہ تعمیر کیا۔ یوں ایک بڑا مسئلہ، تیمم یا قریب ہی کسی اور جگہ وضو کرکے آنا، ختم ہوا۔ یہ عمل جنازو جمات کی شان کو اور بڑھا گیا اور وقت کی ضروریات کو پورا کرگیا۔
تیسری توسیع ایم پی اے محمد امین ناظم صاحب کے دور میں ہوئی۔ اُنھوں نے ٹائلز لگائے، تذین و آرایش کی اور عمارت کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دیے۔ اس کام میں محمد امین ناظم صاحب کی ذاتی دل چسپی اور عقیدت کو عمل دخل تھا۔
اس کے بعد پی ٹی آئی کا سونامی آیا، تو والی صاحب اور ریاست کی ہر نشانی کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔ کالج بچے، نہ سکول کی عمارتیں، ہسپتال بچے، نہ ریاستی دور کے کھلوں کے وسیع میدان۔ ہر جگہ کرپشن اور لوٹ مار کا راستہ نکالنے کے لیے تاریخی عمارتوں کو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ زمیں بوس کیا گیا۔ جنازو جمات بھی مذکورہ ڈھٹائی کا شکار ہوکر مسمار ہوا۔ گو کہ یہ ہر لحاظ سے ایک مکمل عمارت تھی، جہاں والی صاحب کی قدردانی بھی تھی، بیرم خان تاتا کا خلوص بھی تھا، ڈاکٹر محبوب صاحب کی محبت بھی تھی اور محمد امین ناظم صاحب کی تعمیر کا جذبہ بھی۔ کم از کم اس عمارت میں کسی قسم کی تعمیر یا توسیع کی ضرورت نہیں تھی۔پھر بھی اس کے نام پر ’’فنڈز‘‘ نکال کر اسے شہید کیا گیا۔ اس عمارت کی شان ہوس کا شکار ہوکر روڑے میں تبدیل ہوگئی۔اس کے بعد مینگورہ شہر کے باسی مارکیٹوں، چوکوں اور چوراہوں میں جنازے پڑھنے پر مجبور ہوکر رہ گئے۔ بہ الفاظِ دیگر مینگورہ شہر کے زندہ لوگوں کی تذلیل اور لوٹ مار کے ساتھ مردوں کی بے حرمتی بھی شروع ہوگئی۔ کئی سال گزر جانے کے بعد بھی تا دمِ تحریر جنازو جمات کی بہ حالی ممکن نہ ہوسکی۔ اس میں کمیشن خوری کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
قارئین! کتنے دکھ کی بات ہے کہ تاریخی جنازو جمات نے خود کو پارکنگ میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ وہ وقت بھی دیکھا کہ شہر کے نوجوان اور رضاکار آکر اس کی صفائی کرتے رہے۔ ہر جنازے میں اسے مسمار کرنے والوں کو رنگ رنگ کی بددعائیں دی جاتی رہیں۔ آج بھی جنازو جمات کی صدائیں اپنے ساتھ سلوک پر بلند ہو رہی ہیں۔ آج بھی جمازو جمات اپنے جسم پر لگے زخموں کو چاٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ آج بھی والی صاحب، بیرم خان تاتا اور ڈاکٹر محبوب الرحمان صاحب کی روح زندہ لوگوں کی بے حسی پر بے چین ہے۔ آج بھی جنازہ پڑھنے آنے والا مینگورہ کا ہر باسی ایک ہی بات پوچھتا ہے کہ یہ نواں عجوبہ (جنازو جمات) پایۂ تکمیل تک کب پہنچے گا؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے