کسی بھی معاشرے کے استحکام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے بوڑھے اور ریٹائرڈ طبقے کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتا ہے۔
سرکاری ملازم ریاست کی مشینری کا وہ خاموش پہیا ہے، جو اپنی زندگی کی تمام تر رعنائیاں، توانائیاں اور بہترین سال اس امید پر دفتر کی گرد اور فائل کے صفحات کی نذر کر دیتا ہے کہ جب اس کے بالوں میں چاندی اُتر آئے گی اور جسمانی قوا جواب دے جائیں گے، تو ریاست ایک شفیق باپ کی طرح اس کا ہاتھ تھامے گی…… لیکن افسوس کہ آج کے دور میں ’’پنشن اصلاحات‘‘ کی بازگشت نے ان بوڑھے ملازمین کے دلوں میں ایک ایسا خوف پیدا کر دیا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں سرکاری ملازمت کا انتخاب کرنے والا فرد اپنی زندگی کے آغاز میں ہی ایک بڑا معاشی سمجھوتا کرتا ہے۔ جب اس کے ہم عصر نجی شعبے، کارپوریٹ سیکٹر یا بیرونِ ملک جا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں اور بھاری بھرکم مراعات حاصل کرتے ہیں، تو ایک سرکاری ملازم محض اس ’’سماجی تحفظ‘‘ کی خاطر قلیل تنخواہ پر راضی ہو جاتا ہے، جو اسے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی پنشن کی صورت میں نظر آتی ہے۔ وہ اپنی پوری جوانی تنگ دستی اور سفید پوشی کے درمیان گزار دیتا ہے۔ اُس کے بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔ اخراجات بڑھ جاتے ہیں، مگر وہ اپنی قناعت کا دامن نہیں چھوڑتا۔ کیوں کہ اُسے یقین ہوتا ہے کہ اس کی یہ ’’سرمایہ کاری‘‘ بڑھاپے میں کام آئے گی۔
پنشن محض ایک رقم کا نام نہیں، بل کہ یہ اُس سماجی معاہدے کی بنیاد ہے، جو ریاست اور ملازم کے درمیان طے پاتا ہے۔ جب حکومت معاشی تنگی کا عذر پیش کر کے پنشن کے ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں لاتی ہے، جس سے ملازم کی بقا خطرے میں پڑ جائے، تو دراصل وہ اس معاہدے سے انحراف کر رہی ہوتی ہے۔ یہ کہنا کہ پنشن خزانے پر بوجھ ہے، اُن لاکھوں گھنٹوں کی توہین ہے، جو ایک ملازم نے تپتی دھوپ، سرد راتوں اور مشکل حالات میں اپنے فرائض کی ادائی میں گزارے۔ کیا ریاست اپنے ان سپاہیوں، استادوں اور کلرکوں کو بوجھ سمجھ سکتی ہے، جنھوں نے اپنی زندگی کے 30، 40 سال اس نظام کی آب یاری میں صرف کر دیے؟
جدید معاشی اصولوں کی آڑ میں بوڑھے ملازمین کے منھ سے نوالہ چھیننا کسی بھی طور انصاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مہنگائی کے اس دور میں، جہاں ادویہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور بنیادی ضروریاتِ زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، پنشن ہی وہ واحد سہارا ہے، جو ایک سبک دوش ملازم کو اپنے بچوں یا دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچاتا ہے۔ اگر ریاست اپنی ذمے داریوں سے ہاتھ کھینچ لے گی، تو معاشرے میں بے چینی اور عدم تحفظ کی وہ لہر اُٹھے گی، جو نئی نسل کو سرکاری ملازمت سے دور کر دے گی، جس کا بہ راہِ راست اثر ریاستی کارکردگی پر پڑے گا۔
ریاست کا تصور ایک ایسی چھتری کا ہے، جو کڑی دھوپ میں اپنے شہریوں کو سایہ فراہم کرے۔ جب ریاست خود ہی اس چھتری کو ہٹانے کی کوشش کرے، تو اسے ’’سیاسی مصلحت‘‘ تو کہا جاسکتا ہے، مگر ’’انسانی ہم دردی‘‘ ہرگز نہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ملازمین کو سڑکوں پر لانا اور انھیں احتجاج پر مجبور کرنا کسی بھی حکومت کے لیے نیک شگون نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنھوں نے خاموشی سے نظام چلایا ہے ، انھیں بے وقعت نہ کیا جائے۔ اصلاحات کا رُخ بڑے مراعات یافتہ طبقے کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ ان ریٹائرڈ ملازمین کی طرف جن کی کل کائنات یہی چند روپے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ظلم سے باز رہے اور یہ ثابت کرے کہ ریاست واقعی ایک باپ کی طرح اپنے کم زور شہریوں کی محافظ ہے، نہ کہ ایک بے حس آجر کی طرح جو کام لینے کے بعد اپنے بوڑھے کارکنوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










