نکاح نامہ: اصلاح کی ضرورت

Blogger Rafi Sehrai

شادی کرنا سنت بھی ہے اور معاشرتی ضرورت بھی۔ یہ ایک خوب صورت بندھن ہے، جو مرد و عورت کی زندگی میں توازن لانے کا باعث بنتا ہے۔ یہ زندگی بھر کے لیے قائم کیا جانے والا رشتہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکی کے لیے لڑکے کا یا لڑکے کے لیے لڑکی کا انتخاب کافی سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس بندھن کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور اس کے تقدس کا ہمیشہ خیال بھی رکھا جاتا ہے، تاہم بعض مخصوص حالات میں یہ بندھن بوجھ بن جائے، تو دین میں اسے توڑنے یا ختم کرنے کی بھی اجازت ہے۔ یہ ضرور ہے کہ جائز کاموں میں اسے ناپسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے، لیکن اس سے منع نہیں کیا گیا۔
شادی کا بندھن بوجھ بننے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں سے ایک بڑی وجہ بے جوڑ شادی کا ہونا بھی ہے۔ ان بے جوڑ شادیوں میں عمروں کا فرق اور سماجی و مالی حیثیت و مرتبہ نمایاں ہیں۔ بعض اوقات اولاد نہ ہونا بھی طلاق کا باعث بن جاتا ہے۔ خاوند یا بیوی میں سے کسی ایک کی بے توجہی یا کسی دوسری عورت یا مرد میں دل چسپی بھی طلاق پر منتج ہو جاتی ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو، جب فریقین یہ سمجھ لیں کہ اب ہمارا اکٹھے رہنا ممکن نہیں رہا، تو بہتر ہے کہ ایک دوسرے سے علاحدگی اختیار کرلیں، تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جاسکے۔ کیوں کہ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ دوسری جگہ شادی کی خاطر خاوند اپنی بیوی کو قتل کر دیتا ہے، یا بیوی اپنے خاوند کو مار دیتی یا مروا دیتی ہے۔ پکڑے جانے کی صورت میں بقیہ زندگی جب جیل میں گزرتی ہے، تو شادی کا نشہ اُترتا ہے، جب مطلوبہ انسان سے شادی بھی نہیں ہوپاتی اور ایک کے قتل ہونے کے بعد دوسرا جیل پہنچ جاتا ہے۔ یوں اولاد در بہ در ہو جاتی ہے۔ دولت اور جائیداد دوسروں کے قبضے میں چلی جاتی ہے، جب کہ قاتل طویل سزا پاتا ہے یا تختۂ دار پر لٹک جاتا ہے۔
یہ بات بڑی شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں خواتین کی طرف سے خلع لینے کے کیسوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ وجوہات کچھ بھی ہوں، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر سوچ بچار کی ضرورت ہے۔
اسلام نے مطلقہ عورت کے بھی حقوق مقرر کیے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اسے بیک وقت تین طلاقیں ہاتھ میں پکڑا کر گھر سے باہر نکال دیا جائے۔ مطلقہ خاتون کا خاوند کے گھر میں عدت کی مدت گزارنے کا حق ہے۔ جب وہ خاوند کے گھر سے طلاق کی وجہ سے رخصت ہو جائے، تو اُس وقت تک اُس کا سابقہ خاوند اُس عورت کے نان و نفقہ کا ذمے دار ہے، جب تک وہ کہیں اور شادی کرلے۔ یہی صورتِ حال اُن بچوں کے معاملے میں ہے، جو ماں کے پاس رہیں گے۔ اگر مرد نان و نفقہ کی ذمے داری اُٹھانے سے انکار کرے، تو عورت عدالت کے ذریعے اپنے سابق خاوند سے اپنا حق لے سکتی ہے۔
ہمارے ہاں قانون سے لاعلمی یا معاشرتی دباو کی وجہ سے اکثر خواتین طلاق کے بعد اپنا حق نہیں لے پاتیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات خاوند اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے، یا بیوی کسی وجہ سے ناراض ہوکر اپنے میکے بیٹھی ہوتی ہے اور خاوند اُس کے پیچھے طلاق بھیج دیتا ہے۔ مزید المیہ یہ ہوتا ہے کہ خاوند اس بے چاری کا جہیز بھی ضبط کر لیتا ہے۔ لڑکی کے والدین پنچایتی طور پر اور برادری کے ذریعے جہیز واپس لینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہ بندہ اَکڑ جاتا ہے۔ کسی کی نہیں مانتا۔ ہر ایک کو صاف انکار کر دیتا ہے۔ مجبوراً لڑکی کے والدین عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ ہمارے عدالتی نظام کا تو آپ کو پتا ہی ہے۔ کیس کا فیصلہ ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ لڑکی والے جہیز کی جو لسٹ عدالت میں جمع کرواتے ہیں، لڑکا اُن میں سے بہت سی چیزوں کا انکاری ہو جاتا ہے۔ ہمارے وکلا حضرات بھی جان بوجھ کر سامان جہیز کی لسٹ میں بہت سی اشیا کا اضافہ کر دیتے ہیں، جنھیں ثابت کرنے کے لیے جھوٹی گواہیاں دلوائی جاتی ہیں۔ دوسری طرف مرد کی طرف سے گواہ پیش ہوتے ہیں، جو عورت کی طرف سے پیش کیے گئے گواہوں کو جھٹلاتے ہیں۔ معاملہ اُلجھ جاتا ہے اور کیس کا فیصلہ مزید لیٹ ہو جاتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اور رُخ بھی ہے۔ بعض لالچی والدین کسی شریف انسان کو اس حد تک تنگ کرتے ہیں کہ وہ طلاق دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پھر اُس بندے کے خلاف نان و نفقہ کے علاوہ جہیز کی واپسی کا کیس بھی کر دیتے ہیں، خواہ اُنھوں نے بیٹی کو جہیز میں ایک سوئی بھی نہ دی ہو، بل کہ شادی کے بدلے بندے سے موٹی رقم بھی بٹوری ہوئی ہو۔ عدالت میں جب کیس جاتا ہے، تو فریقین کو اپنا موقف درست ثابت کرنے میں سخت دشواری ہوتی ہے۔ وکیلوں کی فیس کے علاوہ گواہوں پر بھی اچھا خاصا خرچہ ہوجاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جہیز کی لسٹ کو غیرمتنازع اور مستند صورت دی جائے، تاکہ پہلی پیشی پر ہی جج صاحب کے سامنے اصل صورتِ حال واضح ہوجائے اور اُسی وقت کیس کا فیصلہ کر دیا جائے۔
ہمارے ملک میں نکاح نامہ 26 شِقوں پر مشتمل ہے، جن میں لڑکے اور لڑکی کے ضروری کوائف کے اندراج کے علاوہ شناختی کارڈز نمبر، حق مہر کی رقم، دیگر شرائط اور گواہوں کا نام و پتا اور اُن کے دست خط ثبت ہوتے ہیں۔ اگر اس نکاح نامے میں ایک 27ویں شِق کا اضافہ کر دیا جائے، تو بعد میں پیدا ہونے والاجہیز کا جھگڑا آسانی سے سلجھ سکتا ہے۔ اس شِق میں یہ درج کیا جائے کہ آیا دولھے نے جہیز قبول کیا ہے یا نہیں؟ اگر جواب ’’ہاں‘‘ میں ہو، تو نکاح نامے کی پشت پر شق 27 جُز (ب) میں اس سامان کی مکمل تفصیل مع قیمت سکہ رائج الوقت درج کی جائے۔ اگر حق مہر، سونا چاندی کے زیورات اور جیب خرچ کی شرائط کا اندراج نکاح نامے میں ہوسکتا ہے، تو جہیز کا اندراج بھی لازمی ہونا چاہیے کہ یہ بہت اہم ضرورت ہے۔ نکاح نامے پر اندراج اور گواہوں کے دست خط کے بعد یہ ایک مستند دستاویز بن جائے گی، جس سے کوئی مرد مکر نہیں سکے گا اور کوئی خاتون جھگڑے کی صورت میں اپنی طرف سے جہیز کی لسٹ میں اضافہ نہیں کرسکے گی۔ اس طرح عدالت کو بھی کیس کا فیصلہ کرنے میں زیادہ کا وقت نہیں لگے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عدالتوں پر دباو کم ہوجائے گا۔ بے جا اصراف کی بچت ہو گی۔ حق دار کو اُس کا حق مل سکے گا اور جھگڑے کا فیصلہ آسانی سے ہو سکے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے