عہدِ فریب

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

جھوٹ ہر مذہب، ہر اخلاقی نظام اور ہر باشعور معاشرے میں ایک ناپسندیدہ اور مذموم عمل سمجھا جاتا ہے۔ ایک عام انسان جھوٹ بولے، تو اسے دھوکا دہی، فریب اور بددیانتی کہا جاتا ہے…… لیکن جب یہی جھوٹ ایک سیاست دان بولے، تو کیا اسے سیاسی چالاکی، حکمت عملی یا ’’سیاسی بیان بازی‘‘ کَہ کر جائز قرار دیا جا سکتا ہے ؟ کیا سیاست کے میدان میں سچ کا کوئی مقام باقی نہیں رہا؟ ان سوالات کا جواب صرف معاشرتی نہیں، بل کہ اخلاقی، مذہبی اور فکری اعتبار سے بھی دیا جانا ضروری ہے۔
بدقسمتی سے عصرِ حاضر کی سیاست میں جھوٹ ایک ’’معمول‘‘ بن چکا ہے۔ جلسوں میں لوگوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا، انتخابی وعدے کرنا جن پر عمل نہ ہو اور مخالفین کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانا، یہ سب کچھ اب ایک سیاسی ’’تکنیک‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔
مثال کے طور پر اگر جلسے میں 10 ہزار لوگ آئے ہوں، تو اسے لاکھوں کا مجمع کَہ کر پیش کیا جاتا ہے۔’’ہم آئیں گے، تو دودھ کی نہریں بہا دیں گے، سب کو روزگار ملے گا، کرپشن کا خاتمہ کریں گے……!‘‘ یہ اور اس قبیل کے دیگر وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن اکثر اقتدار میں آنے کے بعد اُن کا ذکر تک نہیں ہوتا۔
ایسا کیوں ہے؟ کیوں کہ سیاست کو بعض لوگ ایک ’’کھیل‘‘ سمجھ بیٹھے ہیں، جہاں مقصد صرف ’’جیت‘‘ ہے، چاہے اس کے لیے جھوٹ کیوں نہ بولا جائے۔
اسلام میں جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویؐ میں جھوٹ کو منافق کی علامت، شیطانی عمل اور ہلاکت کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ حضرت محمدؐ نے فرمایا: ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے، تو وعدہ خلافی کرے، جب امانت دی جائے، تو خیانت کرے۔‘‘
اَب سوال یہ ہے کہ اگر ایک سیاست دان روزانہ جھوٹ بولے، جھوٹے وعدے کرے اور عوام کو دھوکا دے، تو وہ کیسا انسان ہے؟ کیا وہ راہ نمائی کے قابل ہے یا قوم کو گم راہی کی طرف لے جا رہا ہے؟
اصل سیاست خدمت، سچائی، دیانت، قربانی اور انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔ دنیا کی کام یاب جمہوریتیں وہی ہیں، جہاں سیاست دان عوام کے سامنے جواب دہ ہیں، جھوٹ پر اُن سے بازپرس کی جاتی ہے اور عوام باشعور ہوتے ہیں۔ جب سیاست جھوٹ پر مبنی ہو جائے، تو عوام کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ جمہوریت کم زور ہو جاتی ہے۔کرپشن اور بدانتظامی بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح قوم دھوکا، نفرت اور مایوسی کا شکار ہو جاتی ہے۔ جھوٹ، خواہ کسی بھی میدان میں ہو، ناجائز اور قابلِ مذمت ہے۔ سیاست دان، چوں کہ قوم کے راہ نما ہوتے ہیں، اُن کے جھوٹ کا اثر ہزاروں، بل کہ لاکھوں افراد پر ہوتا ہے۔ لہٰذا اُن کا جھوٹ اور بھی خطرناک اور غیر اخلاقی ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم ترقی کرے، سیاست کا معیار بلند ہو اور قیادت باکردار ہو، تو ہمیں جھوٹے سیاست دانوں کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ ان سے سوالات پوچھنے ہوں گے اور سچ بولنے والے لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔ جھوٹ، چاہے تاج پہنے یا تقریر کرے، جھوٹ ہی رہتا ہے ۔
سیاست، جو کبھی خدمت، قربانی اور قوم کی راہ نمائی کا نام تھا، اب جھوٹ، مبالغہ آرائی اور فریب کا میدان بن چکی ہے۔ آج کا لیڈر جب جھوٹ بولتا ہے، تو اس کا جھوٹ صرف ایک فرد کا جھوٹ نہیں رہتا، بل کہ ایک ’’سیاسی نظریہ‘‘ کا درجہ اختیار کر لیتا ہے…… اور یہی سب سے بڑا اخلاقی، سماجی اور قومی زوال ہے۔
ہمارے معاشرے میں جھوٹ کو بچپن سے گناہ سکھایا جاتا ہے ، لیکن سیاست میں آ کر یہی جھوٹ اگر ووٹ دلا دے، ہجوم جمع کر دے اور ٹی وی پر داد سمیٹ لے، تو وہ جھوٹ نہیں، بل کہ ’’کام یابی کی حکمتِ عملی‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ کسی نے سچ کہا تھا کہ ’’سیاسی جلسوں میں سچ دفن ہوتا ہے اور جھوٹ پر تالیاں بجتی ہیں۔‘‘
لیکن سوال یہ ہے کہ جب لیڈر جھوٹ بولے گا، مبالغہ کرے گا، وعدہ خلافی کرے گا، تو اُس کے کارکن کا کیا حال ہوگا؟ وہ بھی اُسی جھوٹ کو سچ مانے گا، اُسے پھیلائے گا اور اُس پر فخر کرے گا۔ یہاں تک کہ بعض کارکن تو اس جھوٹ کے دفاع کو فرضِ عین سمجھتے ہیں، گویا کوئی عبادت کر رہے ہوں۔ جھوٹ جب عقیدہ بن جائے، تو پھریہ صورتِ حال اُس وقت اور خطرناک ہو جاتی ہے، جب کسی سیاسی جماعت کے کارکن اس جھوٹ کو محض سیاسی مجبوری نہیں، بل کہ ’’قومی خدمت‘‘ سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر جو جھوٹ پھیلایا جا رہا ہوتا ہے ،و ہ ایک ’’سچ‘‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ پارٹی کا لیڈر جو کہے ، وہی حرفِ آخر ہوتا ہے۔ چاہے وہ کل کچھ اور کَہ چکا ہو، آج اس کے برعکس بات کر رہا ہو۔
ایسا معاشرہ، جہاں جھوٹ بولنا ایک سیاسی مہارت بن جائے اور سچ بولنا بے وقوفی، تو وہ معاشرہ نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوجاتا ہے، بل کہ وہاں انصاف دفن ہو جاتا ہے۔ اصل مسائل دب جاتے ہیں۔ عوام کا شعور مر جاتا ہے اور نسلیں گم راہی میں پروان چڑھتی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال کا حل کیا ہے؟
تو میرے خیال میں یہ صورت حال اُسی وقت بدلے گی جب عوام جھوٹ کی پہچان سیکھیں۔ ہر بیان، وعدے اور دعوے کا احتساب ہو۔میڈیا، دانش ور اور اساتذہ سچ کے علم بردار بنیں۔ کارکن اندھی تقلید کی بہ جائے تنقیدی شعور اپنائیں۔
جھوٹ جب لیڈر بولے، تو جرمِ عظیم ہوتا ہے، اور جب کارکن اس پر یقین کرے، تو وہ جرم عوامی بیماری بن جاتا ہے۔ ایک وقت تھا، جب جھوٹ شرم کی بات تھی۔ آج سچ بولنا شرمندگی محسوس کرواتا ہے۔ اگر قوموں کو بیدار کرنا ہے، تو ہمیں جھوٹ کی سیاست کو دفن کرنا ہوگا۔
جھوٹ اگر لیڈر کا ہتھیار ہے، تو سچ عوام کا آخری سہارا ہونا چاہیے ۔ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں، جہاں سچ کا بول بالا ہونا چاہیے تھا، وہاں جھوٹ کا توتی بول رہا ہے۔ سیاست جو کبھی دیانت، خدمت اور قربانی کا نام تھی، آج فریب، دھوکا اور وعدہ خلافی کی آماج گاہ بن چکی ہے…… لیکن ہم اُس سیاست کا ماتم کر رہے ہیں، جس کے منبر پر آج جھوٹ حکم رانی کر رہا ہے اور سچ کفن اوڑھے قبر میں جا سویا ہے۔
ہمارے ہاں سیاست میں جھوٹ اس درجہ سرایت کرگیا ہے کہ اب جھوٹ بولنے والا لیڈر ’’سمجھ دار‘‘ کہلاتا ہے اور سچ بولنے والا ’’ناسمجھ‘‘ قرار پاتا ہے۔ جب ایک لیڈر جھوٹ بولتا ہے، تو اس کا کارکن جھوٹ کو عقیدہ بنا لیتا ہے، اسے عبادت سمجھ کر دہراتا ہے اور اگر کوئی سچ بول دے ، تو اُسے غدار کَہ کر دبا دیا جاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے