میری اس تحریر سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مَیں کوئی ’’پروفیشنل نوحہ‘‘ گر ہوں۔ اُدھر کسی کی موت کی خبر آئی اور اِدھر میری انگلیوں میں خارش ہونے لگی…… لیکن بعض لوگوں کے احسانات بھلانا ناممکن بھی تو ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد خان دارِ فانی سے کوچ کرگئے،یہ ایک نارمل سی بات ہے۔کیوں کہ اُن کی عمر زیادہ تھی۔ ہم اُن کے سامنے بڑھتے بڑھتے باقاعدہ بوڑھے ہوگئے ۔ موت بوڑھے، جوان یا بچے کو نہیں دیکھتی…… اجل تو کسی بھی وقت آسکتی ہے۔
ڈاکٹر محمد خان دراصل سیدو ہسپتال میں ڈاکٹرنجیب اللہ کے ماتحت فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ یہ 1960ء کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے، غالباً 1963ء…… مَیں چکیسر میں تھا۔ ایک دن مجھے بابا کا فون آیا کہ فوراً گھر پہنچو۔ مَیں بھاگم بھاگ گھر پہنچا۔ پتا چلا کہ میرا چھوٹا بھائی عبداللطیف چلتی بس کے پیچھے لٹک رہا تھا، جو گرلز سکول کی بس تھی۔ بس کی رفتار کم ہوئی تویہ خوف زدہ ہوکر کود گیا۔ نتیجتاً اُس کے سر کا پچھلا حصہ پکی سڑک سے ٹکراگیا اور بے ہوش ہوگیا۔ والد صاحب کے بہ قول: ’’نجیب صاحب کہتے ہیں کہ اسے لاہور لے جاؤ!‘‘
قصہ مختصر،ہم نے ایک کار اور کچھ پیسوں کا بندوبست کیا کہ اگلے صبح لاہور جائیں گے۔ صبح وارڈ کے انچارج ڈاکٹر آئے۔ بابا نے اُن کوبتایا، تو اُنھوں نے کہا: ’’مرزا صاحب اس بچے کو یہیں رہنے دو۔ نجیب صاحب سے مَیں بات کروں گا۔‘‘
بعد میں اس حوالے سے جب ڈاکٹرنجیب اور ڈاکٹر محمد خان کی بحث ختم ہوئی، تو ڈاکٹر نجیب راضی ہوگئے۔ اُس کے بعد آدھ گھنٹے کے اندر چھوٹے بھائی عبداللطیف کے لیے ایک کمرا مختص کیا گیا۔ کمرے کی کھڑکی اور دوازے کو کالے رنگ کے پردے لگائے۔ صرف زیرو واٹ سبز رنگ کا بلب جلنے دیا گیا، باقی لائٹس آف کردی گئیں۔
عبداللطیف کو ناک کے ذریعے کھانا دیا جاتا رہا جو دودھ اور انڈوں پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر محمد خان ہر گھنٹا بعد اُسے چک کرتے۔ اس کے ’’سپائنل کارڈ‘‘ میں ایک خاص قسم کا انجکشن لگاتے۔ ٹھیک دسویں دن عبد اللطیف نے آنکھ کھولی اور باقاعدہ باتیں کرنے لگا،لیکن بالکل بچوں کی طرح۔ یوں ڈاکٹر محمد خان کی کوششیں رنگ لائیں۔
جس لطیف کو لاعلاج سمجھا گیا تھا، اُس نے اعلا تعلیم حاصل کی اور گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 3 سے پرنسپل کی پوسٹ سے سبک دوش ہوگیا۔
جاتے جاتے یہی دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ڈاکٹر محمد خان کو جنت میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے ۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










