زبان اور ایتھنک قومیت (Language and Ethnicity) کا باہمی تعلق سماجی، ثقافتی اور سیاسی علوم میں ہمیشہ ایک بنیادی اور متنازع موضوع رہا ہے۔ تاہم، صرف زبان کو ایتھنک شناخت کا مترادف نہیں سمجھا جاتا۔ ایتھنسیٹی کو نسل (Race) سے بھی الگ مانا جاتا ہے، کیوں کہ نسل خالصتاً حیاتیاتی (Biological) تصور ہے، جب کہ ایتھنسیٹی ثقافتی تفریق اور اشتراک کا مظہر ہے۔ اس میں زبان، دھرتی، ثقافت، یادداشت اور ورثہ اہم ترین عناصر سمجھے جاتے ہیں۔
اسی تعلق سے مختلف اصطلاحات وجود میں آئیں، جیسے مادری زبان، آبائی زبان، ورثی زبان (Heritage Language) اور پہلی زبان (First Language)۔ عموماً مادری اور پہلی زبان ایک ہی مانی جاتی ہیں، یعنی وہ زبان جو بچہ سب سے پہلے سیکھتا ہے اور جس میں وہ دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے۔ دوسری جانب، آبائی زبان یا اجداد کی زبان وہ ہوتی ہے، جو کسی کی تہذیبی یا ثقافتی بنیاد سے جڑی ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک توروالی بچہ کراچی میں پروان چڑھے اور اُردو کو اپنی پہلی زبان کے طور پر سیکھے، تو اُس کی مادری زبان اُردو ہوگی، لیکن اُس کی آبائی زبان توروالی ہی مانی جائے گی۔ بہ شرط یہ کہ وہ اُس زبان اور شناخت سے رشتہ برقرار رکھے۔
ورثی زبان (Heritage Language) کا تصور زیادہ تہذیبی معنویت رکھتا ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس میں کسی قوم یا برادری کا ثقافتی ورثہ جیسے کہانیاں، لوک گیت، محاورے، شاعری اور اساطیر نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں ۔ اس طرح ورثی زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں، بل کہ اجتماعی حافظے اور شناخت کا ستون ہے۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ مادری زبان کی اصطلاح نسبتاً نئی ہے اور اس کی اصل غیر واضح ہے۔ انسانی معاشرے چوں کہ اب زیادہ تر پدر نسبی (Patrilineal) ہوتے ہیں، یعنی شناخت اور وراثت باپ کی طرف سے منسوب کی جاتی ہے۔ اس لیے ماں سے منسوب زبان کا تصور دراصل محبت، نرمی اور ابتدائی تربیت سے وابستہ ہے۔ محققین کے مطابق اس اصطلاح کا پہلا استعمال 14ویں صدی میں انگریز فلسفی و پادری ’’جان وکلف‘‘ (John Wyclif) نے کیا تھا۔
ہمارے خطے میں مادری زبان کا استعمال جدید دور میں رائج ہوا، جب کہ روایتی طور پر لوگ اپنی زبان کو آبائی یا اجدادی زبان کہتے آئے ہیں۔ مثلاً: توروالی میں مادری زبان کے لیے لفظ ’’بوپ دأدی جیِب‘‘ مستعمل ہے، جس کا مطلب ہے باپ دادا کی زبان یعنی اجدادی زبان۔
پاکستان میں قومیت کا تصور خالص شہری (Civic Nationalism) بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے، جس کے پیچھے ایک تاریخی خوف کارفرما ہے۔ وہ خوف کہ متنوع نسلی اور لسانی قومیتوں کے اظہار سے ریاستی وحدت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً، ہزاروں سال پرانی علاقائی قومیتوں اور ان کی زبانوں کو ریاستی بیانیے میں کم زور یا غیرسیاسی رکھنے کی کوشش کی گئی اور مذہب پر مبنی ایک مصنوعی وحدت کو قومیت کے طور پر نافذ کیا گیا۔
اسی بنا پر مردم شماریوں میں قومیت کے خانے میں ’’پاکستانی‘‘، ’’افغانی‘‘ یا ’’ایرانی‘‘ جیسے شہری شناختی الفاظ درج کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے،جب کہ لسانی یا ایتھنک شناخت کے اظہار کی گنجایش نہیں دی جاتی۔ تاہم، ایک عجیب تضاد یہ ہے کہ مادری زبان کے خانے میں 2023ء کی مردم شماری میں ملک کی 70 سے زیادہ زبانوں میں سے صرف 14 زبانوں کو تسلیم کیا گیا۔ اس اقدام نے ایک نئی بحث چھیڑ دی، کیوں کہ انھی محدود اعدادوشمار کی بنیاد پر مختلف بڑی قومیتیں اپنی عددی اکثریت یا اقلیت ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مثلاً: جن لوگوں کی مادری زبان پشتو درج ہوئی، وہ پشتون شمار ہوئے، جن کی سندھی درج ہوئی، وہ سندھی اور جن کی اُردو لکھی گئی وہ لامحالہ مہاجر قرار پائے۔ یوں زبان کی بنیاد پر قومیت کا تعین ایک سیاسی آلہ بن گیا ہے۔ حالاں کہ بانیانِ ریاست کا بیانیہ یہی تھا کہ قومیت کا دار و مدار مذہب پر ہوگا نہ کہ زبان پر۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ مردم شماری کے عملے کی اکثریت انھی بڑی قومیتوں سے آتی ہے، جن کے باعث وہ چھوٹی زبانوں کے نام، شناخت یا صوتی پہچان سے ناواقف ہوتے ہیں۔ چناں چہ وہ اکثر مقامی زبانوں کو بڑی زبانوں کے کھاتے میں درج کر دیتے ہیں۔ مثلاً: ہزارہ یا کوہستان میں بولی جانے والی زبانوں کو پشتو لکھ دیا جاتا ہے، یا گلگت بلتستان کی ساری زبانوں کو اُردو یا شینا کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
یہ صورتِ حال ایک خطرناک لسانی مرکزیّت (Linguistic Centralization) پیدا کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں چھوٹی زبانیں مردم شماری کے اعداد و شمار سے غائب ہو جاتی ہیں، جس کے بعد ان کے لیے پالیسی، فنڈنگ یا تدریسی مواد کی گنجایش ختم ہوجاتی ہے۔
یوں پاکستان کی مردم شماری، جو بہ ظاہر ایک انتظامی اور تکنیکی عمل ہے، دراصل ایک قومیت سازی (Nation Formation) کا آلہ بن چکی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ وہی ریاست جو زبان کی بنیاد پر قومیت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، عملاً اپنی مردم شماریوں میں قومیت کا پیمانہ زبان کو ہی بناتی آئی ہے۔
ایک پنجابی خاندان اگر شہری ماحول میں اُردو بولنے لگے اور مردم شماری میں اپنی مادری زبان اُردو لکھ دے، تو وہ اچانک مہاجر قرار پائے گا۔
اسی طرح ایک گوجر یا ہندکو بولنے والا اگر اپنی مادری زبان پشتو لکھ دے، تو وہ پشتون مانا جائے گا۔
یوں زبان اور قومیت کا رشتہ سیاسی درجہ بندی میں بدل گیا ہے، جو نہ صرف لسانی حقیقتوں کو مسخ کرتا ہے، بل کہ ثقافتی حقوق، شناخت اور نمایندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
زبان اور ایتھنک قومیت کے درمیان تعلق فطری، جذباتی اور تاریخی ہے۔ تاہم جب اسے ریاستی طاقت، مردم شماری یا پالیسی کے پیمانوں میں قید کیا جاتا ہے، تو یہ شناخت کا ذریعہ ہونے کے بہ جائے طاقت کی سیاست کا آلہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کے تناظر میں، زبان نہ صرف اظہار اور تعلیم کا ذریعہ ہے، بل کہ طاقت، وابستگی اور خارجیت کا نشان بھی ہے۔
ریاستی سطح پر حقیقی لسانی تنوع کو تسلیم کیے بغیر قومی وحدت ممکن ہے نہ ثقافتی استحکام۔ مادری یا آبائی زبانوں کا تحفظ دراصل قومیتوں کے باہمی احترام اور متوازن وفاقی شناخت کی بنیاد ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










