میڈیا لٹریسی: جھوٹ کا توڑ

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

یہ دور سوشل میڈیا کا ہے۔ ہر انسان کے ہاتھ میں ایک موبائل فون ہے، جس کے ذریعے وہ دنیا بھر کی معلومات حاصل کر سکتا ہے، اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے اور مختلف خبروں سے فوری آگاہ ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے تبادلے کو آسان اور تیز تر بنا دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بڑے مسئلے نے بھی جنم لیا ہے…… اور وہ ہے جھوٹ اور غلط معلومات کا بے تحاشا پھیلاو!
اس میں کوئی سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا دیا ہے۔ چاہے کوئی دور دراز گاؤں ہو یا کسی بڑے شہر کی مصروف سڑکیں، ہر جگہ لوگ اپنی بات پہنچا سکتے ہیں، مختلف نظریات اور خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اطلاعات کے حصول میں بہت آسانی پیدا ہوئی ہے اور لوگ تعلیم، صحت، سیاست، سماجی اور دیگر اُمور میں بہ آسانی آگاہی حاصل کرسکتے ہیں…… لیکن اس کی طاقت کے ساتھ ہی ایک بڑا چیلنج بھی آیا ہے، یعنی اطلاعات کی سچائی اور صداقت۔ سوشل میڈیا نے معلومات کے معیار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کیوں کہ اب ہر کوئی بغیر کسی تصدیق کے خبریں، ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے رائے عامہ ہم وار کرسکتا ہے۔
اب تحریر کے اس حصے میں ذرا بات کرتے ہیں جھوٹ اور افواہوں کے پھیلاو کی وجوہات پر۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما ہیں، جیسے:
٭ سب سے پہلی اور اہم وجہ یہ ہے کہ جھوٹ اکثر جذبات کو بہت آسانی سے متاثر کرتا ہے۔ ایسے مواد کو لوگ جلد قبول کرلیتے ہیں۔ کیوں کہ یہ اُن کے احساسات، عقائد یا خوف سے میل کھاتا ہے۔ اس لیے لوگ بغیر تحقیق کے اسے آگے شیئر کر دیتے ہیں۔
٭ دوسری وجہ معلومات کی تصدیق نہ کرنا یا اس کا فقدان ہے۔ اکثر صارفین اس تیزی اور موج کی دنیا میں معلومات کو جانچنے کی زحمت نہیں کرتے اور فوری طور پر اسے پھیلا دیتے ہیں۔
٭ تیسری اور سب سے خطرناک وجہ سیاسی یا معاشرتی مفادات ہیں۔ کئی گروہ اپنی مرضی کے مطابق سوچ کو فروغ دینے کے لیے جھوٹ کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تاکہ اپنی مرضی کی سیاست یا نظریات کو عام کر سکیں۔ اسی طرح معاشرتی تقسیم، تعصب، منافرت اور انتشار بھی جھوٹ کے پھیلاو کا باعث بنتے ہیں۔
قارئین! سچ کی تلاش ایک پیچیدہ اور محنت طلب عمل ہے۔ آج کے دور میں، جہاں معلومات کی بھرمار ہے، سچ کو پہچاننا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ہر خبر، ہر ویڈیو اور ہر تصویر کی صداقت کو پرکھنا ضروری ہے، تاکہ ہم فریب میں نہ آئیں۔ یہ عمل صرف معلومات کو پڑھنے یا سننے تک محدود نہیں، بل کہ مختلف ذرائع سے تصدیق، حقائق کا تجزیہ اور تنقیدی سوچ کا استعمال ہے۔
بعض اوقات سچائی تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے اور یہ محنت طلب کام ہے، لیکن اس کے بغیر ہم جھوٹ کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا کے ساتھ جھوٹ پھیلانے کا خطرہ بھی ہے، لیکن اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ علم، آگاہی اور تعلیم کا ایک بہت بڑا ذریعہ بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر بہت سی ایسی تنظیمیں، فیکٹ چیکنگ ادارے اور لوگ کام کر رہے ہیں، جو جھوٹ اور غلط معلومات کی نشان دہی کرتے ہیں اور سچائی کو سامنے لاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی مسائل کی نشان دہی، انسانی حقوق کی حفاظت اور تعلیمی مواد کی ترسیل میں بھی سوشل میڈیا کا کردار نمایاں ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جھوٹ کی بھرمار سے معاشرے میں اعتماد ختم ہو جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے پر بھروسا نہیں کرپاتے۔ اس سے سماجی انتشار، نفرت، تعصب اور اشتعال کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ یہ بات ہر فرد، ادارے اور حکومتی سطح پر سمجھنی چاہیے کہ سچائی کے فروغ میں اُن کی ذمے داری بہت بڑی ہے۔ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ معلومات کے ذریعے دوسروں کو بیدار کرے، جھوٹ کے خلاف آواز اٹھائے اور سچ کو فروغ دے۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اپنی ذمے داری نبھائیں، جھوٹ اور نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لیے بہتر قوانین اور پالیسیاں اپنائیں۔
٭ تعلیمی اور تکنیکی حل:۔ جھوٹ اور غلط معلومات کے خلاف سب سے موثر ہتھیار ’’میڈیا لٹریسی‘‘ ہے۔ ہر فرد کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ وہ معلومات کو کیسے جانچے، مختلف ذرائع کی تصدیق کیسے کرے اور اپنی رائے کس طرح تشکیل دے؟ تکنیکی طور پر بھی فیک نیوز کی روک تھام کے لیے مختلف سافٹ ویئر اور الگورتھمز تیار کیے جا رہے ہیں، جو جھوٹ کو پہچان کر رپورٹ کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ وہ زیادہ شفاف اور ذمے دار بنیں، تاکہ جھوٹ اور فریب کا پھیلاو کم کیا جاسکے۔ آج کی دنیا میں سوشل میڈیا ایک طاقت ور ذریعہ ہے، جو ہماری زندگی کو آسانی اور سہولت فراہم کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ اس کے منفی پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جھوٹ کا پھیلاو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جس کا حل صرف اور صرف علم، شعور اور اخلاقی ذمے داری سے ممکن ہے۔ اگر ہم سب مل کر سچائی کی تلاش کریں، جھوٹ کے خلاف آواز اٹھائیں اور اپنی سوچ کو آزاد اور تنقیدی رکھیں، تو ہم ایک بہتر، خوش حال اور باشعور معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ سچائی کی جستجو ہر فرد کی ذمے داری ہے اور یہ ذمے داری نبھانا ہی ہمیں ایک مضبوط، پُرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی طرف لے جائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے