بے رنگ لمحوں میں رنگ بھرنے والی مسیحا

Blogger Sami Khan Torwali


ہمارا خیال یہ تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر کسی اچھے سے ’’نفرالوجسٹ‘‘ (Nephrologist) سے چیک اَپ کروائیں گے، رپورٹس دکھا کر دوائیں لے لیں گے اور شاید چند دن کے قیام کے بعد واپس لوٹ جائیں گے…… مگر انسان کی سوچ ہمیشہ مختصر ہوتی ہے، جب کہ زندگی کے منصوبے وسیع۔ گاؤں سے نکلتے ہوئے ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سفر چند دنوں کا نہیں، بل کہ کئی آزمایشوں، پریشانیوں اور چند ایسے روشن لمحات کا سفر بن جائے گا، جنھیں زندگی بھر بھولنا ممکن نہیں۔
ہماری پہلی کوشش ڈاکٹر زاہد نبی صاحب کی طرف رہی۔ اُمید تھی کہ وہ چند لمحوں میں چیک اَپ کر کے ادویہلکھ دیں گے، مگر جب اُنھوں نے رپورٹس دیکھیں، تو فوراً کہا کہ مریض کو ’’کے آر ایل ہاسپٹل‘‘ میں داخل کریں۔ کے آر ایل اپنی جگہ ایک بہترین ادارہ ہے، مگر نجی ہونے کی وجہ سے اس کے اخراجات ہمارے لیے شدید بوجھ تھے۔ چند ڈاکٹر دوستوں سے مشورہ کیا، تو سب نے ’’پمز‘‘ جانے کا مشورہ دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ہم نے فیصلہ کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں، اب ’’پمز‘‘ ہی جائیں گے۔
اسلام آباد جیسے شہر میں جہاں ہر دوسرا شخص اپنے مسائل میں گم ہے، وہاں ایک مریض کو اُو پی ڈی میں دھکیل دینا معمولی بات ہے…… مگر ہمارے پاس نہ کوئی تعلق تھا، نہ سفارش، نہ اثرورسوخ۔ بس اللہ پر بھروسا تھا اور دل میں وہ بے بسی جو ہر مریض کے لواحقین اپنے ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں۔
پمز پہنچتے ہی ایک مہربان دوست، جو پہلے سے ہمارے انتظار میں تھا، نے ہمارا حوصلہ بڑھایا۔ جیسے ہی چھوٹے بھائی کا معائنہ ہوا، اُو پی ڈی کے ڈاکٹر نے تقریباً فوراً ہی وارڈ میں داخلے کا حکم دے دیا۔ ہم وارڈ میں پہنچے، تو ایسا محسوس ہوا جیسے ہم کسی ایسے نظام کے سامنے کھڑے ہیں، جہاں مریض ایک جذبات رکھنے والا انسان نہیں، صرف ایک فائل بن جاتا ہے۔ نہ کوئی راہ نمائی، نہ کوئی تسلی، نہ کوئی وضاحت…… وارڈ میں داخل ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی ہمارے دل میں شدید خواہش پیدا ہونے لگی کہ واپس نجی ہسپتال چلے جائیں۔ کیوں کہ یہاں ہر طرف بے حسی، بدانتظامی اور بے رُخی کی ایک فضا چھائی ہوئی تھی۔ ایسے میں ایک نرس نے آکر کہا کہ ’’کانفرنس روم میں ڈاکٹر فریال حسین بیٹھی ہیں، آپ فائل دکھا دیں۔‘‘
یہ جملہ سننے میں جتنا معمولی تھا، حقیقت میں اُتنا ہی فیصلہ کن لمحہ تھا۔ ہم کانفرنس روم کی طرف بڑھے۔ دروازہ کھولا، تو سامنے ایک باوقار، پُرسکون اور ملن سار شخصیت بیٹھی تھیں، جو ڈاکٹر فریال حسین کے نام سے جانی جاتی ہیں اور سوات کی رہایشی ہیں۔ اُن کے چہرے کی نرمی اور انداز کی متانت نے پہلی ہی نظر میں ہمارے دل میں ایک سکون اُتار دیا۔
سلام دعا ہوئی، فائل پیش کی گئی۔ اُنھوں نے فوراً فائل اُٹھائی، پڑھنے کے بعد کھڑی ہوئیں اور ہمارے ساتھ وارڈ تک آگئیں۔ بغیر کسی تکلف، بغیر کسی فاصلے کے، وہ ایسے مریض کے پاس پہنچیں، جیسے کوئی بہن اپنے بھائی کے پاس بیٹھتی ہے۔ اُنھوں نے مریض کو بہ غور دیکھا، پھر نہایت نرمی سے فرمایا: ’’آپ میرے اپنے لوگ ہیں۔ جب تک مَیں یہاں ہوں، آپ کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘
یہ جملہ ہماری ساری تھکن، ہماری بے بسی، ہمارے خوف اور ہماری بے چینی کے گھپ اندھیرے میں اُمید کی پہلی کرن تھا۔ یہ ایک ڈاکٹر کا جملہ نہیں تھا،یہ ایک انسان کا تعلق تھا۔
پمز جیسے ہسپتال میں جہاں ہزاروں مریض روزانہ داخل ہوتے ہیں، نہ کسی کو وقت ملتا ہے، نہ تسلی، نہ تسلسل…… وہاں ایک ٹرینی ڈاکٹر کا اتنی محبت، خلوص اور توجہ سے کسی مریض کی ذمے داری سنبھال لینا معمولی بات نہیں…… مگر اگلے دنوں نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر فریال حسین نے جو کہا، وہ رسمی جملہ نہیں تھا،وہ حقیقت تھی۔
ہمیں ہسپتال میں 13 دن ہوچکے تھے…… مگر اُن 13دنوں میں ڈاکٹر فریال حسین کی مہربانی، اُن کی توجہ، اُن کا خلوص، اُن کی محنت اور اُن کا اخلاق ہر چیز اس بات کا اعلان کرتی رہی کہ اگر ایک ڈاکٹر چاہے، تو وہ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کی مینار بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر فریال حسین کی روزانہ ڈیوٹی اُو پی ڈی میں تھی۔ صبح سے دوپہر تک مسلسل مریضوں کی لائنیں، سینئرز کا دباؤ، ٹریننگ کا بوجھ، بھاری ذمے داریاں…… مگر اس کے باوجود وہ روزانہ ہمارے وارڈ میں آتیں۔ کبھی مریض کا ہاتھ پکڑ کر اُسے حوصلہ دیتیں، کبھی ہماری اُلجھنیں حل کرتیں، کبھی رپورٹس سمجھاتیں اور کبھی علاج کے اگلے مرحلے کی وضاحت کرتیں۔ اس دوران میں کئی ٹیسٹ ایسے تھے، جو وارڈ میں ممکن نہیں تھے۔ عام طور پر ایسے میں ڈاکٹر لکھ کر پکڑا دیتے ہیں اور تیمارداروں کو خود بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے…… مگر ڈاکٹر فریال حسین نے خود لیب سے بات کی، ریٹ مناسب کروائے اور ٹیسٹ بروقت کروائے۔ اُنھوں نے کبھی ہمیں سرکاری ہسپتال کا وہ سخت رویہ محسوس نہیں ہونے دیا، جو عام طور پر تیمارداروں کا مقدر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر فریال کا ہر جملہ، ہر ہدایت اور ہر حرکت اس بات کا بین ثبوت تھی کہ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت ڈاکٹر ہیں، بل کہ اعلا انسان بھی ہیں۔ وہ پمز میں’’پی جی ایف سی پی ایس‘‘ (پارٹ ٹو) کی ٹریننگ کر رہی تھیں،ایک ایسا مرحلہ جہاں ہر لمحہ سیکھنے، سمجھنے اور محنت کرنے میں گزرتا ہے…… لیکن اس محنت کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے ہمارے مریض کے لیے جو ذمے داری اور توجہ دکھائی، وہ ہمارے لیے حیرت اور تحسین کا باعث بنی رہی۔
ہمارے معاشرے میں سرکاری ہسپتالوں کے بارے میں عمومی تاثر بہت منفی ہے۔ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ یہاں مریض کی عزت نہیں، اُسے وقت نہیں ملتا اور ڈاکٹر بے رخی کا شکار ہوتے ہیں…… مگر یہی ہسپتال، یہی ماحول، یہی نظام جب ڈاکٹر فریال حسین جیسے لوگوں سے روشن ہوتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اُمید ابھی زندہ ہے۔ اور جب ایک فرد اپنی نیت صاف رکھے، فرض کو عبادت سمجھے اور دل میں انسانیت کا چراغ روشن رکھے، تو وہ پورے ماحول کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
ڈاکٹر فریال حسین ہر ملاقات میں یہی کہتیں۔ آپ میرے علاقے کے ہیں، میرا فرض ہے کہ آپ کے لیے آسانی پیدا کروں۔
لیکن اُن کی اصل خوبی یہ تھی کہ اُنھوں نے صرف دعویٰ نہیں، بل کہ اس پر عمل کرکے دکھایا بھی۔ اسی لیے ہمارے دل میں اُن کے لیے احترام بھی ہے، محبت بھی اور بے حساب دعائیں بھی۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ڈاکٹر فریال کے علم میں اضافہ فرمائے، اُن کی محنت کو قبول فرمائے، اُن کے مستقبل کو روشن کرے اور اُنھیں ہمیشہ اسی طرح دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے رکھے۔ اللہ ہر مریض کو ایسے مسیحا عطا فرمائے، ہر وارڈ میں ایسے چراغ ہوں اور ہر آزمایش میں ایسے انسان ملیں، جو حوصلہ دیں، محبت دیں اور انسانیت کو زندہ رکھیں۔
یہ تحریر صرف ایک مسیحا کے خدمات کے اعتراف میں نہیں لکھی گئی، بل کہ یہ ایک گواہی ہے کہ اگر دل میں نرمی ہو اور نیت صاف ہو، تو صرف ایک فرد بھی نظام کی جھول کو بڑی حد تک کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے