(نوٹ:۔ یہ تحریر دراصل "The Atlantic” جیسے موقر نشریاتی ادارے کے سوشل میڈیا صفحہ پر "Jan Buchczik” کے ایک مختصر مگر فکر انگیز تبصرے کا ترجمہ ہے۔)
روسی ادیب ’’فیودور دوستوئیفسکی‘‘ (Fyodor Dostoyevsky) ایک بے چین روح والی شخصیت تھے۔ وہ کسی بھی بات کو حرفِ آخر نہیں مانتے تھے اور ہر چیز کو باقاعدہ طور پر پرکھا کرتے تھے، حتیٰ کہ اپنے عقیدے کو بھی۔ ’’آرتھر سی بروکس‘‘ (Arthur C. Brooks) اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’تاہم اسی داخلی بے چینی نے اُنھیں زندگی کا ایک ایسا نقشہ عطا کیا، جو آسایش اور لطف کے بہ جائے معنی اور معنویت کے گرد گھومتا ہے۔‘‘
اگر آپ کبھی خود میں اجنبیت سی محسوس کرتے ہیں، یا آپ دنیا سے تال میل نہیں کھاتے، تو’’بروکس‘‘ کے بہ قول ’’ہوسکتا ہے کہ آپ میں بھی فیودور کا ایک حصہ بستا ہو۔‘‘
دوستوئیفسکی کی فکر کی ایک ہلکی سی جھلک، خواہ وہ قدرے رومانوی اور چیلنجنگ ہی کیوں نہ ہو، آپ کے لیے اندرونی سکون کا در کھولنے کی کنجی ثابت ہوسکتی ہے۔
اور جیسا کہ بروکس بتاتے ہیں، ’’دوستوئیفسکی کی تحریروں جیسے ’دی اِڈیٹ‘، ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ اور ’دی برادرز کارامازوف‘ کے مستقل موضوعات دراصل ایسی اُصولوں کی صورت سامنے آتے ہیں، جو ایک بامعنی زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔‘‘
’’بروکس‘‘ کے مطابق وہ اُصول یہ ہیں:
1) سفر ہی منزل ہے۔
2) زندہ رہنے کا مطلب آزادی کو گلے لگانا ہے۔
3) شیشے کے محل سے بچ کر رہو۔
4) درد ہی اصل نکتے کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔
5) سر اُٹھا کر دیکھو۔
دوستوئیفسکی کا ماننا تھا کہ دردخواہ وہ وجود کے لیے کرب ہی کیوں نہ ہو، زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بروکس لکھتے ہیں، ’’ایسا دُکھ وہ ناگزیر قیمت ہے، جو ہمیں اُس حقیقت تک پہنچنے کے لیے ادا کرنا پڑتی ہے، جس کی ہم سب کھوج میں رہتے ہیں…… یعنی محبت۔‘‘
روزمرہ زندگی کے تجربات کے حوالے سے دوستوئیفسکی کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں انسانی وجود کے ماورائی پہلو سے خود کو ہم آہنگ کرنا چاہیے۔‘‘ کیوں کہ اسی صورت میں ہم اپنی اصل خواہشات کا سراغ پا سکتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو دوستوئیفسکی کی مانند ایک طوفانی روح رکھتے ہیں، اگر اس راستے کو اختیار کرلیں، تو دنیا اُن کے لیے کہیں زیادہ وسیع اور قابلِ دریافت ہو سکتی ہے۔
بروکس، دوستوئیفسکی کے مذکورہ اُصولوں کی مزید وضاحت کرتے ہیں، جنھوں نے اُنھیں اور شاید آپ کو بھی اُن اصولوں کو گلے لگانے میں مدد دی۔










