سوئے سکردو (ٹورسٹوں کی اقسام)

Blogger Khalid Hussain

سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے
یہ آرزو ہے … مرے ساتھ تو سفر کرتا
قارئین! ٹورسٹوں کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں: پکے (آرلے)، کچے (پارلے) اور وچکارلے۔
پکے ٹورسٹس وہ ہوتے ہیں، جو آندھی آئے یا طوفان، ہنیریاں جھلن یا ہو جائے سرسام، بے آرامی ہو یا ہو آرام، وہ موقع محل دیکھ کر چل پڑتے ہیں، یعنی ’’گڈی چلے نہ چلے، سپیڈ اک سو نوے۔‘‘ کیوں کہ اُنھیں ہر حال میں جانا ہوتا ہے۔ کے ٹو پر جانے والوں میں سے ہر سال چار میں سے ایک شخص زندہ واپس نہیں آتا ہے، تو کیا لوگوں نے کے ٹو پہاڑ پر چڑھنا چھوڑ دیا ہے؟ بالکل نہیں……! بل کہ اُلٹا ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ’’رسک فیکٹر‘‘ تو بہ ہرحال ہر جا ہوتا ہے۔ شمالی علاقہ جات کے پہاڑی سفر میں یہ رسک فیکٹر ہمارے یہاں میدانی علاقوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہوتا ہے کہ بارشوں کے موسم سے پہلے پہلے اُن علاقوں کا رُخ کیا جائے۔ کیوں کہ اُن علاقوں میں اصل خطرہ بارش کے موسم میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے ہوتا ہے۔ دوسری بات، بہت سے ایریاز ایسے بھی ہیں جہاں کی چکنی مٹی بارش کے بعد بہت ’’سلپری‘‘ ہو جاتی ہے۔ گاڑی دائیں طرف موڑنے کی کوشش کریں، تو وہ بائیں طرف گھوم جاتی ہے ۔ سٹیئرنگ کو کھبے پاسے گھمائیں، تو وہ سلپ ہو کر سجے پاسے تلک جاتی ہے…… اور پھر بائیک پر توبندہ اور بھی زیادہ خجل خوار ہوتا ہے۔ ساری مٹی بائیک کے مڈگارڈوں میں ایلفی کی طرح پکی چپک کر بیٹھ جاتی ہے۔ بائیک چلانا تو درکنار اُسے گھسیٹنا بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے…… اور پھر اس سال تو بارشوں سے ہونے والی تباہی نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بادل پھٹ رہے ہیں، ’’گلوف‘‘ (GLOF) کے زیرِ اثر برفیلی جھیلیں دھماکے سے اُبل کر نچلے علاقوں میں قیامت خیز تباہی و بربادی پھیلا رہی ہیں۔ یہ وہ تباہی ہے جس کے متعلق کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ پکے ٹورسٹ نو آموز ٹورسٹس کے مقابلے میں زیادہ تر اگا پچھا ویکھ کے، موسم کی صورتِ حال کو مدنظر رکھ کر اور ساری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے چلتے ہیں۔
بورے والا ٹریکرز کلب کی ٹیم کے زیادہ تر دوست پکے ٹورسٹ ہیں۔ لہٰذا اُنھیں جانا ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم نے ہر سال کی طرح اس سال بھی بارشوں کے سیزن سے پہلے پہلے اُن علاقوں کی طرف رُخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میرے خیال میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں جانے کا بہترین وقت 15 مئی سے لے کر 15 جون تک ہوتا ہے۔ گرچہ ان دنوں میں وہاں پر پھل فروٹ ابھی کچے ہوتے ہیں۔ بس رے کھے کے خوبانی کی ایک دو اقسام، شہتوت یا پھر زیادہ تر چیری کھانے کو ملتی ہے ۔ جو ہمارے جیسے تاتاریوں کے لیے یقینا ایک بڑا نقصان ہے…… مگر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بارشیں نہ ہونے یا بہت کم ہونے کی وجہ سے زیادہ تر راستے کھلے اور نسبتاً زیادہ محفوظ ملتے ہیں۔ موسمی شدت کا آغاز زیادہ تر 15 جون کے بعد جا کر ہوتا ہے۔
آمدم برسرِ مطلب، بات ہو رہی تھی ٹورسٹوں کی اقسام کی۔ کچے ٹورسٹ وہ ہوتے ہیں جو ’’دل کیتا تے چل پیے، دل کیتا تے نہ چلے!‘‘ یعنی اُن کا جانا یقینی نہیں ہوتا۔ اُن کے مقابلے میں پکے ٹورسٹ تو سارا سال گن گن کے دن گزارتے ہیں۔ چھے ماہ تک اپنے سالانہ کیے گئے ٹور کا مزا لیتے ہیں، اُس ٹور کی تصاویر اَپ لوڈ کر کے اور اس کے متعلق کچھ لکھ کر یا پھر دوستوں میں اُس ٹور کی باتیں کر کرکے گزارتے اور اگلے چھے ماہ سالانہ ٹور کی پلاننگ کرنے پر گزار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے جلی بسترے ( رختِ سفر) سیدھے کرتے ہیں۔
اور ’’وچکارلے ٹورسٹ‘‘…… یہ وہ ٹورسٹ ہوتے ہیں، جو ہمیشہ ففٹی ففٹی ہوتے ہیں۔ نہ اِدھر کے اور نہ اُدھر کے۔ جن کا جانے کو دل بھی کرتا ہے، مگر سفر کی صعوبتوں سے ڈرتے بھی ہیں۔ وہ آپ کو پچھلے سال میں ہونے والے مختلف حادثات کا ذکر کر کے ڈرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ بجٹ کا بہانہ بناتے ہیں۔ یہ بھی کَہ دیتے ہیں کہ یار میری سواری کم زور ہے۔ اس کے انجن کا کام ہونے والا ہے ۔ یا پھر اس کے ٹائر پرانے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جو ہر سال آپ کے ساتھ سفر پر جانے کا وعدہ کرتے ہیں اور پھر عین وقت پر کسی خاص الخاص اور خفیہ مجبوری کا بہانہ بنا کر سلپ کر جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ماٹو ہی
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
کے مصداق ہوتا ہے۔
اگر آپ بائیک پہ ہیں، تو اپنے دوستوں کے ساتھ ایک گروپ کی شکل میں سفر کریں۔ اپنے آگے پیچھے چلنے والے دوستوں کی مکمل خبر رکھیں۔ دُکھ سکھ کی گھڑی میں اُن کا مکمل ساتھ دیں، تو ہی ٹور کا مزا ہے۔ اور اگر آپ اپنی گاڑی پر ہیں، تو ایک گاڑی میں چار سے زیادہ بندے نہ بٹھائیں۔ کوشش یہی ہونی چاہیے کہ آپ کے ساتھ آپ کے علاوہ باقی دوست بھی اچھے ڈرائیور ہوں۔ جو دو دو گھنٹے کے وقفے سے اپنی سیٹ تبدیل کر کے سفر کریں۔ کبھی ایک شخص ڈرائیونگ کرے، تو دو گھنٹے کے بعد تھوڑا ریسٹ کرنے کے بعد دوسرا دوست گاڑی چلائے۔ ڈرائیونگ کے دوران میں جلد بازی سے ہر صورت احتراز کریں۔
سفر ہمیشہ اپنے سینئرز کے ساتھ اور اُن کی زیرِ نگرانی کریں۔ کبھی ’’وچکارلے‘‘ نہ بنیں، سفر کریں تو اسے انجوائے کریں…… ورنہ نہ کریں۔ ہاں دورانِ سفر آپ کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے، تو چپ چاپ واپس آ جائیں۔ تاکہ آپ کی پریشانی کا اثر دوسرے دوستوں پر نہ پڑے۔ پریشانی آپ کی اپنی ہے، نہ کہ دوسروں کی۔ پورا سال گزرنے اور ایک لمبے انتظار کے بعد آپ شمالی علاقہ جات کے کسی دور دراز مقام پر پہنچتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ دوبارہ زندگی آپ کو وہاں آنے کا موقع ہی نہ دے۔ ایسے میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ آپ یا وہ مذکورہ شخص چپ چاپ اپنی دکھ بھری کتھا سنائے بغیر واپس چلا آئے۔ اس کے لیے زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ واپسی پر بائی بس سفر کرے۔ اگر اُس کے پاس اپنی بائیک ہے، تو اُسے بھی اپنے ساتھ بس پر لوڈ کر لے۔ کبھی واپسی اکیلا اپنی بائیک چلا کر نہ آئے۔
ٹورسٹوں کی ایک ضمنی قسم ’’لپیٹو ٹورسٹ‘‘ ہوتے ہیں۔ اُنھیں اپنی کسی گھریلو مجبوری یا پھر کسی اور وجہ سے جلد واپس لوٹنا پڑتا ہے، تو ایسے میں اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اکیلے واپس جانے کی بہ جائے اپنے دوستوں میں سے کم از کم دو چار کو تو اپنے ساتھ لپیٹ کر واپس لے جائیں۔ اپنے ساتھ سفر کرنے والے ایسے لپیٹو دوستوں سے ہوش یار رہیں۔ کبھی اُن کی چکنی چپڑی، گول گول اور لپیٹو باتوں میں نہ آئیں۔ زندگی میں بار بار ایسے علاقوں میں نہیں جایا جا سکتا۔ بہت سے ایسے دور دراز علاقے ہیں، جہاں انسان اپنی زندگی میں فقط ایک بار ہی جا سکتا ہے۔ جس طرف بھی جائیں، کوشش کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ علاقہ گھوم کر آئیں۔ لپیٹو کی کوئی مجبوری ہوسکتی ہے آپ کی نہیں۔ آپ ایک لمبا سفر کرکے کئی دن تک بائیک یا گاڑی چلا کر اس دور دراز علاقے میں پہنچتے ہیں۔ اور پھر کسی لپیٹو کی چکنی چپڑی اور بعض اوقات خوف زدہ کرنے والی گنجلک باتوں میں آ کر واپس مڑ آتے ہیں، تو آپ کو سیانا کون کہے گا۔ لپیٹو کا مقصد تو حل ہو جاتا ہے۔ اُسے اکیلے واپس نہیں آنا پڑتا ہے۔ نقصان تو آپ کا ہوتا ہے۔ لہٰذا کم از کم آیندہ لپیٹوؤں سے ہوش یار رہیں۔
کبھی کسی ایسے دوست کے ساتھ سفر نہ کریں جو بات بات پر منھ بسور لے یا پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی الگ سے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے۔ وہ خود تو تنہا ہو گا ہی ساتھ میں آپ کو بھی خجل کرے گا۔ لپیٹو کی مثال اس گڈی اُڑانے والے شخص کی سی ہے، جس کا گڈی اُڑانے کا واحد مقصد کسی دوسرے کی ڈور پر حملہ کر کے اُسے توڑنا اور پھر اپنی ڈور کے ساتھ ’’چموڑ‘‘ کر واپس اپنی چھت پر لانا ہوتا ہے۔ گڈی اُڑانے سے پہلے ہی اس کے سامنے اپنا مقصد واضع ہوتا ہے ۔
لہٰذا ’’نقالوں سے ہوش یار‘‘ رہ کر آپ اپنا اُلو سیدھا رکھیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے