رحلت ایک جفا کش کی……!

Blogger Fazal Maula Zahid Swat

آج کل ہم سوشل میڈیا سے کچھ فاصلے پر رہنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر بھی یہی کہتے ہیں اور میرا دایاں ہاتھ بھی، جس کا درد بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی بقا کے لیے اس غیر ضروری مصروفیت کو کم کرنا ہی بہتر ہے، مگر اسی احتیاط کی وجہ سے اکثر کسی اہم خبر تک بروقت رسائی نہیں ہوپاتی اور کئی واقعات ہمارے علم میں کافی دیر سے آتے ہیں۔
گذشتہ دنوں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ایک دوست کی اچانک کال نے نیند توڑ دی اور لمحے بھر میں دل پر بھاری بوجھ رکھ دیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ محمد رحیم خان ہمیں داغِ مفارقت دے گئے ہیں۔ چند لمحے کے لیے ذہن بالکل ساکت سا ہوگیا۔گویا کسی نے وقت کو روک دیا ہو۔ بعض لوگ محض جان پہچان والے نہیں رہتے؛ وہ اپنے کردار اور خلوص کے باعث دل میں ایسی جگہ بنا لیتے ہیں کہ اُن کے جانے کا دُکھ دیر تک محسوس ہوتا ہے۔
محمد رحیم خان بھی ایسے ہی انسان تھے…… خاموش خدمت گزار، اُصول پسند، کم گو، مگر بے حد محنتی۔ کارِ سرکار کی تقریباً چار دہائیوں پر مشتمل سفر میں بے شمار لوگوں سے واسطہ پڑا، مگر کچھ چہرے ایسے تھے جو صرف ساتھی نہیں رہے، بل کہ خاندان کی طرح سیدھا دل میں جابسے۔ محمد رحیم انھی نایاب لوگوں میں سے تھے۔
سرکاری نوکری کے اس پیچیدہ اور کٹھن سفر میں ہمیں بہت سے ساتھی ملے، لیکن کچھ شخصیات ایسی تھیں، جنھوں نے اپنے کردار، پیشہ ورانہ دیانت اور مسلسل جد و جہد سے دل پر دیرپا نقوش چھوڑے۔ زرعی تحقیق کے میدان میں محمد رحیم خان کی خدمات بے مثال ہیں۔ وہ ہر پلیٹ فارم پر اس شعبے کا مقدمہ غیر معمولی انداز میں پیش کرتے تھے۔ اُنھوں نے مختلف تحقیقی اسٹیشنوں کو انسٹیٹیوٹ کا درجہ دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں تحقیق کے معیار میں بہتری آئی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔
مرحوم کی پیشہ ورانہ مہارت محض انتظامی اُمور تک محدود نہیں تھی۔ اُنھوں نے مقامی مٹی، موسم اور جغرافیے کے مطابق فصلوں کی نئی اقسام کی جانچ اور بیماریوں کے کنٹرول کے مختلف ماڈل متعارف کرائے۔ تحقیقی اداروں میں آج بھی کئی رپورٹس اُن کے نام کے ساتھ بہ طورِ حوالہ موجود ہیں۔ اُنھیں ’’آئل سیڈ مین‘‘ کہا جاتا تھا۔ تیل دار اجناس کے فروغ میں ان کی کاوشیں آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔ پھلوں کے باغات، خصوصاً شفتالو کی پیداوار میں جو مثبت تبدیلیاں آئیں، وہ بڑی حد تک انھی کے وِژن اور منصوبہ بندی کا نتیجہ تھیں۔
مرحوم کی عملی سوچ کا انداز بہت منفرد تھا۔ کوئی نیا خیال ذہن میں آتے ہی اس پر فوراً کام شروع کر دیتے۔ صبح سویرے دفتر پہنچنا، کچھ دیر کے بعد فیلڈ میں کسانوں کے درمیان کھڑے مسائل سننا، فصلوں کا معائنہ کرنا اور پھر اپنے ہاتھ سے لکھے نوٹس کی بنیاد پر عملی تجاویز دینا، اُن کا روزانہ کا طریقۂ کار ہوتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ ہم شام ڈھلنے کے بعد تھکے ہوئے واپس لوٹتے، مگر وہ تب بھی کسی کھیت کے بیچ کھڑے کسان کے ساتھ حال احوال جاننے میں مصروف ہوتے۔ اُن کے نزدیک تحقیق محض کاغذی کارروائی نہیں، بل کہ مشاہدے اور تجربے کا مجموعہ تھی۔ مذکورہ خدمات کے طفیل اُن کو حکومت پاکستان نے تمغائے امتیاز سے نوازا تھا۔
مرحوم کے ساتھ ہماری رفاقت تقریباً 5 دہائیوں پر محیط رہی۔ وہ صوبائی تحقیقاتی محکمے کے سربراہ تھے اور مَیں وفاقی وزارتِ خوراک و زراعت کے ایک نسبتاً غیر معروف شعبے میں کام کرتا تھا، مگر اس فرق کے باوجود ہمارا تعلق بے حد گہرا تھا۔ اُنھوں نے سورج مکھی کی ایک معیاری ہائبرڈ قسم متعارف کرائی، جسے خصوصاً پنجاب میں نمایاں پذیرائی ملی، لیکن حکومتی ترجیحات میں تبدیلی اور ملٹی نیشنل اداروں کے مسابقتی دباو کے باعث اس پر وہ توجہ نہ دی جاسکی، جو دی جانی چاہیے تھی۔
محمد رحیم خان (مرحوم) کا تعلق سوات کے علاقے بریکوٹ کے قریب ناٹ میرہ سے تھا۔ اُصول پسندی، محنت، شرافت اور کم گوئی اُن کی شخصیت کا خاصا تھی۔ وہ فلک شگاف قہقہوں والے آدمی نہیں تھے۔ گفت گو ہمیشہ دھیمی آواز میں اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کرتے، لیکن مسکراہٹ اُن کا مستقل خاصا تھی، جسے اُن کے دوست آج بھی یاد کرتے ہیں۔ اُنھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کسانوں کے ساتھ گزارا۔ زمین اُنھیں کتاب کی طرح ازبر تھی…… اور کسان اُن کے استاد تھے۔ وہ اپنے جونیئرز سے کہا کرتے: ’’اگر زراعت میں کچھ سیکھنا ہو، تو کھیتوں میں جا کر سیکھو، دفتر کی کرسی پر بیٹھ کر نہیں۔ کاشت کار کے پاس بیٹھ کر اس کے طور طریقے دیکھو اور سیکھو!‘‘
افسوس صرف یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں باصلاحیت لوگوں کو وہ شناخت اُن کی زندگی میں نہیں مل پاتی، جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ اُن کی اصل قدر کا احساس اکثر اُن کے چلے جانے کے بعد ہوتا ہے۔ محمد رحیم خان جیسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ اُن کے جانے سے صرف ایک فرد نہیں جاتا، بل کہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک عملی مثال رخصت ہوجاتی ہے۔
گزارش یہ ہے کہ زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ اور ایلومینائی باہمی اشتراک کے ساتھ ایسی شخصیات کی یاد میں وقتاً فوقتاً ایک باوقار نشست کا اہتمام کرے۔ اس میں ختمِ قرآن ہو، رفقائے کار، مرحوم کے بارے میں بات کریں، خاندان کا کوئی فرد اظہارِ خیال کے لیے مدعو ہو اور اُن کی خدمات کو دستاویزی شکل میں نئی نسل کے سامنے رکھا جائے۔ اگر ادارے ان کے کنٹری بیوشن کو باضابطہ طور پر محفوظ بھی کریں، تو یہ عمل آنے والی نسل کے لیے راہ نمائی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایسی نشستیں مرحومین کے لیے خراجِ تحسین بھی ہوتی ہیں اور اداروں کے لیے سمتِ سفر بھی طے کرتی ہیں۔
محمد رحیم خان (مرحوم) ایک افسر نہیں، بل ایک جفاکش انسان تھے، جن کی یادیں ہماری زندگی کے ساتھ چلتی رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ، مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ہم سب پر اپنی رحمت نازل فرمائے، آمین!
جاتے جاتے اقبال عظیم کی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا، سرِ بزم رات یہ کیا ہوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی، مجھے رنج ہے، یہ برا ہوا
جو نظر بچا کے گزر گئے، مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے، مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سرِ راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا، نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے