’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کی مزاحمت کا سفر

Blogger Zuabir Torwali

(یہ معروضات ’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کے زیرِ اہتمام 21 نومبر 2025ء کو بحرین میں منعقدہ جرگے میں پیش کیے گئے ہیں۔)
ہم ایک قوم ہیں۔ ہماری اپنی زمین، اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی تاریخ ہے۔ ہم خود کو دوسری قوموں سے الگ سمجھتے ہیں اور وہ بھی ہمیں خود سے الگ ہی سمجھتے ہیں۔ ہمارے اپنے رواجی قوانین ہیں۔ اپنی روایات ہیں اور اپنا دستور ہے۔ ہم اس دھرتی کے اصل اور قدیم باشندے ہیں۔ اس علاقے میں ہمارے آبا و اجداد سے پہلے کسی اور کے بسنے کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ ہم اپنی اس دھرتی کو ’’وطن‘‘ کہتے ہیں۔ اب بھی کراچی، حیدر آباد ، پنڈی اوردوسرے شہروں میں بسے ہوئے ہمارے لوگ جب اپنے آبائی علاقے کی بات کرتے ہیں، تو وہ اس کو وطن پکارتے ہیں، جیسے: ’’تُو وطن گے کے بیدُو۔‘‘، ’’وطنا کے واد۔‘‘ ہماری اپنی زمین سے وابستگی اور لگاو صدیوں سے ہے۔ ہمیں یہاں کے پہاڑوں، جنگلات، ندیوں، چراگاہوں/ بان، پہیموں/گلشیرز، گاوؤں، جھیلوں، چشموں درختوں سے محبت ہے اور ہماری ذات کا تصور ان کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اس وجہ سے ہمیں یہ طعنہ بھی دیا جاتا ہے: ’’نور خلک تن ساتی، کوہستانی وطن ساتی۔‘‘ ہمارے کسی شاعر نے کہا تھا:
مُھن وطن قیمتی اب و ہوا صفا
اُوتھل کھنا سی پُوشُوا سی خائست غلبہ
ہمارے وطن کا پانی، اس کی ہوا اور اس کا موسم ہی ہے، جس کی وجہ سے ہم زندہ ہیں اور ادھر سیاح آتے ہیں اور سیاحت ہماری معیشت کا اہم جز بن جاتی ہے۔
مُھن وطن سی دارُو تھی شیدل اُو و ہوا
کھأؤ دُھو وطنا خلگ یدی حسینا
ہماری زبان نے اس علاقے میں ہر کونے، ہر چٹان، ہر کھائی، ہر پہاڑی دھانے، راستوں، گزرگاہوں، چشموں، پہاڑوں، کھیتوں، نالوں اور چرا گاہوں کے اپنے نام رکھے ہیں۔ توروالی زبان کا تعلق گو کہ آریائی ہے، تاہم اس میں ماقبل آریہ اور پھر گندھارا کے اثرات بہ کثرت پائے جاتے ہیں۔ ہماری زبان کی شاعری ہماری دھرتی، جغرافیہ اور ہماری ثقافت کے استعاروں سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے ہاں رواجی دستور اَب بھی قائم ہے۔ ہم قدرتی وسائل خصوصاً جنگلات اور شاملات کو زیادہ تر ’’دھیمی‘‘ کے طریقے سے تقسیم کرتے ہیں اور جہاں یہ تقسیم ’’قبائلی دؤتری‘‘ ہے، جو وہاں بھی نچلی سطح پر ہر قبیلے میں دھیمی ہی رائج ہے۔ یہ منفرد رواج زیادہ تر ہمارے اس خطے میں پایا جاتا ہے اور قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے۔
ہمارے موسمیات میں اب بھی گورنال کے بہادر کاگا کا موسمی کلینڈر نمایاں ہے، جس کو اَب بھی کئی لوگ کاشت کاری اور زراعت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مقامی طور پر یہاں ہر گاؤں میں پانی کی تقسیم کااپنا روایتی نظام بھی موجود ہے، جس کی بڑی مثالیں ہر گاؤں جیسے کے پران گام اور بھیم گڑھی و بھونیم گڑھی میں جے یاب، گورنال، دیریل، توال، کمل اور مینیکھال غرض ہر گاؤں میں اَب بھی موجود ہیں۔
ہمیں دریا، پہاڑ، چشمے، گلیشیر، چراگاہ اور پہاڑی پھولوں سے بہت پیار ہوتاہے:مھی لالئی اُوتھل کھن سی اصلی مامیرا، آ چیمی ما تھا یی آمییدُو مھأما۔ پُوشُوا سی باغچا تھی، اُوچات کھنے دے ودان تُھو، شیدل اُو تھئی کھأرا می سے وطن مھی کوہستان تُھو۔
چوں کہ اپنا وطن اس حسن، قدرتی وسائل اور تنوع سے مالاما ل ہے، تو اس پر مختلف کمپنیوں، کارپوریشنوں، محکموں اور حکومتوں کی نظر ہے۔
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی
وادئی سوات کے دل بحرین کے بیچ دریا درال چھنگاڑتا ہوا گرتا تھا۔ گرمیوں میں پورے علاقے کو ٹھنڈا رکھتا تھا۔ جون اور جولائی کی گرمی میں درال پل پر کھڑا ہونا گویا بہشت کے کسی نہر کنارے کھڑا ہونا لگتا تھا۔ کم نہیں جلوہ گری میں، ترے کوچے سے بہشت
یہی نقشہ ولے اس قدر آباد نہیں
برفیلی پانی کی پھوارتن من کو ٹھنڈ پہنچاتی تھی۔ ہر فرد کی بچپن کی کہانی میں درال ضرور ہوتا تھا۔ آس پاس گھروں کے لیے ٹھنڈک مہیا کرتا تھا۔ یہاں گرمیوں میں بھی پنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ نے کی طرف پن چکیوں تک جانے والے نالے /کآن جنت کا نقشہ بنایا کرتے تھے۔ اسی کے کنارے ہمارے بچے تفریح کرتے، بڑے سینہ تان کر اس کے کنارے ٹہلتے اور کسی ’’گُوتُھور‘‘ پر خواتین پانی بھرتیں۔ اسی سے ہمارے کھیت ہرے بھرے تھے، کوچے نالے صاف اور خوش گوار تھے۔ ہم اس کے کنارے میٹھے چشموں کا پانی پیتے تھے۔ یہ دریا ہماری دیوی دارا کی نشانی تھا۔ بلندی سے آتا تھا، آبشاریں بناتا تھا۔ اردگرد پہاڑ تھے، تو اس لیے اس پر کمپنی کی نظر پڑگئی۔ ملک میں بجلی کی کمی کے بحران کا بہانہ بنایا گیا۔ کچھ لوگوں نے رپورٹ بناڈالی اور اس پر ترقی کے نام سے پن بجلی کا منصوبہ بنایا گیا۔ بجلی کتنی پیدا ہونی تھی، بس افسروں اور حکومتوں نے پیسا کمانا تھا۔ ہم اپنے اوپر ایک آفت کو آتے دیکھ رہے تھے۔ مزاحمت شروع کی گئی۔ اُس مزاحمت نے اس درال منصوبے کو پیسے دینے والے ایشیائی ترقیاتی بنک کو اس کے پیچھے سے ہٹادیا، تاہم حکومتِ وقت نے اپنے نوآبادیاتی باپوں (انگریزوں) کا فارمولا آزمایا۔ پرانے تنازعات کو ہوا دی گئی اور ہمیں قبائل میں تقسیم کرکے ان کے اندر پھوٹ ڈالی گئی۔ نیز وعدے کیے گئے، سبز باغ دِکھائے گئے، نوکریوں کا جھانسا دیا گیا اور اس بربادی کو ’’ترقی‘‘ کا نام دیا گیا۔
اب دریائے درال کنارے جون جولائی تو کیا اکتوبر اور نومبر میں بھی مچھر پلتے ہیں۔ درال پاؤر ہاؤس کو گرمیوں میں اپنی مرضی سے پانی چھوڑنا اور اپنی مرضی سے دریا کو خشک کرنا اور جب شونجی کے اندر سرنگ پانی سے بھر جاتا ہے، تو اپنی مرضی سے بغیر کسی اطلاع کے درال میں پانی چھوڑ دینا اس کمپنی کا شیوہ رہا۔ ہمارے بچے بیچ دریا پھنس جاتے، ان کی اس طرح موت کو ہمارے دلیر نوجوانوں، جنھوں نے درال کی وجہ سے تیراکی سیکھی تھی، نے بچالیا۔ افسوس کسی نے اس مسئلے پر سڑک بند کی نہ کوئی احتجاج ہی کیا۔
درال کی درد ناک کہانی ہمیں باربار بتاتی ہے کہ اپنے دریاؤں، جنگلات اور چراگاہوں کو بچائیں؛ قوم بنیں ، ایک بنیں اور سب کا سوچیں!
اب اُسی کمپنی بہادر کی نظر ہمارے بڑے دریا گھین نھید/ دریائے سوات اور ہمارے اس علاقے میں ہر ذیلی دریا پر پڑچکیہے۔ دریائے سوات پر تین بڑے منصوبوں کے ساتھ اس دریا کے شاخی دریاؤں اور نالوں پر کم از کم 15 اور منصوبوں کی ابتدائی نشان دہی ہوچکی ہے۔
ان 18 منصوبوں میں مدین اور کالام کے بیچ تین پراجیکٹس سب سے بڑے ہیں، جن کی کل اجتماعی پیداوار کا تخمینہ پیڈو اور اس کورئین کمپنی نے بالترتیب مدین 207، آسریت کیدام 229 اور کالام آسریت 239 لگایا ہے، یعنی 675 میگا واٹ لگایا ہے، جب کہ گبرال کالام 88 اور گورکین مٹلتان 84 میگا واٹ کا ہے۔ ذیلی منصوبوں میں درال پر دو اور منصوبے، کیدام، گورنئی اور مانکیال کے نالوں پر اور اسی طرح گبرال اتروڑ کی طرف منصوبے شامل ہیں۔
ان منصوبوں کو بہ ظاہر پیڈو اور دیگر پرائیویٹ کمپنیاں کر رہی ہیں، لیکن ان کے لیے بھاری رقوم بین الاقوامی مالیاتی سرمایہ دار اور سود خور اداروں ورلڈ بنک ، ایشائی ترقیاتی بنک اور ان سے منسلک ادارے دے رہی ہیں۔ دیگر منصوبوں میں مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کو پیڈو اور یہاں کی حکومت "Priority” یعنی ترجیحاتی پراجیکٹ کَہ رہے ہیں۔ اس پر اسی سال جنوری میں کام شروع کیا جانا تھا، لیکن ’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کی مزاحمت کی وجہ سے اب تک نہیں آغاز نہیں لیا جاسکا۔
جب جولائی 2023ء کو پیڈو اور صوبائی ماحولیاتی ادارے نے مدین ہوٹل میں مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ پر عوامی شنوائی (پبلک ہیئرینگ) کا انعقاد کیا، تو بحرین اور گرد و نواح سے کئی لوگوں نے زبردستی اس میں شرکت کرکے اس منصوبے کی مخالفت کی۔ کیوں کہ اُن کے مجموعی جسم پر درال پراجیکٹ کی صورت میں گہرا زخم موجود تھا اور اب بھی ہے۔ اس صوبائی ماحولیاتی ادارے نے اس کے باوجود پیڈو کو این اُو سی دیا۔ ایک سال کے بعد جولائی 2024ء میں مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ کے خلاف دریائے سوات بچاو تحریک کے نام سے منظم ہوکر مقامی لوگوں نے مزاحمت شروع کی، جو کہ ابھی تک پوری شدت سے جاری ہے۔ تحریک نے سوچا کہ سیدھا ان کمپنیوں کے باپ کو گلے سے پکڑا جائے۔ لہٰذا اگست 2024ء ہی سے ورلڈ بنک کو شکایات لکھی گئیں اور اس منصوبے پر نظرِ ثانی کا کہا گیا۔ ورلڈ بنک اور پیڈو نے اپنی غلطیوں کا اعتراف اگرچہ کرلیا ہے اور اب تک مدین منصوبے پر کام شروع نہیں کرسکے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ اب تک وہ پیچھے نہیں ہٹے اور نہ ہٹ چاہتے ہیں۔
گذشتہ 15 مہینوں میں ورلڈ بنک کے ساتھ ہماری سیکڑوں بار خط کتابت کے علاوہ پشاور، اسلام آباد اور آن لائن کئی اجلاس ہوچکے ہیں۔ ان میں سے چند اجلاسوں میں پیڈو بھی شامل رہا ہے۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ کی نگرانی اور بے بسی میں بھی ہمارے دسیوں اجلاس پیڈو اور اس انتظامیہ کے ساتھ ہوچکے ہیں۔ ساتھ ہم نے کئی دیگر بین الاقوامی اداروں کو بھی اس سلسلے میں آگاہ کیا ہے، حتی کہ اقوامِ متحدہ تک بھی گئے ہیں۔
مقامی باشندوں نے گاؤں گاؤں اس منصوبے کے خلاف جرگے کیے ہیں۔ 23 اگست 2024ء کو بحرین میں بڑا مظاہرہ کیا ہے۔ 22 ستمبر 2024ء کو ہمارے نوجوانوں نے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ مدین اور کالام میں جرگے کیے گئے ہیں۔ گورنر، چیف منسٹر، وزیر اعظم کو خطوط لکھے گئے ہیں۔ ہمارے بچوں نے بھی وزیرِ اعظم کو خطوط لکھے ہیں۔ مقامی نمایندوں سے مسلسل ملاقاتیں کی ہیں۔ میڈیا پر مہم چلائی ہے اور گھر گھر تک یہ آواز پہنچ چکی ہے۔ سوات اور اسلام آباد میں پریس کانفرنسیں کی ہیں۔ میڈیا میں کئی مضامین لکھے ہیں اور اب اس منصوبے اور ہماری مزاحمت کے بارے میں دنیا کے سارے بڑے اداروں کو خبر ہوچکی ہے اور آپ کی قوم کو ایک منفرد شناخت اور پہچان ملی ہے۔ کیوں کہ پورے شمالی پاکستان میں ایسی مزاحمت صرف یہاں سے ہورہی ہے۔ دریائے سوات بچاو تحریک نے ہائی کورٹ میں بھی ایک کیس اس منصوبے کے خلاف دائر کر رکھا ہے اور تین مزید مقدمے دائر کرنے کا ارادہ ہے۔ ورلڈ بنک نے ہمارے اصل باشندے (Indigenous) ہونے پر ایک تحقیق کی ہے، جس کی رپورٹ جلد آجائے گی اور یہ اس خطے، بل کہ پاکستان میں پہلی بار ہوگا۔ ورلڈ بنک کے ڈائیریکٹرز کے ساتھ اجلاس کیے ہیں اور اب ان ڈائریکٹرز اور ورلڈ بنک کے پیچھے سرمایہ کاروں کے ساتھ اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟
ہمارا بہ راہِ راست واسطہ ورلڈ بنک سے ہے۔ وہ خود پیچھے ہٹنا چاہتا ہے اور ہمارے آگے اس سرکاری کمپنی پیڈو اور افسر شاہی کو لاتا ہے۔ ہم اس کمپنی سے کہتے ہیں کہ یہ بیچ میں سے ہٹ جائے اور ورلڈ بنک کو سامنے لائے، تاکہ ہم ان سے ان کے قوانین کے مطابق پوچھ گچھ کرسکیں۔
ہم برملا کہتے آئے ہیں اور آج آپ کی وساطت سے مزید طاقت سے مزید اونچی آواز میں یک زباں ہو کر کہتے ہیں کہ ہم کسی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرسکتے، جو ہماری زندگی، زمین، زبان اور ثقافت کے حق کی خلاف ورزی کرے۔ یہ وہ حقوق ہیں، جو ہمیں پاکستان کے آئین اور اقوامِ متحدہ کے اعلانِ حقوقِ مقامی اقوام (UNDRIP) کے تحت حاصل ہیں۔ مدین ہائیڈرو پاؤر منصوبہ، جو ہمارے آزاد، پیشگی اور باخبر رضامندی (FPIC) کے بغیر بنایا جا رہا ہے، ترقی نہیں، بل کہ ہماری بے دخلی اور بے اختیاری کا باعث بنے گا۔ یہ ہمارے دریا کے ماحولیاتی نظام کو بگاڑ دے گا، ہماری روزی روٹی متاثر کرے گا اور ہماری آبائی برادری کو مزید پستی میں دھکیل دے گا۔
لہٰذا ہم اعلان کرتے ہیں:
1) ہم توروالی لوگ اس علاقے کے اصل باشندے ہیں۔ ہمارا وجود اس خطے میں ریاستِ پاکستان اور ریاستِ سوات سے پہلے کا ہے۔ ہماری زمین، جنگلات اور پانی پر حق تاریخی، اخلاقی اور اجتماعی ہے۔ کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ ہمیں اصل فریق اور حق دار کے طور پر تسلیم کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
2) بغیر ہماری حقیقی اور باخبر رضا مندی (FPIC) کے کوئی منصوبہ منظور نہیں کیا جائے گا۔ کوئی بھی مشاورت رسمی یا جلدبازی میں نہیں ہونی چاہیے۔ یہ عمل ہمارے گاؤں میں، ہماری زبان میں اور مکمل معلومات کے ساتھ ہونا چاہیے۔
3) ترقی کا مطلب تباہی نہیں ہونا چاہیے۔ اصل ترقی وہ ہے، جو انسانوں کو فائدہ دے، ماحول کا تحفظ کرے اور مقامی لوگوں اور ثقافت کو مضبوط بنائے۔ وہ منصوبے جو کمپنیوں کو امیر اور مقامی لوگوں کو غریب بناتے ہیں، ناحق اور نا پائیدار ہیں۔
4) پاکستان کی حکومت اور عالمی ادارے جیسے ورلڈ بینک اپنے ماحولیاتی اور مقامی اقوام کے حقوق سے متعلق وعدوں پر عمل کریں۔ ان سے انحراف اعتماد کے ٹوٹنے اور نوآبادیاتی طرزِ عمل کے تسلسل کے مترادف ہوگا۔
5) دریائے سوات بچاو تحریک بالائی سوات کے لوگوں، خصوصاً توروالی برادری، کی اجتماعی آواز ہے۔ ہم تمام اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس تحریک سے سنجیدگی اور احترام کے ساتھ بات کریں۔
6) ہم ایک متبادل ترقی کے ماڈل کے حامی ہیں، جو فطری ذمے داری، عوامی شمولیت، ثقافتی تسلسل اور انصاف پر مبنی ہو۔ ہائیڈرو پاؤر منصوبوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، گلیشیرز کی نزاکت اور مقامی پائیدار روایات کے تناظر میں یہ ضروری ہے۔
7) ورلڈ بنک اپنی ذمے داریوں سے پہلوتہی نہ کرے اور کھل کر شفاف طریقے سے مقامی توروالی آبادی سے مشاورت کرے۔
8) مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ ہمیں اس کے موجودہ صورت میں ہر گز منظور نہیں۔
آخر میں، ہم اعلان کرتے ہیں کہ دریا کوئی استحصالی وسیلہ نہیں،یہ ہمارا رشتہ دار ہے ، یہ ایک مقدس امانت ہے۔
آخر میں ہم اعلان کرتے ہیں کہ دریا کوئی شے نہیں، جسے استعمال کیا جائے، بل کہ یہ ایک تاریخی رشتہ ہے، ایک ورثہ ہے، جس کا احترام ضروری ہے۔ اس کے تحفظ کا عہد ہمارے لیے صرف ثقافتی نہیں، بل کہ اخلاقی، ماحولیاتی اور روحانی فرض بھی ہے۔
ہم اپنے حقوق کے اعتراف، انصاف کی فراہمی اور دریا کی آزادی تک پُرامن جد و جہد جاری رکھیں گے ۔
اپنے بزرگوں، نوجوانوں اور بچوں کے ساتھ آج کے اس جرگے / یرک کا مقصد یہی ہے کہ آپ کو ان سب باتوں سے کسی حدتک آگاہ کیا جاسکے اور آپ کی مدد سے آگے کا لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔ ہم نے گذشتہ 15 مہینوں سے اس منصوبے کو روکا ہوا ہے۔ ہم بین الاقوامی فورمز پر آپ کی دعاؤں کی مدد سے لڑ سکیں گے اور یہاں اس دھرتی پر بھی آپ کے عملی اور متحرک تعاون سے ایسے ہاتھوں کو روک سکیں گے، جو ہماری شناخت، زمین اور ماحول کا گلہ دبوچ لے اور نتیجتاً ہمیں اور ہماری نئی نسلوں کو تباہ کردے۔
ہم اپنے ان سارے بزرگوں کو ان باتوں سے آگاہ کرنا چاہتے تھے اور ان سے تعاون کی درخواست بھی کہ بہ وقتِ ضرورت آپ ہمیں اور اپنے نوجوانوں کو حکم دے سکیں کہ کہاں، کب کیسے اور کس کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔ ہم حتی المقدور پُرامن جد و جہد جاری رکھیں گے جو کہ ہمارا حق ہے۔ ہم اگر کسی اور محاذ پر موجود ہوں، تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ نہ صرف آپ کی اور ہماری ماؤں کی دعائیں شامل ہوں، بل کہ آپ پکا پورا متحرک تعاون بھی شامل ہو۔ چاہے ہم مقامی طور پر احتجاج کریں یا ہمیں کسی کو ہماری مرضی کے خلاف اس علاقے میں ایسے مہلک منصوبوں پر کام کرنے سے روکنا ہو، ہمیں اپنے لوگوں کا سرگرم تعاون درکار ہوگا۔ ہم جد و جہد جاری رکھیں گے۔ اپنی ساری توانائی اس جد و جہد کو دیں گے۔ کیوں کہ ہمارا احساس بہ قول علامہ اقبال ہمیں اُکساتا بھی ہے اور رولاتا بھی ہے کہ
میرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں
تیري چٹانوں میں ہے میرے اب و جد کی خاک
تیرے خم و پیچ میں میری بہشتِ بریں
خاک تری عنبریں ، آب ترا تاب ناک
والسلام!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے