29 اکتوبر 2025ء کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے بہت کچھ فرمایا ہے۔ اس طویل پریس کانفرنس اور سوالات و جوابات سیشن میں بہت سارے معاملات زیرِ بحث آئے، مگر ہم صرف اُن نِکات کو زیر بحث لائیں گے، جو خاص کر پاک افغان تعلقات کے حوالے سے تھے۔ کیوں کہ اُن جملوں میں سمجھنے کے لیے بہت کچھ پوشیدہ ہے…… اور اُن پوشیدہ سفارتی پیغامات کو سمجھانا لازم ہے۔ کیوں کہ اُن پیغامات سے جو اندیشے پیدا ہوئے ہیں، اُن کے اثرات پاکستان اور افغانستان دونوں کے عوام پر ہوں گے۔
قارئین! تو آئیے، پہلے اُن نِکات کا ذکر کرتے ہیں، پھر اُن کے اثرات پر بات کریں گے۔
جناب اسحاق ڈار نے فرمایا کہ’’پاکستان افغانستان کے اندر حملہ کرنے والا تھا، مگر قطر کی درخواست پر ایسا نہیں کیا گیا۔‘‘
مزید فرمایا کہ ’’افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد ہم نے چار ہزار افسران اور جوانوں سمیت بیس ہزار سے زائد جنازے اٹھائے ہیں۔‘‘
یہ بھی فرمایا کہ’’ہم افغانستان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار تھے، ہیں اور آیندہ بھی رہیں گے، لیکن اُن سے ایک ہی مطالبہ تھا اور ہے کہ اپنی سرزمین، پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔‘‘
پاکستانی وزیرِ خارجہ کیتین باتیں بہت اہم ہیں۔
٭ پہلی بات یہ کہ ’’ہم نے سرد جنگ میں نیٹو کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے کام کیا ہے اور اب نیٹو ہیڈکوارٹر میں نیٹو سربراہ اور یورپی یونین کو باور کرا چکے ہیں کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی سب کے لیے خطرہ ہے۔‘‘
٭ دوسری بات یہ کہ ’’ممکن ہے جلد ہی نیٹو اور مسلمان ممالک مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے، تو کیا بہتر نہیں کہ ہم آپس میں بیٹھ کر مسائل حل کرلیں؟‘‘
٭ تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ ’’ہمارے پاس قوت ہے۔ ہم افغانستان کے اندر مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں، مگر یہ اچھا نہیں لگتا کہ بھائی کے گھر گھس کر مارا جائے۔‘‘
قارئین! یہ سبھی وہ باتیں ہیں، جو میڈیا میں رپورٹ ہو چکی ہیں اور سب کچھ ریکارڈ پر موجود ہے۔
مگر میرے ناقص اور محدود علم کے مطابق، اگر صرف یہی کہانی ہوتی، تو پھر بھی کہا جاتا کہ چلو پاک افغان کے حالیہ کشیدہ تعلقات میں ایسی باتوں کا ہونا اَن ہونی نہیں۔ کیوں کہ دوسری طرف اگر آپ ’’افغان ٹاک شوز‘‘ اور میڈیا کا بہ غور مشاہدہ کریں، تو وہاں بھی پاکستان مخالف ’’میرا تھن ٹرانس مشن‘‘ والا ماحول بنا ہوا ہے۔ گویا افغانستان کے پڑوس میں پاکستان نہ ہوتا، تو آج امریکی خلائی ادارے ناسا کے سارے سائنس دان افغانی ہوتے اور گویا جاپانی اور چینی ماہرین افغانستان میں سیکھنے کے لیے تڑپ رہے ہوتے…… لیکن جیسا کہ کہا گیا، جنگی ماحول میں جذباتیت کا غلبہ ہوتا ہے اور معقولیت شکست کھا جاتی ہے۔ اس لیے ریاستیں عوامی حمایت کے حصول کے لیے بیانیے تشکیل دیتی رہتی ہیں، جن کے فروغ میں میڈیا کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔
لیکن اب بات صرف پاکستان اور افغانستان کی نہیں رہی…… درپردہ کچھ اور بھی ہوچکا ہے، جس سے لگ رہا ہے کہ ایک اور جنگ کی تیاری جاری ہے۔ مثلاً: سب کو معلوم ہے کہ امریکی صدر نے افغانستان میں واقع بگرام ایئر بیس کے حصول کی بات کی تھی، جسے افغانستان سمیت پاکستان، چین، روس، ہندوستان اور ایران سب نے بالواسطہ یا بلاواسطہ مسترد کر دیا تھا۔ بھلا کون چاہتا ہے کہ اپنے پڑوس میں ’’انکل سام‘‘ کو جگہ دے؟
مگر اِدھر پاکستان اور افغانستان میں ٹھن گئی اور اُدھر عالمی منظر تیزی سے بدلنا شروع ہوگیا۔ افغانستان نے ہندوستان کے ساتھ روابط بڑھانے کا عمل تیز کردیا۔ اُدھر یہاں سے بہت دور یعنی امریکہ میں ایک افغانی نے دو نیشنل گارڈز کو گولیاں مار دیں۔ اس عمل کو امریکی صدر نے ’’دہشت گردانہ عمل‘‘ قرار دیا…… اور اب مختلف غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا دعوا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں فضائی حملے کے لیے مقامات نشان زد کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ حملہ کرتا ہے یا نہیں، یہ فی الحال سرکاری طور پر واضح نہیں۔
اس تمام تر صورتِ حال میں ایک اور حیران کن واقعہ یہ ہوا کہ افغانستان کی سرزمین سے تاجکستان کے سرحدی علاقے پر ڈرون حملہ ہوا، جس میں تین چینی مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ ساتھ ہی کرغیزستان نے بھی اُن افغانیوں کو نکالنا شروع کیا ہے، جو نسلاً کرغیز نہیں، لیکن جعلی شناخت بنا کر کرغیزستان میں رہ رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ بھی معاملات اچھے نہیں۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی بھی بار آور ثابت نہیں ہوئی۔
قارئین، آئیں اب ان تمام کڑیوں کو ملاکر زنجیر مکمل کرتے ہیں۔ بیچ میں افغانستان، اطراف میں پاکستان، چین، تاجکستان، کرغیزستان اور ایران کے ساتھ بالترتیب تعلقات انتہائی کشیدہ، خاموش، کشیدہ اور ناخوش گوار۔ امریکی ممکنہ ردِعمل کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے، تو کیا یہ سب آثار واضح نہیں کرتے کہ ایک اور جنگ کا ممکنہ سامنا ہے افغانستان کو…… اور اگر ایسا ہوا، تو اس کا خطے پر کیا اثر ہوگا؟
ہماری طرف سے تو گزارش ہے کہ جنگوں نے تباہی کے علاوہ کسی کو کچھ نہیں دیا۔ جنگ نے صرف اسلحہ کے کارخانوں کو آباد رکھا یا عالمی طاقتوں کو فائدہ دیا۔ لہٰذا افغانستان کے حکم رانوں پر لازم ہے کہ تمام مسلح گروہوں کو اپنی زمین سے نکال باہر کریں اور دنیا کو کوئی ایسا موقع فراہم نہ کریں، جس سے جنگ کا جواز ہاتھ آئے۔
اپنوں سے بھی گزارش ہے کہ ’’پراکسیز‘‘ کے لیے افغانستان کے ساتھ بہ راہِ راست جنگ سے احتراز کیا جائے، بل کہ عالمی قانونی دباو کے ذریعے افغانستان کے حکمر رنوں کو قائل کیا جائے کہ اُن کی سرزمین پاکستان مخالف استعمال نہ ہو۔
بہ قولِ منیرؔ نیازی
آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










