حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اسلام کے عظیم سپہ سالار اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے تھے۔
فارس (ایران) فتح کرنے والے سعد بن ابی وقاص کی کنیت ’’ابو اسحاق‘‘ تھی ا ور زمانۂ جاہلیت و اسلام دونوں میں آپ رضی اللہ عنہ کا نام سعد ہی رہا۔ آپ کا تعلق حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ننھیال کے قریش قبیلہ ’’بنو زہرہ‘‘ سے تھا۔ اس رشتے کے ناتے آپ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ماموں کہلاتے تھے۔
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اُنھیں دیکھ کر فرمایا:’’یہ میرے ماموں ہیں، اگر کسی کا ایسا ماموں ہو، تو دکھائے!‘‘
حمزہ بن عبدالمطلب کی والدہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ترغیب سے نزولِ وحی کے ساتویں روز ایمان لے آئے ۔ اُس وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی عمر 19 برس تھی (بعض روایات میں عمر 17 سال بھی بیان کی گئی ہے۔ )
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ ’’حمنہ بنت ابی سفیان بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف‘‘ تھیں۔
جب والدہ کو معلوم ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا ہے، تو سخت رنجیدہ ہوئیں اور قسم کھائی کہ بات کریں گی، کھائیں گی اور نہ پئیں گی، جب تک سعد (رضی اللہ عنہ) اسلام ترک نہ کر دیں۔ وہ کہنے لگیں: ’’تمھارا تو یہ کہنا ہے کہ تمھارے رب نے والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا میں تمھاری ماں ہوں، تمھیں حکم دیتی ہوں کہ اسلام چھوڑ دو!‘‘
اُنھوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور تین دن تک کچھ نہ کھایا پیا۔ یہ سعد رضی اللہ عنہ کے لیے سخت آزمایش کا موقع تھا، مگر وہ ثابت قدم رہے ۔ تب قرآنِ مجید کی یہ آیت نازل ہوئی:’’اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی، اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے، جس کا تجھے علم نہیں، تو اُن کا کہنا نہ مان!‘‘ (سورۃ العنکبوت، آیت 8)
سعد رضی اللہ عنہ ساری عمر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے محافظِ خصوصی کے طور پر ساتھ رہے اور تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا، میں کون ہوں؟ آپ نے فرمایا: ’’تم سعد بن مالک بن وہیب بن عبدمناف بن زہرہ ہو، اور جو اس کے سوا کوئی اور نسب تمھاری طرف منسوب کرے گا، اس پر اللہ کی لعنت ہو۔‘‘
سعد رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مَیں وہ پہلا شخص ہوں، جس نے اللہ کی راہ میں کفار پر تیر چلایا۔
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے 60 یا 80 مہاجرین کے ساتھ عبیدہ بن حارث کو سفید جھنڈے کے ساتھ امیر بنا کر ’’جُفعہ‘‘ سے 10 میل کے فاصلے پر ’’رابغ‘‘ نامی مقام کی طرف بھیجا۔ اس لشکر کے علم بردار مِسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے۔ جب لشکر ’’رابغ‘‘ کے مقام پر ’’سَنیۃ المرّہ‘‘ کے قریب پہنچا، تو وہاں عکرمہ بن ابی جہل (جو بعد میں مسلمان ہوئے ) کی کمان میں 200 کفار قریش موجود تھے۔ دونوں لشکرجب آمنے سامنے ہوئے، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کفار پر تیر پھینکا۔ یہ پہلا تیر تھا، جو مسلمانوں کی طرف سے کفارِ مکہ پر چلایا گیا۔
’’اسد الغابۃ‘‘ میں روایت ہے کہ ایک موقع پر مسلمان نماز پڑھ رہے تھے، تو مشرکین نے مذاق اُڑایا اور بات ہاتھا پائی تک جاپہنچی۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی غیرتِ ایمانی جوش میں آئی اور اُنھوں نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے ایک کافر کو مارا جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ یوں حضرت سعد رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب ہیں، جنھیں اسلام کی خاطر سب سے پہلے کسی کافر کا خون بہانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔(اسد الغابۃ، سعد بن مالک القرشی، جلد دوم، ص 434)
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ غزوات میں ایسا وقت آیا کہ مسلمانوں کے پاس ببول کے پتوں اور پھولوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ تھا۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ اُن خوش نصیب اصحاب میں سے ہیں، جنھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنت کی بشارت دی تھی۔ اس حوالے سے حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا:’’اس دروازے سے ابھی ایک جنتی داخل ہوگا۔‘‘ چناں چہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔
خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ فارس اور روم کے جہادوں میں سپہ سالار رہے۔ امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب عراق اور شام کی جانب اسلامی لشکر روانہ کیے، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے قادسیہ، مدائن اور دیگر ایرانی شہروں کو فتح کر کے اسلامی ریاست میں شامل کیا۔ (تاریخِ مدینہ دمشق، ترجمہ سعد بن مالک بن وقاص، جلد 20، ص 294)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ’’کوفہ‘‘ کا گورنر مقرر کیا اور اُن کے حکم پر کوفہ کی بنیاد رکھی گئی۔(الاعلام لابن خلدون/ وفیات الاعیان، جلد 1، ص 212)
بعد ازاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ اس عہدے سے معزول بھی کر دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ برابر جہاد میں شریک رہے، کبھی سپاہی اور کبھی سپہ سالار کی حیثیت سے ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ دوبارہ کوفہ کا گورنر بنایا گیا۔ اسلام کا یہ عظیم سپہ سالار اور صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بار بار الزامات سے دل برداشتہ ہو کر مدینہ کے قریب مقام ’’عقیق‘‘ میں گوشہ نشین ہوگئے۔55 ہجری میں 75برس کی عمر میں وفات پائی۔ ( بعض معتبر روایات، جیسے ’’الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب‘‘ اور ’’تہذیب التہذیب‘‘ کے مطابق وفات کا سنہ 54 ہجری یا 55 ہجری دونوں روایتوں میں آیا ہے۔)
وفات سے پہلے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ میرے کفن میں میرا وہ پرانا اون کا جبہ ضرور رکھا جائے، جو مَیں نے غزوۂ بدر میں پہنا تھا۔ چناں چہ وہ جبہ کفن میں شامل کیا گیا۔ لوگ فرطِ عقیدت میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے جنازے کو کاندھوں پر اُٹھا کر ’’عقیق‘‘ سے مدینہ تک لائے، جہاں مروان بن حکم (حاکمِ مدینہ) نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور اُنھیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










