سوات کی فضائیں ہمیشہ اپنی خوب صورتی، ثقافت اور مزاحمت کی داستانوں سے گونجتی رہی ہیں۔ انھی فضاؤں میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی، جب کالام کے مقام پر ایک عظیم جرگہ منعقد ہوا۔ یہ جرگہ دراصل تحصیلِ بحرین کی تمام اقوام (توروالی، گاؤری، گوجر، پشتون، اوشوجو اور کھوار) کی ایک اجتماعی صدا تھا، جو اپنے وسائل، اپنی زمین، اپنی زبان اور اپنی بقا کے لیے یک جا ہوئیں۔
یہ جرگہ دراصل ’’امن جرگہ‘‘ کے زیرِ اہتمام ہوا اور اس میں تحصیلِ بحرین کے طول و عرض سے سیکڑوں نمایندے شریک ہوئے۔ شرکا میں بزرگ، نوجوان، ماہرینِ تعلیم، خواتین نمایندے، ماحولیاتی کارکن، سماجی راہ نما اور مختلف زبانوں کے دانش ور شامل تھے۔ اُن سب کی متفقہ رائے تھی کہ ’’بالائی پہاڑی سوات‘‘ کا اصل مسئلہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور فیصلہ سازی میں مقامی لوگوں کی عدم شمولیت ہے۔ اس علاقے کو مقامی طور پر ’’سوات کوہستان‘‘ یعنی سوات کا کوہستان بھی کہا جاتا ہے، اس لیے یہ اجتماع ’’سوات کوہستان قومی جرگہ‘‘ کے نام سے منعقد ہوا۔
سوات کوہستان، ضلع سوات کے کل رقبے کا تقریباً 60 فی صد حصہ ہے۔ اس علاقے میں دریائے سوات کے سب سے بلند چشمے پھوٹتے ہیں، یہاں کے جنگلات پورے خطے کی آکسیجن ہیں اور یہاں کے گلیشیر پورے وادیِ سوات کی زندگی کا سرچشمہ ہیں…… مگر یہی خطہ، جو سوات کی سیاحت، جنگلات، پانی اور توانائی کا سب سے بڑا منبع ہے، ترقی کے نقشے میں ہمیشہ سب سے پیچھے رہا ہے۔
یہاں کے لوگ صدیوں سے ان پہاڑوں کے محافظ رہے ہیں، مگر آج انھی کو اپنی زمین، اپنے دریا اور اپنی زبان کے تحفظ کے لیے مسلسل مزاحمت کرنی پڑ رہی ہے۔ گذشتہ 20 برسوں میں تین تباہ کن سیلابوں نے اس علاقے کو بارہا اُجاڑا، مگر بہ حالی کے منصوبے کبھی یہاں نہیں پہنچے ۔
٭ انتظامی ناانصافی، اَپر سوات کے قیام پر تحفظات:۔ جرگے کا پہلا اور بنیادی نکتہ انتظامی ناانصافی سے متعلق تھا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے نیا ضلع ’’اَپر سوات‘‘ قائم کیا، تو تحصیلِ بحرین کے عوام کو مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ ضلع کا ہیڈکوارٹر مدین، باغ ڈھیرئی یا بحرین میں قائم کیا جائے، تاکہ دور دراز کے علاقوں کو سہولت حاصل ہو۔ اگر مکمل ہیڈکوارٹر یہاں ممکن نہیں، تو کم از کم اہم دفاتر اور ضلعی حکام کا ایک حصہ یہاں مستقل طور پر موجود ہونا چاہیے۔ مقامی رہ نماؤں نے خبردار کیا کہ اگر فیصلے بند کمروں میں کیے گئے اور پہاڑی علاقوں کی عوامی رائے کو نظر انداز کیا گیا، تو یہ عمل عوامی اعتماد کو مزید مجروح کرے گا۔
٭ تعلیمی پس ماندگی:۔ سوات کوہستان کی تعلیمی پس ماندگی اس کی سب سے نمایاں اور دردناک حقیقت ہے۔ یونین کونسل مانکیال، بالاکوٹ، بشیگرام اور اُتروڑ میں نہ صرف تعلیمی اداروں کی کمی ہے، بل کہ اساتذہ اور بنیادی سہولیات کا فقدان بھی عام ہے۔ مدین سے اوپر کے علاقے میں لڑکیوں کے لیے تعلیم تقریباً ناپید ہے۔ جرگے کے مقررین نے مطالبہ کیا کہ کالام میں سوات یونیورسٹی کا کیمپس فوری طور پر قائم کیا جائے اور تحصیل بھر کے تمام اسکولوں میں اساتذہ کی مستقل تعیناتی ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ تعلیم نہ صرف غربت اور پس ماندگی کے خاتمے کی کنجی ہے، بل کہ مقامی قیادت اور باشعور شہری پیدا کرنے کا واحد ذریعہ بھی ہے۔
٭ ماحولیاتی خطرات اور مقامی مزاحمت:۔ دریائے سوات، جو اسی خطے کے گلیشیرز سے نکلتا ہے، اَب سرکاری اور بین الاقوامی منصوبوں کی زد میں ہے۔ درال، گورکین مٹلتان، گبرال-کالام، آسریت-کیدام اور مدین ہائیڈرو پاؤر منصوبے ایسے ترقیاتی کام ہیں، جنھیں مقامی آبادی ’’بے مشاورت منصوبے ‘‘ کہتی ہے اور اپنی زمین اور ماحول کے لیے آفات سمجھتی ہے۔ انھوں نے ’’مدین ہائیڈرو پاؤر پراجیکٹ‘‘ کے خلاف آبائی توروالی کمیونٹی کی مزاحمت کی مکمل حمایت کی۔ ’’دریائے سوات بچاؤ تحریک‘‘ کی 14 ماہ طویل پُرامن جد و جہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جو توروالی برادری کی قیادت میں مدین کے مقام پر جاری ہے اور کہا گیا کہ یہی تحریک ماحولیاتی انصاف کی علامت ہے۔ شرکا نے کہا کہ یہ منصوبے مقامی لوگوں کی زمینوں اور دریاؤں پر قبضے کے مترادف ہیں۔ کیوں کہ عوام کو مشاورت میں شامل کیا گیا اور نہ معاوضہ ہی دیا گیا۔
٭ جنگلات کا بحران:۔ سوات کوہستان کے گھنے دیار، چیڑ اور فر کے جنگلات کبھی اس خطے کی شان سمجھے جاتے تھے، مگر اَب کٹائی، اسمگلنگ اور قبضہ مافیا نے انھیں خطرے میں ڈال دیا ہے۔ شرکا نے اس حقیقت کی نشان دہی کی کہ نئے قوانین کے تحت مقامی لوگوں کو جنگلات پر ملکیتی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے، جس سے ان کا فطری تحفظانہ کردار ختم ہو گیا ہے۔ جرگے نے مطالبہ کیا کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے مقامی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں اور سردیوں میں متبادل توانائی، مثلاً: سولر، بائیو ماس یا مائیکرو ہائیڈل، فراہم کی جائے، تاکہ لکڑی پر انحصار کم ہو۔
٭ سیاحت اور معیشت:۔ سوات کوہستان کی معیشت میں سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سیاحت ’’غیر مقامیوں کے منافع‘‘ کا ذریعہ بن چکی ہے۔ کالام، مانکیال، جبہ اور بیوں جیسے علاقوں میں سیکشن 4 کے تحت زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں اور مقامی لوگوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ شرکا نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاحت کی ترقی مقامی لوگوں کی شمولیت اور تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ انھوں نے مثال دی کہ ’’اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘‘ میں کالام اور بحرین کے کسی شہری کو ملازمت دی گئی اور نہ نمایندگی، جو واضح طور پر ایک استحصالی رویہ ہے۔
٭ بنیادی ڈھانچا اور صحت:۔ بحرین تا کالام روڈ، جو سیاحت اور تجارت کی واحد بڑی شریان ہے، 2010ء کے سیلاب کے بعد ابھی تک مکمل بہ حال نہ ہوسکی۔ کئی پل تباہ ہیں اور سڑک جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں صورتِ حال نہایت خراب ہے۔ بحرین، مدین اور کالام کے اسپتالوں میں جدید سہولتیں اور عملہ دست یاب نہیں۔ جرگے نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایک جدید ضلعی اسپتال قائم کرے اور این ایچ اے فوری طور پر سڑکوں کی مرمت کا عمل مکمل کرے۔
٭ زبان و ثقافت کا تحفظ:۔ سوات کوہستان اپنی لسانی تنوع کے لیے معروف ہے۔ توروالی، گاؤری، گوجری، پشتو اور کھوار یہاں کی زندہ زبانیں ہیں۔ جرگے نے خوشی کا اظہار کیا کہ 2023ء میں توروالی، گاؤری اور گوجری زبانوں کو مردم شماری میں شامل کرنے کا مقدمہ جیت لیا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ یہ زبانیں پرائمری نصاب کا حصہ بنائی جائیں۔ مزید برآں، سوات یونیورسٹی میں زبان و ثقافت کا تحقیقی مرکز قائم کرنے اور ’’خیبر پختونخوا ریجنل لینگویجز پروموشن اتھارٹی‘‘ کو فعال کرنے پر زور دیا گیا، تاکہ یہ زبانیں محض بقا نہیں، بل کہ فروغ بھی پائیں۔
٭ ماحولیاتی تبدیلی اور خطرات:۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ سوات کے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے مستقبل میں پانی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن، سیلابوں میں اضافہ اور زمینی کٹاؤ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ شرکا نے مطالبہ کیا کہ حکومت مقامی ماحولیاتی منصوبوں کے لیے کلائمٹ فنڈز بہ راہِ راست کمیونٹیوں کو فراہم کرے، تاکہ وہ اپنی زمینوں اور دریاؤں کو خود محفوظ بناسکیں۔
٭ اختتامیہ:۔ سوات کوہستان قومی جرگہ دراصل عوامی بیداری کی علامت تھا۔ یہ جرگہ کسی حکومت کے خلاف نہیں، بل کہ ایک منصفانہ، پائیدار اور شراکتی ترقی کے حق میں ایک اجتماعی اعلان تھا۔ اختتامی اعلامیے میں ایک بزرگ نے کہا: ’’ہم ترقی کے دشمن نہیں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ترقی ہماری زمین، ہمارے دریا اور ہمارے بچوں کے مستقبل کو نگلنے کے بہ جائے ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔‘‘
یہ جرگہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شمالی پاکستان کے پہاڑوں میں بیدار ہونے والی یہ آوازیں صرف مقامی نہیں، بل کہ یہ ماحولیاتی انصاف، ثقافتی تحفظ اور شمولیتی ترقی کے لیے ایک عالمی پیغام ہیں۔ مزاحمت اور جدوجہد تسلسل چاہتی ہیں۔ اگر وقتی طور پر آواز اٹھائی جائے اور پھر مستقل طور پر جد و جہد نہ کی جائے، تو یہ آواز نقارخانے میں توتی کی آواز ثابت ہوتی ہے، جس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










