26 نومبر 2025ء کو لفظونہ ڈاٹ کام پر میری تحریر ’’ریاست سوات دور کا مسیحا، ڈاکٹر محمد خان‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جس کا ایک حصہ ویب سائٹ لنک کے ساتھ برخوردار امجد علی سحاب نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ سرِ دست مذکورہ حصہ ملاحظہ ہو: ’’ڈاکٹر محمد خان دراصل سیدو ہسپتال میں ڈاکٹرنجیب اللہ کے ماتحت فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ یہ 1960ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے ، غالباً 1963ء…… مَیں چکیسر میں تھا۔ ایک دن مجھے بابا کا فون آیا کہ فوراً گھر پہنچو۔ مَیں بھاگم بھاگ گھر پہنچا۔ پتا چلا کہ میرا چھوٹا بھائی عبداللطیف چلتی بس کے پیچھے لٹک رہا تھا، جو گرلز سکول کی بس تھی۔ بس کی رفتار کم ہوئی تویہ خوف زدہ ہوکر کود گیا۔ نتیجتاً اُس کے سر کا پچھلا حصہ پکی سڑک سے ٹکراگیا اور بے ہوش ہوگیا۔ والد صاحب کے بہ قول:’نجیب صاحب کہتے ہیں کہ اسے لاہور لے جاؤ!‘ لیکن ڈاکٹر محمد خان اس حق میں نہیں تھے ۔‘‘
اس حصے پر ’’انعام راہی‘‘ نامی ایک اکاونٹ (جو کہ لاکڈ ہے) کی طرف سے سوال اُٹھایا گیا کہ ’’کیا 1963ء میں فون موجود تھا؟‘‘
ایک اور صاحب ’’سید زکریا‘‘ نامی اکاونٹ والے نے سوال اُٹھایا کہ ’’1963ء میں کون سا موبائل فون تھا؟‘‘ گو کہ لفظونہ ڈاٹ کام کے مدیر نے سید زکریا کو جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سید زکریا! تحریر دوبارہ پڑھ لیں۔ موبائل فون کا ذکر تو اس میں سرے سے ہے ہی نہیں۔ یہاں تو ٹیلی فون کی بات ہورہی ہے…… اور ٹیلی فون تو بادشاہ صاحب کے دور میں بھی موجود تھا۔ والی صاحب تو 1948ء کے آس پاس والی بنے۔‘‘
یہ اور اس قسم کے دوسرے معترضین کی خدمت میں عرض ہے کہ اُن کے دادا سے بھی پہلے کے زمانے میں ریاستِ سوات میں ٹیلی فون کا جال بچھایا گیا تھا۔ پٹن سے لے کر طوطالئی تک ایک ہمہ وقت ٹیلی فونک سسٹم کام کر رہا تھا۔
دراصل جس زمانے کی مَیں بات کر رہا تھا، اُس وقت چکیسر ایک مختصر سی بستی تھی…… لیکن اس کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ تو یہاں ایک مکمل ایکسچینج نصب کیا گیا تھا۔ جو دارالحکومت سے دن رات 24 گھنٹے منسلک رہتا۔ قلعہ اور عدالت کے علاوہ نجی رہایش گاہوں میں بھی ٹیلی فون کی سہولت موجود تھی۔ نجی رہایش گاہوں میں فون رکھنے والوں میں سے چند نام مجھے یاد ہیں:علقموت خان،صفدرخان عرف چپا خان، امیرخان، آفرین خان اور سلطان محمود خان۔
اقلیتی برادری میں سے کرشن لال کی دُکان میں فون کی سہولت موجود تھی۔
ہمارے سیدوشریف کے محلہ افسرآباد کے 8 گھروں میں سے 5 میں فون موجود تھے۔
سیدوشریف میں پہلے پہل 500 لائنوں کا ٹیلیفون ایکسچینج میان گل عبدالودو کے عہد میں انسٹال کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ریاست کے کونے کونے میں سرکاری قلعہ جات اور علاقائی عدالتوں کو مرکزی ایکسچینج سے منسلک کیا گیا تھا۔
اباسیندھ کوہستان کے محاذ پر فوج جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی ساتھ ہی ٹیلی فون لائن بچھائی جاتی رہی۔ پٹن میں فوج داخل ہوگئی، تو وزیر نے وہاں سے بہ راہِ راست بادشاہ صاحب کو فون پر مبارک باد دی۔
یہ کوئی افسانہ نہیں، بل کہ حقیقت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










