نور حنی گل، شاہی مستری ریاستِ سوات

Blogger Sajid Aman

ریاستِ سوات قائم ہوئی، تو شاہی ماحول پیدا ہوا۔ شاہی سواری موٹر کار سے بہتر اور کیا ہو سکتی تھی۔ اس لیے سڑکیں بنیں اور لاریاں آئیں……مگر جہاں ڈرائیور اور میکینک نہ ہوں، وہاں گاڑی چلائے گا کون؟
ابتدائی دور میں سوات میں یا تو ڈرائیور باہر سے آتے تھے یا پھر مقامی لوگ پشاور، لاہور یا بمبئی جا کر تین مہینے ماہر ڈرائیوروں کے ساتھ باقاعدہ شاگردی کرکے کورس کرتے۔ تبھی اُنھیں ڈرائیور مانا جاتا۔ ان تین مہینوں میں وہ محض ڈرائیور نہیں، بل کہ مستری بھی بن چکے ہوتے…… یعنی آج کے ’’کسٹم چور‘‘ ڈرائیور کی طرح نہیں، بل کہ گاڑی کی آواز، چال اور مزاج کو سمجھنے اور ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھنے والے باصلاحیت ڈرائیور کہلاتے۔
تمہید باندھنے کے بعد اب آتے ہیں نور حنی گل اُستاد کی طرف، جو مردان کے رہنے والے تھے۔ اُن کے والد حمید گل مینگورہ کے میرخان خیل محلے میں آ کر آباد ہوئے اور یہی نور حنی گل کی پیدایش ہوئی۔ اُن کے دو بھائی اور بھی تھے، عمر گل استاد اور ثانی گل۔ ثانی گل بعد میں اسلحہ ساز کے نام سے مشہور ہوئے ۔ تینوں بھائی اسی محلے کے تھے ۔
نور حنی گل وجیہہ تھے اور قابل ذہن رکھتے تھے۔ ڈرائیوری اُس زمانے میں ایک خواب تھی، سو یہ خواب نور حنی گل نے بھی دیکھا۔ اُنھوں نے تین مہینے لاہور میں تربیت حاصل کی اور مینگورہ واپس آ کر گل نبی حاجی صاحب، حبیب الرحمان، محمد رحمان اور محمد غفار خاندان کی لاریوں کے ڈرائیور بنے۔ اُن کے ساتھ مشہور شخصیت ’’لاری ملا‘‘ کلینر (کلینڈر) کے طور پر کام کرتے تھے…… مگر نور حنی گل اُستاد کے ذہن میں کچھ نیا کرنے کا جذبہ تھا۔ چناں چہ جلد ہی اُنھوں نے حاجی بابا چوک میں گل مارکیٹ کے آس پاس ایک ورک شاپ قائم کی۔ اپنی محنت سے وہ موٹر کار سے لے کر ٹرک تک کے ماہر میکینک بن گئے۔ بہ الفاظِ دیگر ’’آل اِن ون مکینک کم ڈینٹر۔‘‘
برسبیلِ تذکرہ، ایک مرتبہ ایک سرکاری لاری بونیر میں گرگئی اور بری طرح نقصان اُٹھایا۔ جیسے تیسے کرکے اُسے سیدو لایا گیا، مگر اُس کا فریم ٹیڑھا ہوچکا تھا۔ والی صاحب نے ماہرین سے مشورے کیے، مردان تک پیغام بھیجا، مگر کوئی بھی اُسے اصل حالت میں لانے پر آمادہ نہ ہوا۔ کسی نے والی صاحب کو نور حنی گل کا نام بتایا۔ نورحنی گل کو طلب کیا گیا۔ وہ کافی دیر تک معائنہ کرتے رہے ، پھر جواب دیا: ’’صاحب، ایک ٹرک کوئلہ اور ہائیڈرالک جیک چاہییں، کام ہو جائے گا۔‘‘
والی صاحب نے اُنھیں کراچی بھجوایا۔ وہ وہاں سے جیک اور دیگر ضروری سامان لائے۔ دہکتے ہوئے انگاروں سے لوہا گرم کرتے، جیک سے اُٹھاتے اور رسیوں سے کھینچتے۔ اس طرح زبردست محنت کے بعد لاری اپنی اصل حالت میں واپس آگئی۔ یوں نور حنی گل، والی صاحب کی نظروں میں خاص مقام حاصل کر گئے۔
بعدازاں نور حنی گل استاد حاجی بابا چوک چھوڑ کر نشاط چوک (جہاں اب رکشوں کا اڈّا ہے) منتقل ہوگئے۔ یہ غالباً 1951ء کا زمانہ تھا۔ دس سال یہاں گزار کر 1961ء میں اُنھوں نے یہ ورکشاپ اپنے بھائی عمر گل اُستاد کے سپرد کی اور خود گلشن چوک چلے گئے۔
گلشن چوک میں نور حنی گل نے ایک خوب صورت ورک شاپ کی داغ بیل ڈالی۔ بڑے بڑے ٹائر لگے ہوتے، جن سے فریم سیدھے کرنے کے لیے رسیاں باندھی جاتیں۔ میکینکل کام کے لیے الگ حصہ مخصوص تھا۔ اُن کے دیکھا دیکھی ٹانگوں اڈّا اور پانی کی ٹینکی کے آس پاس کئی ورک شاپس بن گئیں۔ یہاں تک کہ ملا بابا روڈ ایک مصروف بازار بن گیا۔
نور حنی گل نہایت نفاست پسند تھے۔ ورک شاپ میں نفاست، کام میں نفاست، مزاج میں نفاست۔ جہاں کچے اُستاد پشاور والے، کمانی استاد، شمشاد مستری جیسے کاریگر تھے، وہاں نور حنی گل ’’شاہی مستری‘‘ اور گاڑیوں کے حوالے سے والی صاحب کے ’’مشیر‘‘ سمجھے جاتے۔ والی صاحب آخری وقت تک روزانہ اُن کے ورک شاپ آ کر کچھ دیر رُکنے ، کام دیکھنے اور شاباش دینے کے عادی تھے۔
نور حنی گل اُستاد خوش شکل، خوش لباس اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ پینٹ، شرٹ اور ہیٹ پہنتے اور اسی میں کام کرتے۔ اُن کے تین بیٹے تھے:یوسف علی اُستاد (مرحوم)، رحمت علی اُستاد اورخورشید علی اُستاد۔ ان میں سے یوسف علی اُستاد کی ورک شاپ محمد رحمان پمپ جی ٹی روڈ کے قریب تھی، بعد میں قمبر بائی پاس منتقل ہوگئی۔ اب اُن کے بیٹے عرفان اُستاد وہیں کام کرتے ہیں۔
رحمت علی اُستاد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے، دیر خال کے سرکاری سکول میں اُستاد تھے، وہ مجرد رہے۔
تیسرے بیٹے خورشید علی استاد زندگی سے بھرپور شخصیت رکھتے ہیں۔ بٹوارے کے بعد اُنھوں نے گلشن چوک چھوڑ کر وتکی (شاہدرہ چوک) میں ورک شاپ قائم کی۔ والد کے بعد وہی ’’شاہی مستری‘‘ کہلائے۔ اُن کے دو بیٹے اُن کے ساتھ کام کرتے ہیں اور تین زیرِ تعلیم ہیں۔
خورشید علی اُستاد گاڑیوں کے شوقین ہیں۔ اُن کے پاس ’’کراسلے 1930‘‘ (Crossley 1930 Model) ماڈل ’’چھڑی والی‘‘ (چھڑی ،جسے ہم پشتو میں ’’تلکئی‘‘ کہتے ہیں) دو گاڑیاں تھیں، ایک زرد اور ایک سبز۔ زرد گاڑی اُنھوں نے کراچی کے ایک سیٹھ کو ڈیڑھ لاکھ میں بیچی۔ وہی گاڑی بعد میں سات لاکھ میں فروخت ہوئی اور خریدار اسے آسٹریلیا لے گیا، جہاں وہ آج بھی چل رہی ہے۔
عمر گل اُستاد کے بیٹے نایاب اور مہنگی گاڑیوں کے میکینک کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی ورک شاپ سوات سینما کے قریب ایک مارکیٹ کے اندر ہے۔ جو کام انجام دینا دوسروں کے لیے ناممکن ہو، اُسے ممکن بناتے ہیں۔ ارشد علی اور عماد وہاں کام کرتے ہیں۔ دوسری جانب خورشید علی اُستاد وتکی چوک میں اپنی ورک شاپ چلاتے ہیں۔
نور حنی گل اُستاد مہمان نواز اور یار باش انسان تھے۔ اُن کے ہاں ہمیشہ ایک مجلس سجی رہتی۔ یہ خوبی اب بھی اُن کی باقی ماندہ نسل میں برقرار ہے۔ آج بھی خورشید علی اُستاد کے پاس شام کے وقت دوست احباب جمع ہوتے ہیں اور یہ محفل مذکورہ روایت کی علامت ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے