پاکستان میں ’’ذیابیطس میلٹس‘‘ (Diabetes Mellitus) کی صورتِ حال تشویش ناک، بل کہ ایک قومی صحت کی ہنگامی حالت اختیار کرچکی ہے ۔ پاکستان کا ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں تیسرا نمبر (چین اور بھارت کے بعد) ہے۔
’’انٹرنیشنل ڈائب ٹیز فیڈریشن‘‘ (IDF) کے 2021ء کے اٹلس کے مطابق، پاکستان میں تقریباً 33 ملین بالغ افراد (2079 افراد سالانہ) ذیابیطس کا شکار ہیں۔ یہ قومی سطح پر 26.7فی صد سے زائد کی شرح ہے، جو دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔گذشتہ دو دہائیوں میں اس شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2000ء میں یہ تقریباً 5 فی صد تھی۔ یہ خطرناک اضافہ تیز شہر کاری، غذائی تبدیلیوں اور سست طرزِ زندگی کی وجہ سے ہے۔
٭ بے تشخیص مریض:۔ محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان میں 50 فی صد سے زیادہ ذیابیطس (Diabetes Mellitus) کے مریض اپنی بیماری سے لاعلم ہیں، جس کے نتیجے میں علاج کی دیر ہونے پر شدید پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔
٭ پری ڈائب ٹیز (Pre-diabetes):۔ آبادی کا ایک اور بڑا حصہ ( تقریباً 20 فی صد سے زیادہ) ’’پری ڈائب ٹیز‘‘ کا شکار ہے، جو مستقبل میں ممکنہ مریضوں کا ایک وسیع ذخیرہ ثابت ہونے جا رہا ہے۔
اب آتے ہیں بنیادی وجوہات اور خطرے کے عوامل کی طرف:
1) جینیاتی حساسیت (Genetic Predisposition):۔ جنوبی ایشیائی باشندوں بہ شمول پاکستانیوں میں انسولین کی مزاحمت اور پیٹ کی چربی جمع ہونے کی جینیاتی حساسیت پائی جاتی ہے۔
2) غذائی تبدیلی (Diet Pattern Changed):۔ روایتی، ریشہ دار غذا سے پراسیسڈ فوڈ، میٹھے مشروبات، گھی/ تیل کا زیادہ استعمال، ری فائنڈ کاربوہائیڈریٹس (سفید ڈبل روٹی، چاول) اور فاسٹ فوڈ کی طرف بڑی تبدیلی ذیابیطس کی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔
3) شہرکاری اور سست طرزِ زندگی (Urbanization and Sedentary Lifestyle):۔ ڈیسک جابز، ورزش کی ثقافت کی کمی اور موٹر گاڑیوں کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے جسمانی سرگرمیوں میں کمی سے بھی ذیابیطس لاحق ہوسکتی ہے۔
4) موٹاپے کی وبا (Obesity):۔ موٹاپے اور پیٹ کی چربی (Central Obesity) کی بڑھتی ہوئی شرح، خاص طور پر خواتین اور بڑھتی ہوئی تعداد میں بچوں میں، ذیابیطس کی ایک بنیادی وجہ ہے۔
5) صحت خواندگی کی کمی (Lack of Health Education and Awareness):۔ ذیابیطس کے خطرے کے عوامل، علامات، احتیاط اور باقاعدہ معائنے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی کی وسیع پیمانے پر کمی بھی ذیابیطس کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ان تمام وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے شوگر یعنی "Diabetes Mellitus”کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں ذیل میں دی گئی دو اقسام بہت اہم ہیں:
Diabetes Mellitus Type-1
Diabetes Mellitus Type-2
٭ ٹائپ ون ذیابیطس میں "Pancreas” مستقل طور پر انسولین (Insulin)بنانا چھوڑ دیتا ہے، جس میں مریض کو ساری عمر انسولین ہی پر رکھا جاتا ہے۔
٭ ٹائپ ٹو میں مریض کا یا تو انسولین بننا کم ہو جاتا ہے یا خلیے (Cell) کی سطح پر رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔
باقی تین اقسام میں:
٭ حمل کے دوران میں شوگر کا ہو جانا۔
٭ جوانی کے ابتدائی دنوں میں شوگر کا شکار ہو جانا۔
٭ اپنے ہی مدافعتی نظام کا "Pancreas” پر حملہ آور ہو کر شوگر کا ہو جانا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایک چھٹی قسم بھی اس سال یعنی 2025ء میں شامل کر دی گئی ہے، جس کو خوراک (غذائی) کمی کا نام دیا گیا ہے۔
باقی شوگر کے مریض کو لاحق خطرات یا شوگر کی ابتدائی علامات اور شوگر کے مریضوں کے لیے غذائی ضروریات کے بارے میں (ان شاء اللہ) اگلے بلاگ میں بات ہوگی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










