دور آفات میں خطرے سے دوچار زبانیں

blogger Zubair Torwali

یہ سیشن دراصل ادب، ثقافت اور موسمیات کے موضوع پر منعقدہ دوسری قومی کانفرنس کا تیسرا پینل تھا، جس کا انعقاد یونیورسٹی آف سوات کے شعبۂ انگریزی نے کیا۔ کانفرنس 10 تا 12 دسمبر 2025ء تک جاری رہی۔
اس پینل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں کوئی باقاعدہ ناظم موجود نہیں تھا۔ تین مقررین: عصمت اللہ دمیلی، نصیر اللہ ناصر اور راقم (زبیر توروالی) نے شرکت کی۔ راقم نے سیشن کی نظامت بھی کی۔
راقم نے پینل کا آغاز اُردو میں ایک فکری نوٹ سے کیا، جس میں زبانوں کو لاحق خطرات کو موسمیاتی تبدیلی، ترقی اور بشر مرکزیت (Anthropocene) کے وسیع تر تناظر میں رکھا۔
راقم کا کہنا تھا کہ دنیا میں رائج غالب ترقیاتی ماڈل بنیادی طور پر بالادستی پر مبنی یا عمودی (Top Down) ہے، جو ریاستوں، کارپوریشنوں، ٹیکنوکریٹک اشرافیہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ذریعے تشکیل پاتا ہے اور مقامی آبادی کی محدود شمولیت کے ساتھ زمین اور معاشروں پر نافذ کیا جاتا ہے۔ اس ماڈل میں ترقی کو تکنیکی پیمانوں جیسے جی ڈی پی میں اضافہ، میگاواٹس کی پیداوار اور برآمدات کے حجم تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس نے کچھ حلقوں کو مادی فوائد دیے ہیں، مگر یہی ماڈل انتھروپوسین کے ظہور میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے…… یعنی ایسا دور جس میں صنعتی سرمایہ داری اور مرکزیت یافتہ حکم رانی کے تحت انسانی سرگرمی زمین کے موسمی اور ماحولیاتی نظام کو بنیادی طور پر بدل رہی ہے۔
اس موقع پر عالمی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے راقم نے ایک اہم تضاد کی نشان دہی کی۔ وہ یہ کہ آبائی اقوام دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 10 فی صد ہیں اور زمین کے صرف 20 فی صد رقبے پر آباد ہیں، مگر یہ علاقے کرۂ ارض کی تقریباً 80 فی صد باقی ماندہ حیاتیاتی تنوع کے حامل ہیں۔ یہ غیر متناسب نگہ داشت اتفاقیہ نہیں، بل کہ ہزاروں برسوں میں تشکیل پانے والے آبائی علم، زبانوں اور طرزِ حکم رانی کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس، بالادستی پر مبنی ترقی نے جنگلات کی کٹائی، دریاؤں کے بہاو میں تبدیلی، مسکنوں کی تقسیم اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو تیز کیا ہے، جس سے دنیا بھر میں ماحولیاتی نظام غیر مستحکم ہوئے ہیں۔ ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم جیسے پہاڑی خطوں میں یہ عمل گلیشیروں کے پگھلاو، دریائی نظام میں بگاڑ، سیلاب کے بڑھتے خطرات اور ماحولیاتی مضبوطی (Resilience) میں کمی کی صورت میں نمایاں ہے۔
راقم نے زور دیا کہ ماحولیاتی بگاڑ کو لسانی اور ثقافتی زوال سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ آبائی زبانیں موسم کے نمونوں، مٹی کے رویے، پانی کے انتظام، طبی پودوں، جانوروں کی نقل و حرکت، موسمی چکروں اور پائیدار زمین کے استعمال سے متعلق گہرے علم کو اپنے اندر سمیٹے ہوتی ہیں۔ جب ڈیموں، سڑکوں، استخراجی منصوبوں یا موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی نقلِ مکانی سے برادریاں بے دخل ہوتی ہیں، تو زبانیں کم زور پڑتی ہیں، بین النسلی ترسیل ٹوٹتی ہے اور ماحولیاتی علم ضائع ہو جاتا ہے۔ یوں حیاتیاتی تنوع اور لسانی تنوع دونوں ایک ساتھ زوال پذیر ہوتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اس بحران کو مزید شدید کرتی ہے، کیوں کہ روایتی معاشی ذرائع متاثر ہوتے ہیں اور لوگ شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں، جہاں غالب زبانیں مقامی زبانوں کی جگہ لے لیتی ہیں اور صدیوں پر محیط مقامی علم مٹنے لگتا ہے۔
راقمنے آکر میں یہ بھی کہا کہ پالیسی مباحث میں آبائی اقوام کو اب بھی کم زور آبادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ علم کے حاملین اور موسمیاتی عمل کے فعال کردار کے طور پر۔ تکنیکی حل جیسے کاربن مارکیٹس، گرین استخراج، بڑے ہائیڈرو پاؤر منصوبے اور انفراسٹرکچر پر مبنی موافقت اکثر انھی عدم مساوات کو دوبارہ پیدا کرتے ہیں، جنھوں نے بحران کو جنم دیا۔ موسمیاتی تبدیلی کا موثر حل حقوق پر مبنی، آبائی قیادت میں اور مقامی سطح پر تشکیل پانے والے طریقۂ کار کا تقاضا کرتا ہے، جس میں آبائی زمین کے حقوق کو تسلیم کیا جائے ، لسانی تنوع کی حفاظت کی جائے اور آبائی علم کو موسمیاتی موافقت و تخفیف کی حکمتِ عملیوں میں شامل کیا جائے۔
شمالی پاکستان کی طرف آتے ہوئے راقمنے بتایا کہ اس خطے میں تقریباً 35 زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے تیندمیلی، گورباتی اور توروالی اس پینل میں نمایندگی رکھتی تھیں۔ عصمت اللہ دمیلی نے اپنی زبان، اُس کو درپیش خطرات اور جاری احیائی کوششوں پر بات کی۔ اُنھوں نے نشان دہی کی کہ چترال میں دروش سے چند کلومیٹر شمال کی ایک تنگ پٹی میں بارہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ راقمنے ٹکڑا لگاتے ہوئے کہا کہ اس خطے کو جارج مورگن سٹرن نے قفقاز کے مماثل دنیا کے سب سے زیادہ کثیر لسانی علاقوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔
نصیر اللہ ناصر نے گورَباتی زبان کی تاریخ، اس کی کم زوریاں اور احیائی اقدامات بیان کیے۔ خاص طور پر یونیورسٹی آف اسٹاک ہوم کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے "Gawarbati Documentation Project” پر روشنی ڈالی۔
مذکورہ سیشن کا اختتام ایک متحرک سوال و جواب کے مرحلے پر ہوا۔ ایک سوال، ریاست کو ان خطرے سے دوچار زبانوں کی پروا کیوں کرنی چاہیے ؟ پر راقم (زبیر توروالی) نے جواب دیا اور کہا کہ ایسے سوالات عموماً اُن حلقوں سے آتے ہیں، جنھیں اپنی زبانوں کی بقا کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا اور اُنھوں نے اس سوچ کو پاکستان میں ایک واضح اکثریتی پنجابی مرکزیت کی مثال قرار دیا۔
ایک اور، بار بار اُٹھنے والا، سوال یہ تھا کہ آیا ان زبانوں کو بولیاں/ لہجے سمجھا جانا چاہیے؟ جس کے جواب میں پینل نے واضح کیا کہ یہ اپنی جگہ مکمل زبانیں ہیں۔ راقم نے مزید وضاحت کی کہ یہ مسئلہ محض لسانی نہیں، بل کہ سیاسی بھی ہے۔ لسانیات میں بولی/ لہجہ سے مراد کسی زبان کی مختلف صورتیں ہے، جیسے شمالی اور یوسف زئی پشتو یا گلگتی اور کوہستانی شینا…… مگر سیاسی طور پر لہجہ کا لفظ اکثر اقلیتی زبانوں کو کم تر، غیر مہذب یا ادارہ جاتی حمایت کے نااہل ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ برطانوی نوآبادیاتی دور میں ورنیکلر کی اصطلاح بھی اسی مقصد کے لیے برتی جاتی تھی۔ ایسے لیبلوں (Labels) کے گہرے سیاسی اثرات ہوتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں زبان شناخت، پہچان اور خود ارادیت سے جڑی ہو،جیسا کہ پنجابی، سرائیکی، ہندکو اور پوٹھوہاری کے مباحث میں دیکھا جا سکتا ہے۔
آخر میں راقم (زبیر توروالی) نے بتایا کہ وہ گذشتہ چھے برس سے جامعۂ سوات میں شمالی پاکستان کی زبانوں کے لیے ایک مستقل شعبہ قائم کرنے کی وکالت کر رہے ہیں، مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ سیشن نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ جامعۂ سوات میں اس نوعیت کا شعبہ قائم کیا جائے۔ کیوں کہ سوات جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے پورے شمالی پاکستان کا مرکز ہے اور خطے کی زبانوں کی تحقیق، دستاویز بندی اور احیا کے لیے موزوں ترین مقام بھی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے