قوم اور ہجوم میں فرق (تفصیلی جائزہ)

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کی اجتماعی بصیرت، فکری یک جہتی اور اجتماعی ذمے داری کے احساس میں پوشیدہ ہوتی ہے…… لیکن جب ایک قوم مسلسل سیاسی انتشار، بے یقینی، باہمی عدمِ اعتماد اور فکری انتشار کا شکار ہوجائے، تو وہ اپنی قومیت کے اس مضبوط رشتے سے بہ تدریج دور ہوتی جاتی ہے، جو اسے ایک منظم، شعوری اور باوقار اجتماعی وحدت بناتا ہے۔ ایسے حالات میں قوم رفتہ رفتہ قوم کی شکل کھو کر ہجوم میں تبدیل ہوجاتی ہے…… ایک ایسا ہجوم جو جذبات تو رکھتاہے، مگر حکمت، تدبر اور اجتماعی شعور سے محروم رہ جاتاہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں توپ و تفنگ سے شکست نہیں کھاتیں، بل کہ وہ اپنی داخلی کم زوریوں اور سیاسی انتشار کے باعث زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ کسی تہذیب کی بقا کا دار و مدار اس کے اجتماعی شعور، فکری ہم آہنگی اور قومی یک جہتی پر ہوتا ہے…… مگر جیسے ہی سیاسی انتشار اپنی جڑیں مضبوط کرنے لگتا ہے، قوم کی وہ بنیادیں ڈھیلی پڑنے لگتی ہیں، جن پر اس کی اجتماعی عمارت قائم ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قوم آہستہ آہستہ اپنا مجموعی شعور کھو کر ہجوم میں تبدیل ہونے لگتی ہے…… ایک ایسا ہجوم، جو سانحات پر تو طوفان اٹھاتا ہے، مگر حکمت کی روشنی سے محروم رہتا ہے۔
آج ہمارے اردگرد بھی یہی منظرنامہ پھیلا ہوا ہے۔ ہم سیاسی طور پر منتشر، فکری طور پر منقسم اور جذباتی طور پر مشتعل ہوچکے ہیں۔ ہم بہ ظاہر ایک قوم ہیں، مگر باطن میں کئی ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں۔ اس صورتِ حال کی تہہ تک جانا اور اس کے مضمرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیوں کہ قومیں اسی وقت اپنی سمت درست کرتی ہیں، جب وہ اپنے عیوب کا اعتراف کرتی ہیں۔
آئیے، ان سطور کے ذریعے سیاسی انتشار کے اسباب کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
دراصل سیاسی انتشار یکایک جنم نہیں لیتا۔ یہ برسوں کے غلط فیصلوں، کم زور پالیسیوں اور غیر ذمے دارانہ قیادت کے نتائج کا مجموعہ ہوتا ہے۔
٭ قیادت کا بحران (Leadership Crisis):۔ جب قیادت کا محور اُصولوں کے بہ جائے شخصیات، مفادات اور ذاتی ایجنڈے ہوجائیں، تو سیاسی ماحول انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں سیاسی جماعتیں معاشرے کو اتحاد نہیں دیتیں، بل کہ تقسیم کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
٭ اداروں کے درمیان کش مہ کش:۔ مضبوط قومیں، مضبوط اداروں پر کھڑی ہوتی ہیں…… مگر جب اداروں میں اعتماد کے بہ جائے طاقت کی کش مہ کش شروع ہوجائے، تو لوگ ریاستی ڈھانچے پر سے بھروسا کھو بیٹھتے ہیں۔ یہی بے اعتمادی آگے چل کر قومی انتشار کا ایندھن بنتی ہے۔
٭ معاشی بحران اور سماجی ناہم واری:۔ مہنگائی، بے روزگاری، اشیا کی قلت اور وسائل کی ناانصافی ، یہ سب مل کر عوام میں غم و غصہ پیدا کرتے ہیں۔ معاشی مسائل، سیاسی چپقلش کو مزید تقویت دیتے ہیں اور عوام بے چین ہو کر ردِ عمل پر اُتر آتے ہیں۔
٭ سوشل میڈیا کا غیر ذمے دارانہ کردار:۔ ہمارے دور کا سب سے بڑا ہتھیار اور سب سے بڑا زہر سوشل میڈیا ہے۔ جھوٹی خبروں، آدھی سچائیوں اور الزام تراشی نے ایسے انتشار کو جنم دیا ہے، جس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ ہجوم کو لمحوں میں مشتعل کر دیتا ہے، مگر اسے شعور نہیں دیتا۔ سیاسی اختلاف کوئی مسئلہ نہیں، مگر اختلاف کا مکالمے میں تبدیل نہ ہونا اصل مسئلہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں اختلاف کا مطلب دشمنی بن چکا ہے۔ جہاں مکالمہ ختم ہو جائے، وہاں نفرتیں جنم لیتی ہیں اور نفرتیں قوموں کو توڑتی ہیں۔
٭ قوم اور ہجوم میں فرق:۔ قوم اور ہجوم دونوں میں فرق یہ ہے کہ ایک قوم شعور رکھتی ہے، مقصد رکھتی ہے، سمت رکھتی ہے، جب کہ ہجوم صرف جذبات رکھتا ہے۔ قومیں سوچتی ہیں، ہجوم محسوس کرتا ہے۔ قومیں مستقبل کے لیے منصوبہ بناتی ہیں، ہجوم لمحاتی ردِ عمل دیتا ہے۔ قومیں دانش مند ہوتی ہیں، ہجوم مشتعل ہوتا ہے۔
در اصل سیاسی انتشار جب کسی قوم کے شعور کو انتہائی درجے کم زور کر دیتا ہے، تو وہ ہجوم کی سطح پر آ جاتی ہے۔ پھر اُس ہجوم کو کوئی بھی اشتعال دلانے والا لیڈر، کوئی سانحہ یا کوئی افواہ سڑکوں پر لے آتی ہے…… مگر اس ہجوم کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اُس نے جانا کہاں ہے، مانگا کیا ہے اور حاصل کیا کیا؟
٭ ہجوم کی سب سے بڑی کم زوری:۔ ہجوم سانحات پر طوفان اُٹھانے کی طاقت رکھتا ہے، مگر آگے بڑھنے کی صلاحیت بالکل نہیں رکھتا۔ ہجوم کی سب سے بڑی کم زوری یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف سانحات کے بعد جاگتا ہے۔ کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو، سیاسی گرفتاری ہو،کوئی معاشی دھچکا، کوئی عدالتی فیصلہ یا کوئی قومی سانحہ رونما ہو، تو ہجوم فوراً بھڑک اٹھتا ہے۔ چند روز تک فضا شور سے بھری رہتی ہے۔ نعرے، احتجاج، ٹرینڈز، تقاریر وغیرہ سب کچھ ہوتا ہے…… مگر جیسے ہی وقت گزرتا ہے، تو ہجوم دوبارہ خاموش ہو جاتا ہے۔
اس کے برخلاف باشعور قوم سانحے کو ایک نقطۂ آغاز بناتی ہے۔ وہ جذبات کے بعد احتساب، اصلاح اور منصوبہ بندی کرتی ہے…… مگر جب قوم ہجوم میں بدل جائے، تو اس کے پاس صرف شور رہ جاتا ہے، فکر نہیں۔
٭ ہجوم حکمت سے محروم کیوں ہوجاتا ہے؟:۔ جذبات کا شور جب ذہن پر حاوی ہو جائے، تو حکمت کی آواز دب جاتی ہے ۔ ہجوم کے پاس حکمت اس لیے نہیں ہوتی کہ یہ صبر کا دامن نہیں تھامتا، اسے طویل المدت منصوبہ بندی سے دل چسپی نہیں ہوتی، یہ غلط خبروں کے اثر میں فوراً آ جاتا ہے، یہ قیادت کے نعروں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، اس میں فکری قیادت اور دانش ورانہ راہ نمائی کی کمی ہوتی ہے۔ یوں ہجوم محض جذباتی ردِ عمل پر چلنے لگتا ہے اور یہی ردِ عمل سیاسی انتشار کو مزید گہرا کرتا ہے۔
٭ قوم دوبارہ کیسے بنتی ہے؟:۔ اگر کوئی معاشرہ دوبارہ قوم بننا چاہے، تو اسے اپنی فکری بنیادیں مضبوط کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے لیے چند ضروری اقدامات یہ ہیں:
1) سیاسی شعور کی تربیت از حد ضروری ہے۔
2) قوموں کو صرف ملکیت نہیں چاہیے، ذہن بھی چاہیے۔
3) افراد کو یہ سکھانا ہوگا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں ہوتا۔
4) قیادت کے بغیر قوم سمت نہیں پاتی۔
4) ایسی قیادت جو عوام کو جوڑنے والی ہو، توڑنے والی نہیں۔
5) اداروں کی مضبوطی، شفافیت اور قانون کی حکم رانی ہی قوم کو انتشار سے بچاتی ہے۔
6) ادارے شفاف ہوں گے، تو عوام کو یقین ہوگا کہ معاشرہ محفوظ ہے۔
7) اخلاقی اقدار کے بغیر قوم صرف جغرافیہ رہ جاتی ہے۔
8) سچائی، احترامِ انسانیت، برداشت اور امانت یہ وہ ستون ہیں، جو قوموں کو عظیم بناتے ہیں۔
9) مکالمے کی بہ حالی…… جب گفت گو ختم ہو، تو بندوق بولتی ہے۔ ہمیں مکالمہ زندہ رکھنا ہوگا، تبھی قوم ہجوم سے نکلے گی۔
یاد رکھیں، سیاسی انتشار صرف ایک مسئلہ نہیں ہوتا، یہ قوم کی فکر، اخلاق، تہذیب اور وحدت کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اور جب قوم اپنی اجتماعی عقل کھو بیٹھتی ہے، تو وہ ہجوم میں بدل جاتی ہے…… ایسا ہجوم، جو شور تو مچاتا ہے، مگر راستہ نہیں جانتا۔ آج ہمیں بہ حیثیتِ معاشرہ آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم واقعی قوم ہیں…… یا ہم ایک ایسا ہجوم بن چکے ہیں، جو صرف سانحات پر جذباتی طوفان اٹھاتا ہے؟ اگر ہم نے خود احتسابی نہ کی، تو تاریخ وہی فیصلہ کرے گی، جو اُس نے ہر منتشر قوم کے ساتھ کیا۔ اور اگر ہم نے فکری بیداری اختیار کرلی، تو یہی قوم دوبارہ اپنی اصل پہچان پاسکتی ہے۔ وہ پہچان جو شعور، تحمل، عدالت، حکمت اور اجتماعی خیر کے بغیر ممکن نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے