کیا ہم بابا غوری کو بھول گئے؟

Blogger Hilal Danish

سوشل میڈیا کی اس تیزرفتار اور بے رحم دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں، جو صرف ایک شناخت نہیں رہتے، ایک عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے ڈیجیٹل محاذ پر نذیر احمد غوری المعروف بابا غوری بھی ایسا ہی ایک نام ہے، ایک ایسا چراغ، جس نے تنِ تنہا اندھیروں میں روشنی کی لکیر کھینچی…… مگر آج سوال یہ ہے کہ کیا ہم بابا غوری کو بھول گئے ہیں؟
اور اگر نہیں…… تو پھر وہ عرصۂ دراز سے سوشل میڈیا کے میدان سے غائب کیوں ہیں؟
یہ وہ دور تھا جب سوشل میڈیا پر فیک نیوز، بہتان تراشی اور پروپیگنڈے کا سیلاب اُمڈ رہا تھا اور جمعیت کا ڈیجیٹل محاذ منظم نہیں تھا۔ اُس وقت صرف چند گنے چنے لوگ تھے، جو مخالفین کی جھوٹی یلغار کے سامنے دلیل اور شایستگی کا ہتھیار لے کر کھڑے ہوئے۔ اُن چند ناموں میں اگر کوئی سب سے نمایاں تھا، تو وہ کوئی اور نہیں بابا غوری ہی تھے۔
وہ وقت یاد آتا ہے جب ہم کارکنان کسی الزام، کسی جھوٹ یا کسی بہتان کا جواب دینے سے قاصر ہو جاتے تھے۔ اکثر کش مہ کش ہوتی کہ کس لہجے میں کس طرح جواب لکھا جائے۔ ایسے میں ایک ہی راستہ ہوتا، بابا غوری کی وال پر جانا۔ وہاں دلیل بھی ملتی، حکمت بھی…… اور ادب کے ساتھ چٹکی بھری طنز بھی…… ایک ایسا امتزاج، جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہے۔
مَیں ذاتی طور پر کئی بار یہ خواہش دل میں دبائے بیٹھا رہا کہ کاش! میں بھی بابا غوری جیسا لکھ سکتا……! اُن کا اُسلوب، اُن کی تحقیق، اُن کا طرزِ بیاں…… سوشل میڈیا پر ایک مکمل اسکول تھا، اور ہے۔
بابا غوری نے اس محاذ پر جو کام کر دکھایا، وہ آج بھی مختلف پلیٹ فارمز پر زندہ ہے۔ اُن کی بنائی گئی ویڈیوز، اُن کے مدلل مضامین اور اُن کے جوابی بیانات آج بھی کئی ساتھیوں کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ ہیں۔ بڑے بڑے منظم ڈیجیٹل سیلز کے ہوتے ہوئے بھی وہ اثر اور وہ اعتماد آج بھی بہت کم لوگوں کو میسر ہے، جو کبھی ایک اکیلے بابا غوری کا تھا۔
اور پھر ایک دن یہ انکشاف ہوا کہ جس شخصیت کو ہم سوشل میڈیا کا مضبوط قلعہ سمجھتے ہیں، وہ لاہور میں محنت مزدوری کر کے رزقِ حلال کماتے ہیں۔ یہ جان کر اُن کی عزت اور مقام دل میں مزید بڑھ گیا۔ یہی لوگ اصل سرمایہ ہوتے ہیں،چپ چاپ، بغیر کسی نمود و نمایش کے اپنے حصے کی شمع جلانے والے لوگ۔
آج جب ڈیجیٹل میڈیا سیل باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے، جب ٹیمیں، ورکنگ گروپس اور منصوبہ بندی موجود ہے، تب بھی ہم اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ وہ مقام، وہ معیار اور وہ اثر انگیزی ہم میں سے کوئی نہ پا سکا جو کبھی بابا غوری اکیلے کر دکھاتا تھا۔
تو سوال پھر وہی ہے جو دل کو بے چین کرتا ہے کہ بابا غوری کہاں ہیں…… کیا وہ تھک گئے، یا ہم نے اُنھیں بھلا دیا؟
یا شاید وہ اس ہنگامہ خیز دنیا سے کچھ دیر کے لیے خاموشی کی پناہ میں چلے گئے ہیں۔وجہ جو بھی ہو، ہمیں اُن جیسے لوگوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ یہ وہ اثاثے ہیں، جنھوں نے تنہا لڑ کر پوری نسل کو ڈیجیٹل تربیت کا شعور دیا۔
گذشتہ ماہ سوات سوشل میڈیا کنونشن میں برادرِ محترم علامہ محمد صدیق صاحب نے اپنی پریزنٹیشن میں ایک نہایت اہم جملہ کہا: ’’سوشل میڈیا کا حافظہ بہت مختصر ہوتا ہے۔ اگر ہم مسلسل اس میں موجود رہیں گے، تو یاد رکھے جائیں گے، لیکن جیسے ہی ہم لکھنا، بولنا یا ویڈیو بنانا چھوڑ دیا، سوشل میڈیا بھی ہمیں بھول جائے گا۔‘‘
لیکن ہم اس جملے کے باوجود ایک بات پوری ذمے داری سے کہتے ہیں کہ ہم بابا غوری کو بھولنے نہیں دیں گے۔ وہ ہمارے محاذ کے پہلے سپاہی، ہمارے سوشل میڈیا کے معمار اور ہماری ڈیجیٹل تربیت کے استاد ہیں۔
اگر کبھی بابا غوری یہ سطور پڑھیں، تو جان لیں کہ میدان خالی نہیں، مگر ہجوم میں وہ ایک سپاہی آج بھی کم ہے،جو کبھی اکیلا لشکر تھا۔
ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں، بابا غوری……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے