حالیہ دور میں خیبر پختونخوا کی 34 سرکاری جامعات کو درپیش شدید مالی بحران کے بارے میں تشویش ناک خبروں کی بھرمار پڑھنے کو مل رہی ہے۔ شعبہ جات کی بندش، فیسوں میں اضافے اور متعدد دیگر مسائل کی باتوں کے درمیان صوبے میں اعلا تعلیم کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا ہے۔ ایسے وقت میں جب پشاور یونیورسٹی جیسے اداروں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ فیسیں بڑھائیں اور ’’اپنے وسائل خود پیدا کریں‘‘، یہ یاد دلانا ضروری ہوجاتا ہے کہ سرکاری تعلیم کے اخراجات آخر کون برداشت کرتا ہے؟
نیز یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ریاست، جو پہلے ہی عوام سے وسائل حاصل کرتی ہے، تعلیم جیسے بنیادی حق کو تجارتی سرگرمی میں بدل کر غلط سمت اختیار کر رہی ہے۔ مالی بوجھ طلبہ پر منتقل کرنا بالآخر انھی ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچاتا ہے، جن کے بچوں کی تعلیم کی ذمے داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ جس طرح شہری ریاست کو مالی وسائل فراہم کرتے ہیں، اُسی طرح تعلیم کی سرکاری فنڈنگ بھی مساوات، قوم کی تعمیر اور سب کے لیے تعلیم کو قابلِ رسائی بنانے کے قومی تصور کا حصہ ہے۔
دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایک عام غلط فہمی پائی جاتی ہے، یعنی بہت سے شہری یہ سمجھتے ہیں کہ سڑکوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور سبسڈی جیسے عوامی فلاحی منصوبوں پر حکومتی اخراجات کسی سخاوت کا مظہر ہیں۔ اس تاثر کو سرکاری زبان میں استعمال ہونے والی اصطلاحات جیسے ’’گرانٹس‘‘، ’’احسانات‘‘، ’’بیل آؤٹ پیکیج‘‘ یا ’’ریلیف‘‘ مزید مضبوط کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے پاس اپنا کوئی ذاتی پیسا نہیں ہوتا۔ تمام سرکاری اخراجات شہریوں کی معاشی محنت، کھپت اور مالی شراکت سے ہی پورے ہوتے ہیں…… خصوصاً محنت کش طبقے اور محروم طبقات سے، جو سب سے زیادہ ٹیکس کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا جمہوری سوچ اور تمام ریاستی اداروں بہ شمول جامعات میں ذمے دارانہ طرزِ حکم رانی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ریاست کے مالی وسائل مکمل طور پر عوام سے بہ راہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں، معاشی سرگرمیوں اور محنت کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔ تنخواہ دار ملازمین اور پیشہ ور افراد سے انکم ٹیکس، اشیا اور خدمات پر سیلز ٹیکس، درآمدی ڈیوٹیز، ایکسائز ڈیوٹیز اور وِد ہولڈنگ ٹیکس مل کر قومی خزانے کو بھرتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ افراد بھی جو کبھی ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے، روزمرہ لین دین میں شامل بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ بجلی کے بل، ایندھن کی قیمتیں، موبائل ٹیکس، سروس چارجز، رجسٹریشن فیسیں اور بینکاری کٹوتیاں بھی سرکاری آمدن میں شامل ہیں۔ جب حکومت اندرونِ ملک یا بیرونِ ملک قرض لیتی ہے، تو وہ ہر پاکستانی کے نام پر ہوتا ہے…… اور مہنگائی، اضافی ٹیکسوں اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتیوں کے ذریعے مذکورہ قرضوں کی ادائی کی جاتی ہے۔ اس تمام نظام کی بنیاد انسانی محنت ہے: دیہاڑی دار مزدور، اساتذہ، نرس، ڈرائیور، کلرک، کسان اور سروس ورکر وہ معاشی قدر پیدا کرتے ہیں، جو منڈیوں کو چلائے رکھتی ہے اور ریاستی آمدن کی بنیاد بنتی ہے، اگرچہ اُن کی خدمات اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔
معاشرے کے غریب ترین طبقات عموماً اپنی آمدن کا سب سے بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں، مگر جب سرکاری ادارے فیسیں بڑھاتے یا خدمات کم کرتے ہیں، تو سب سے پہلے یہی لوگ باہر کر دیے جاتے ہیں۔ ایک مضبوط اور منصفانہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ کم زور طبقات کا تحفظ کرے، نہ کہ اُن کی مشکلات میں اضافہ کرتی پھرے۔ مزدوروں، کلرکوں، کسانوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں پر زیادہ فیسیں عائد کرنا نہ صرف معاشی انصاف کے اُصولوں کی خلاف ورزی ہے، بل کہ آئینی مساوات کے اُس وعدے کے بھی منافی ہے، جس میں سرکاری تعلیم کو برقرار رکھنے کا عہد کیا گیا ہے۔
یہ حقیقت واضح طور پر بیان کی جانی چاہیے: ہر چیز کا خرچ شہری ہی ادا کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے لے کر سرکاری گاڑیوں کے ایندھن تک، انتظامی عمارتوں کی دیکھ بھال سے لے کر سرکاری جامعات کے نظام تک، ہر محکمہ اور ہر سہولت عوام کے پیسے سے دست یاب ہوتی ہے۔ اس میں اعلا سطح کی مراعات، انتظامی الاؤنسز، سرکاری رہایش گاہیں اور گاڑیاں، سفری اخراجات اور سرکاری دفاتر کی مجموعی دیکھ بھال سب شامل ہیں۔ لہٰذا سرکاری عہدے دار کوئی محسن نہیں، جو احسانات بانٹ رہے ہوں؛ وہ عوامی وسائل کے امین ہیں، جو مکمل طور پر انھی شہریوں کی مالی شراکت سے چلتے ہیں، جن کی خدمت اُن پر لازم ہے ۔
پاکستان کی دیگر تمام سرکاری جامعات کی طرح پشاور یونیورسٹی بھی بنیادی طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعے مالی اعانت کی مستحق ہے۔ کیوں کہ دونوں پر سرکاری تعلیم کی فراہمی کی آئینی اور اخلاقی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ جامعات ریاست کی زیرِ سرپرستی قائم کی جاتی ہیں، تاکہ سستی اور قابلِ رسائی تعلیم فراہم کی جاسکے، نہ کہ ’’تجارتی ادارے‘‘ بننے کے لیے۔ تاہم حالیہ برسوں میں مسلسل حکومتوں نے جامعات پر زور دیا ہے کہ وہ ’’فیسیں بڑھائیں‘‘، ’’نئے چارجز عائد کریں‘‘، ’’پروگرام بند کریں‘‘ اور ’’اپنی آمدن خود پیدا کریں‘‘…… یوں مالی بوجھ طلبہ پر ڈال دیا گیا ہے۔
یہ رویہ بنیادی طور پر ناانصافی پر مبنی ہے۔ کیوں کہ متاثرہ طلبہ اُنھی ٹیکس دہندگان کے بچے ہیں، جن کا پیسا پہلے ہی ریاست کو چلا رہا ہے۔ یوں غریبوں پر دوہرا ٹیکس عائد ہوجاتا ہے۔ سرکاری جامعات کا مقصد سماجی مواقع کو وسعت دینا ہے، نہ کہ کم آمدنی والے خاندانوں کو سزا دینا۔ فیسوں میں اضافہ دیہی اور محنت کش طبقے کے طلبہ کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتا ہے اور اعلا تعلیم کو اُن کی پہنچ سے باہر کر دیتا ہے۔ جب ریاست اپنی مالی ذمے داریوں سے دست بردار ہوتی ہے، تو وہ اس سماجی معاہدے کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس کے تحت شہری یہ توقع رکھتے ہیں کہ تعلیم، صحت اور تحفظ قابلِ رسائی رہیں گے۔ طلبہ کی فیسیں بڑھانے پر مسلسل اصرار معاشی طور پر نقصان دہ اور اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع ہے۔ خصوصاً ایسے صوبے میں، جہاں غربت کی شرح پاکستان میں بلند ترین ہے۔
ایک سرکاری ادارے میں کام کرنے والے پیشہ ور افراد کے طور پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہماری تنخواہیں، انفراسٹرکچر اور یونیورسٹی کا پورا نظام شہریوں کے پیسوں سے چلتا ہے۔ لہٰذا عوامی خدمت کی اخلاقیات ہم سے جواب دہی، ذمے داری اور انکسار کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمارے انتظامی فیصلوں میں اُن ٹیکس دہندگان کے ساتھ انصاف جھلکنا چاہیے، جو اس ادارے کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ شعور محتاط فیصلوں، وسائل کے شفاف استعمال، غیر ضروری اخراجات کی حوصلہ شکنی، مناسب سرکاری فنڈنگ کے لیے اجتماعی جد و جہد اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کو مضبوط بناتا ہے۔ پشاور یونیورسٹی طویل عرصے سے ایک ممتاز علمی ادارہ رہی ہے، اور اب اسے عوامی اعلا تعلیم کو ایک عوامی بھلائی کے طور پر محفوظ اور فروغ دینے میں قیادت کا کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان کو فوری طور پر شہری شعور میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ تصور کہ حکومت عوام کو کچھ ’’دے‘‘ رہی ہے، بنیادی طور پر غلط ہے۔ کیوں کہ شہری پہلے ہی ٹیکسوں، روزمرہ معاشی سرگرمیوں اور محنت کے ذریعے ریاست کو اپنا سرمایہ دے چکے ہوتے ہیں۔ چناں چہ تعلیم، صحت اور دیگر عوامی خدمات احسان نہیں، بل کہ حقوق ہیں۔ جب حکومتیں، سرکاری اداروں کو کم فنڈ دیتی ہیں اور پھر اُنھیں فیسیں بڑھانے یا اضافی چارجز عائد کرنے پر مجبور کرتی ہیں، تو شہریوں سے دراصل ایک ہی خدمت کے لیے دو مرتبہ ادائی کروائی جاتی ہے…… پہلے ٹیکسوں کی صورت میں اور پھر بڑھتی ہوئی فیسوں کی صورت میں۔ یہ دوہرا بوجھ نہ صرف سرکاری اداروں کے مقصد کو مسخ کرتا ہے، بل کہ ضروری خدمات تک مساوی رسائی کے اُصول کو بھی کم زور کرتا ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ خود کو ایک ٹیکس دہندگان کے فنڈ سے چلنے والا ادارہ تسلیم کرتے ہوئے قومی سطح پر مثال قائم کرے، مناسب سرکاری معاونت کے لیے سرگرم وکالت کرے، طلبہ پر غیر منصفانہ مالی بوجھ ڈالنے والے اقدامات کی مزاحمت کرے اور عوامی وسائل کے شفاف اور اخلاقی استعمال کو یقینی بنائے۔ ہر اُستاد اور منتظم کو ایک بنیادی حقیقت ذہن نشین کرنی چاہیے: عوامی پیسا خیرات نہیں، بل کہ ریاست میں عوام کی سرمایہ کاری ہے، اور سرکاری ادارے وقار، انصاف اور ذمے داری کے ساتھ ان کی خدمت کے لیے قائم ہوتے ہیں۔ اس فہم کو اپناتے ہوئے پشاور یونیورسٹی اور دیگر سرکاری تعلیمی ادارے اپنی عوامی ذمے داری کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے قابلِ رسائی اور منصفانہ اعلا تعلیم کے عزم کی تجدید کر سکتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










