پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی اب ایک باقاعدہ ’’میڈیائی جنگ‘‘ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ دونوں ممالک میں بعض حلقے حالیہ جھڑپوں کو بنیاد بنا کر تاریخی حقائق کو مسخ کرنے لگے ہیں۔ شاید ’’محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے‘‘ والے مقولے کو پیشِ نظر رکھ کر پروپیگنڈے کو بھی بہ طورِ جنگی ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔
ذاتی طور پر میرا ماننا ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ تاہم جاری کش مہ کش میں دونوں فریقوں کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں اور ہر ایک اپنی کارروائی کو درست ثابت کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ ہماری درخواست یہی ہے کہ درست اور غلط کی بحث سے ہٹ کر نفرتوں کے اس کاروبار کو ختم کیا جانا چاہیے۔
دونوں جانب مسلمان آباد ہیں۔ خونی، مذہبی، علاقائی اور تہذیبی رشتوں میں بندھے لوگوں کا ایک دوسرے کو مارنا اور مارتے وقت نعرۂ تکبیر بلند کرنا نہایت افسوس ناک عمل ہے…… مگر اس معاملے میں جو تاریخی حقائق مسخ کیے جارہے ہیں، وہ انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ کیوں کہ کبھی کبھی خوش فہمی، خود پسندی یا تجاہلِ عارفانہ انسان کو بند گلی میں پہنچا دیتی ہے اور شاید یہی حال آج کل افغانستان کا ہے۔ وہاں لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر راسخ کردیا گیا ہے کہ برطانیہ، روس اور اب امریکہ کو شکست دے کر گویا افغانستان ’’ناقابلِ تسخیر‘‘ ملک ہے۔ یہ دعوا تاریخی تناظر میں نہایت کم زور ہے، لیکن اسے ’’میڈیائی جنگ‘‘ کا مرکزی نکتہ بنا کر بے چارے افغان بچوں کو ایک بار پھر گولہ بارود کی جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کی اندوہ ناک علاحدگی کو بنیاد بناکر پاکستان کو شرم دلایا جارہا ہے، یا ایک طرح سے طیش میں لایا جارہا ہے، مگر یہ نہیں دیکھا جارہا کہ اس سال کے آغاز میں مئی کے مہینے میں پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑی ملکی فوج کے ساتھ کیا کیا؟
خیر، آج ہم کچھ تاریخی شواہد کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی افغانستان ’’ناقابلِ تسخیر‘‘ رہا ہے، یا یہ صرف ایک خوش فہمی اور سیاسی یا حربی دعوا ہے؟
سب سے پہلے بات کرتے ہیں ظہیرالدین بابر کی، جو ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے بانی مانے جاتے ہیں۔ بابر کا پیدایشی تعلق فرغانہ (موجودہ ازبکستان) سے تھا۔ اُنھوں نے 1504ء میں کابل اور 1522ء میں قندھار کو فتح کرکے کابل کو اپنا مرکز بنایا۔ وہاں سے ہوتے ہوئے وہ متحدہ ہندوستان پہنچے اور کئی ناکامیوں کے بعد ایک مضبوط حکومت قائم کرنے میں کام یاب ہوئے ۔ یاد رہے کہ بابر پیدایشی طور پر افغانی نہیں تھے، لہٰذا وہ پہلا غیر افغانی حکم راں تھا، جس نے کابل کو اپنی سلطنت میں شامل کیا۔
بابر کے بعد ایرانی فرماں روا نادر شاہ افشار کا دور آتا ہے۔ وہی نادر شاہ جس نے کابل ہی نہیں، بل کہ دہلی میں بھی مغلوں کے تخت کو اُلٹ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ نادری افواج نے اتنے لوگوں کو قتل کیا کہ دہلی کی گلیوں میں خون بہہ رہا تھا۔ تب یہ مقولہ مشہور ہوا: ’’صورتِ اعمالِ ما، شامتِ نادر گرفت۔‘‘
1738ء میں نادر شاہ نے افغان حکم ران ’’ہوتکی بادشاہت‘‘ کے آخری مضبوط گڑھ قندھار کو فتح کیا اور افغان علاقے کو اپنی عمل داری میں شامل کرلیا۔ یہ دور واضح کرتا ہے کہ افغانستان اُس وقت بھی ایک بڑی طاقت کے سامنے مزاحمت میں کام یاب نہ ہوسکا۔
سکھوں کا عروج 18 ویں صدی کے اواخر میں شروع ہوا۔ 1799ء میں سکھوں نے لاہور پر قبضہ کیا، جو اُس وقت درّانی سلطنت (افغان حکومت) کے زیرِ اثر تھا۔ یاد رہے کہ اُس زمانے میں لاہور، ملتان اور اٹک تک کا علاقہ افغان عمل داری میں شامل تھا۔ اسی لیے آج بھی بعض افغان قوم پرست اٹک کو اپنا علاقہ سمجھتے ہیں اور ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم نہیں کرتے۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اگر لاہور اور ملتان بھی کبھی افغان سلطنت کا حصہ تھے، تو اُن پر اب دعوا کیوں نہیں کیا جاتا؟
خیر، سکھوں کے لاہور پر قبضے کے بعد احمد شاہ درّانی نے مزاحمت کی اور 1761ء میں پانی پت کی جنگ میں مرہٹوں کو شکست دے کر ایک بار پھر افغان اثر و رسوخ قائم کیا، لیکن رنجیت سنگھ کے دور میں 1799ء سے 1801ء کے درمیان سکھوں نے پنجاب اور پشاور کے علاقے دوبارہ حاصل کرلیے۔ بعدازاں کشمیر بھی سکھ عمل داری میں آگیا۔ رنجیت سنگھ کے جرنیل ہری سنگھ نلوہ کی خیبر میں افغانوں کے خلاف لڑائیوں کی داستانیں آج بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔
برطانیہ نے 1839ء سے 1919ء تک افغانستان کے ساتھ تین جنگیں لڑیں:
پہلی جنگ (1839ء تا 1842ء) میں انگریز وقتی طور پر کام یاب ہوئے، مگر بالآخر اُسے کابل سے پسپا ہونا پڑا۔
دوسری جنگ (1878ء تا 1880ء) میں انگریزوں نے افغانستان کی خارجہ پالیسی پر اپنا اثرورسوخ قائم کیا۔
تیسری جنگ (1919ء) میں امان اللہ خان کی قیادت میں افغانستان نے برطانیہ سے مکمل آزادی حاصل کی۔
ذکر شدہ تاریخی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ افغانستان کبھی مستقل طور پر بیرونی اثرات سے آزاد نہیں رہا۔
اب بات کرتے ہیں روس اور امریکہ کی۔
روس نے 1979ء سے 1989ء تک افغانستان پر قبضہ جمائے رکھا، جب کہ امریکہ 2001ء سے 2021ء تک وہاں موجود رہا۔ یہ دونوں غاصب قوتیں تھیں، مگر پاکستان نہ غاصب ہے اور نہ افغانستان قبضے کا خواہش مند۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ روس اور امریکہ دونوں کئی برسوں تک افغانستان میں سیاہ و سفید کے مالک رہے…… اور اپنے مفادات کی تکمیل کے بعد اپنی شرائط پر واپس گئے۔
روسی حملے کے دوران میں لاکھوں افغان روس سے لڑنے کے بہ جائے دنیا بھر میں مہاجر بن گئے۔ اس طرح امریکی حملے کے وقت بھی بہت سے افغانوں نے لڑنے کے بہ جائے ملک چھوڑنے کو ترجیح دی۔ یہ مناظر سب نے دیکھے کہ جب طالبان دوبارہ کابل میں داخل ہورہے تھے، تو امریکی جہازوں کے پہیوں سے لٹک کر ملک سے بھاگنے والے افغانی ہی تھے، یعنی اپنے ہی ہم وطن طالبان سے فرار اختیار کررہے تھے۔
لہٰذا اس مغالطے کو ختم کرنا چاہیے کہ افغانستان ناقابلِ تسخیر ملک ہے۔ تاریخ اس تاثر کی تائید نہیں کرتی…… مگر ان تمام تاریخی حقائق کے باوجود میرا ماننا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کو جنگ نہیں، بل کہ تدبر، مفاہمت اور مصلحت کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے چاہییں، تاکہ دونوں جانب نفرتوں کے بہ جائے محبتوں کی آب یاری ہو۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










