تعارف اک خاندانی رئیس کا

Blogger Doctor Muhammad Tahir BostanKhel

دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مختلف ذہنیت کے لوگ پیدا کیے ہیں۔ انسانوں کی اعلا ظرفی، مال و جائیداد میں ظاہر نہیں ہو تی…… اور ہر انسان وہی بنتا ہے، جو وہ حقیقت میں ہو تا ہے۔
آج ایک ایسی شخصیت کی بات ہو رہی ہے، جنھوں نے امیر وغریب اور اعلا و ادنا سب میں اپنا وقار بنا یا ہے۔ یہ سب اُن کی وسعتِ اخلاق کا نتیجہ ہے۔ہر ایک کی بات سننا اور نہایت بے تکلفی سے بات کرنا کوئی اُن سے سیکھے۔اُن کا حجرہ، پبلک حجرہ ہے…… جہاں صبح سے شام تک لوگوں کا تانتا بندھارہتا ہے۔ کمر کی تکلیف کے باوجود وہ لوگوں کے ساتھ بیٹھے گھنٹوں گفت گو کرکے تھکنے کا نام نہیں لیتے۔اُن کی ذہانت، قابلیت اور وسعتِ نگاہ کا ایک عالم گواہ ہے۔خوش خط ہونے کے ساتھ اعلا قسم کے انشا پرداز بھی ہیں۔ استقلال میں آپ پہاڑ ہیں۔ آزاد خیالی کا اندازہ تو موصوف کی سچ بات کہنے یالکھنے سے بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے۔
بعض لوگ جنھیں اللہ نے غیر معمولی دماغی قوت عطا کی ہو اور جن کا علم و فضل بھی رتبے کو پہنچ گیا ہو، کبھی شہرت کو لات مار کرکیا کنج تنہائی کو غنیمت سمجھتے ہیں……؟ کبھی نہیں۔ یہی مثال شہزادہ شہر یار امیر زیب کی ہے، جو شاہی خاندان سے ہیں، مگر مجال کہ اُنھوں نے کبھی اس پر غرور کیا ہو، یا کبھی اُنھوں نے اپنے خاندانی وقار کے بارے میں ایک لفظ تک کہا ہو ۔ حالاں کہ ہم سب اس بات کے گواہ ہیں کہ شاہی خاندان نے سوات کو کہاں سے کہاں تک پہنچایا تھا۔ ایسا شخص تو میرے خیال میں کبھی ’’سیاسی‘‘ نہیں ہوسکتا۔اُن کے ساتھ کوئی بحث کریں، مگر وہ سب سمجھتے ہوئے بھی کسی سے مناظرہ نہیں کرتے۔
سب کی سن لیتے ہیں، لیکن اپنی کچھ کہتے نہیں
ہے کوئی بھیدی اور اُن کا رازداں سب سے الگ
گذشتہ دنوں اُن کے حجرہ واقع سیدو شریف میں ایک جلسے کے دوران میں اپنے مخالف کے بارے میں اُنھوں نے کسی بھی مقرر سے ناگوار بات سننا گوارا نہ کیا اور ایک جوشیلا مقرر، جو اُن کے مخالف سے متعلق باتیں کر رہا تھا، اپنی نشست سے اُٹھ کر خود دو بار اُن کا مائیک بند کیا۔ اپنی تقریر میں شہریار امیر زیب نے کہاکہ یہاں کوئی مقرر مخالف کے بارے میں گستاخانہ کلمات زبان سے ادا نہیں کرے گا، نہ کسی کی ساکھ پر بات ہی کرے گا،بل کہ اُلٹا اُسے (مخالف) بہتر نام سے پکارے گا۔
قارئین! مَیں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ اس دنیا میں کام یابی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اُنھیں شہزادہ شہریار امیر زیب کی مثال پیشِ نظر رکھنی چاہیے۔اُن کا لوگوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، اُن کے غمی و خوشی کے موقعوں پر اُن کے ساتھ شریک ہو نا دراصل اُن کی اعلا ظرفی،انسان دوستی اور حسنِ اخلاق کا نتیجہ ہے۔
مَیں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگ دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی قدر اُن کی حیات ہی میں کرنی چاہیے، نہ کہ بعد از موت۔ ایسے لوگوں کا ہونا ہمارے لیے باعثِ فخر ہو نا چاہیے۔ کیوں کہ ایسے لوگوں کے سہارے اور مدد سے قوم کو ایسی مدد ملتی ہے کہ وہ لاکھوں پربھاری ہو جاتی ہے۔ایسے لوگوں کا ہو نا ہمارے لیے نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں۔ دنیا میں کہیں خالص نیکی پائی جاتی ہے اور نہ خالص بدی۔ اسی طرح نہ انسان بے عیب ہوا ہے، نہ ہوگا…… مگر دیکھنا یہ ہے کہ جب کسی شخص میں ایسی خوبیاں موجود ہوں، جو عام طور پر دوسروں میں بہت کم پائی جاتی ہوں، تو ایسے شخص کا ہمارے درمیان ہو نا باعثِ فخر ہو نا چاہیے ۔
راقم کا شہریار امیر زیب کے ساتھ کچھ زیادہ عرصہ سے تعلق نہیں، تاہم آٹھ دس سالوں میں جن کے قریب رہا، بہت کچھ سیکھا اور ہر ملاقات میں نیا سیکھا۔
شاہی محل کے مسئلے کے حوالے سے میں یہاں بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ دنیا میں انسان کی زندگی میں اونچ نیچ آجاتا ہے، لیکن جو خاندانی لوگ ہوتے ہیں، وہ اس معاملے میں اپنا مزاج نرم رکھتے ہیں۔ شبینہ ادیب نے کیا خوب کہا ہے کہ
جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمھارا لہجہ بتا رہا ہے، تمھاری دولت نئی نئی ہے
اس حوالے سے اشارہ ہی کافی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے لوگ پیدا کیے ہیں، مگر شہریار جیسے لوگوں کوبہت کم پیداکیاہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ ہمارے معاشرے میں اُن جیسے لوگ پیدا کرے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے