
تحریر: فیض علی خان فیضؔ (سوات)
السلام علیکم، طلال چودھری صاحب!
امید ہے، پُرامن علاقے میں رہنے کی برکت سے سکون سے ہوں گے۔ مَیں نے ایک طرف اپنی سیاسی معلومات میں اور دوسری طرف آپ کی شہرت میں کمی کی وجہ سے ایمل ولی خان کے خلاف آپ کی شان کے مناسب بیان دینے کی وجہ سے آپ کو صرف نام سے آج ہی پہچان لیا۔
در اصل آپ کے بیان کے ردِ عمل میں عرض یہ کرنا تھا کہ مَیں ایمل ولی خان کی ذاتی شخصیت کے دفاع کی بہ جائے ایمل ولی خان کے خلاف آپ کے بیان کے تناظر میں کچھ وضاحتیں کرنا چاہتا ہوں، جو آپ نے اپنی ذاتی لالچ کے لیے آخرت کو داو پر لگاکر امریکہ اور اسرائیل تک کے صاحبِ اختیار لوگوں کی اشیرباد حاصل کرنے کے لیے ایک منقول جملے کی شکل میں بیان کے نام پر پوسٹ کروایا ہے، جس کے کمنٹس میں آپ کے خلاف ردِ عمل کے طور پر بہت نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا، تو سوچا کہ چلو، میں ذرا پارلیمانی لہجے میں ردِ عمل کا اظہار کردوں!
جنابِ من! ایمل ولی خان اس عظیم انسان کا پوتا ہے، جس کو اسٹیبلشمنٹ کے ایک سابق سربراہ نے دو چار اور بندوں سمیت خط لکھا تھا کہ ہم آپ میں سے ایک کو صدرِ پاکستان کا منصب سونپنے کے لیے نام زد کرنا چاہے ہیں۔ آپ مقررہ تاریخ پر انٹرویو کے لیے تشریف لے آئیں۔اُسی سربراہ کی اپنی زبان سے مَیں نے خود سنا ہے کہ ولی خان مرحوم نے اُس خط کے دوسرے سائیڈ پر ایک جواب لکھا تھا کہ مَیں ایسی صدارت پر تھوکتا ہوں، جس کے لیے آپ کو انٹریو دینا پڑتا ہو! اور آپ کے لوگوں نے اقتدار کے لیے کون کون سے منحوس اور شرم ناک حربے استعمال نہیں کیے……؟
چودھری صاحب! یہ بات حقیقت ہے کہ وہ کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکتے۔ کیوں کہ یہ سیٹ لڑنا اُن کے نوکروں کے بھی شایانِ شان نہیں۔ فارم 47 کی پیداوار بننے کی اس گھرانے کی قیادت نے کبھی کوشش تو کیا سوچا بھی نہیں، اور پھر بھی تمام تر انتظامی حربوں اور دھائیوں پر مشتمل ان کے انتخابی حریفوں کی خود ساختہ سیاسی کمر کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے باوجود بھی وہ ساٹھ ،ستر ہزار ووٹ لے کر آپ جیسے متعصب قوم پرست کو ثابت کرتے آرہے ہیں کہ مذکورہ بالا وجوہات، سیٹ اپنے ہی پشتون بھائی عمران خان کی نام زد کردہ بے کار قیادت پر ان ’’برین واشڈ‘‘ پشتونوں کے ذریعے انتخابی معرکے ہارتے چلے آرہے ہیں، جو کہ دل میں قسم لے کر انتخابی عمل میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے آرہے ہیں کہ ’’عمران خان کے نام زدکردہ گدھے کوبھی ووٹ دیں گے!‘‘ خواہ نتیجہ قوم اور دھرتی کی بربادی اور خود عمران خان کے ساتھ نام زد کردہ اور اسمبلی تک پہنچنے والے اُمیدوار خیانت کی صورت میں کیوں نہ ہو، جن کی خواہش ہے کہ عمران خان ہمیشہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتے رہیں اور اُن کے ساتھ عوامی ہم دردی کا ثمرہ بہ ظاہر ان کے دوستوں اور اصل میں دشمنون کو آزاد فضا میں مزے سے ملتارہے۔
لیکن چودھری صاحب! آپ اپنی سیاسی پوزیشن واضح کریں، آپ کی مرکزی قیادت میں اتنا دم ہے کہ اس دھرتی کے کسی بھی امیدوار کوہرا سکے؟
ایمل ولی خان تو بہ قولِ شخصے: ’’نام ہی کافی ہے!‘‘ اُس کے خلاف بات کرنے والے کو اگر عزت نہیں، تو کم از کم اُس کا نام لینے سے شہرت ضرور ملتی ہے۔ خواہ وہ شہرت پشتو کی کہاوت ’’محراب میں گندگی کرنے‘‘ (د جمات پہ محراب غول کول) کے مترادف ہی کیوں نہ ہو۔
ہاں! ایک اور بات یاد آگئی…… آپ کے موجودہ ’’صاحبِ سینتالیس‘‘ وزیرِ اعظم مع ایک اور سیاسی طور پر محنتی اور بارسوخ مقامی ’’صاحبِ سینتالیس‘‘ کو پی ٹی آئی کے سیلاب نے ایک غریب امیدوار کے ذریعے مینگورہ کے سیٹ 2018ء کے انتخابات میں شکست دی تھی، جو 2013ء میں اپنی ناقص کارکردگی کے نتیجے میں متوقع شکست کے خوف سے دوسرے حلقہ میں ہجرت کرگئے تھے۔ اندھا سیاسی سیلاب تو ایسے لوگوں کو بھی بڑے بڑے سیاسی پہلوانوں پر ترجیح دے کر مسلسل تین مرتبہ منتخب کرواتا ہے، جس سے ہمارے علاقے کا تعمیری لحاظ سے جو نقصان ہوا ہے، وہ عوام تیسری مرتبہ بھگت رہے ہیں…… لیکن اس منتخب ایم این اے کو ہمارے مقامی ’’صاحبِ سینتالیس‘‘ سے زیادہ معتبر نہیں سمجھتا۔ کیوں کہ بارسوخ اور عوام کے کام آنے والے سیاست دان ہیں۔
ہار جیت میں ذلت اور عزت کا تصور ہی غیر سیاسی ہے، جو کہ صرف آپ لوگوں ہی کی ذہنیت ہے۔
جناب! مَیں آپ کی پوسٹ پر کمنٹس نہیں کرنا چاہتا۔ کیوں کہ اتنا لمبا کمنٹ شاید کوئی پڑھنا نہ چاہے اور نہ میں کبھی سیاسی نظریات میں اختلاف رائے رکھنے کی وجہ سے اپنے مسلمان اور خصوصاًپشتون بھائیوں کو تقسیم کرنے والوں کی خواہش، کوشش اور مقصد پورا کرنے کی غلطی کرتا ہوں۔ کیوں کہ آپ سیاسی لوگ، بڑے لوگ ہیں۔ اس قسم کے قابلِ ندامت الفاظ کے باوجود ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوتے آرہے ہیں، تو ہم کیوں آپ میں سے کسی ایک کے لیے ایک دوسرے کے دشمن بن بیٹھیں…… لیکن مجھے اُن عظیم لوگوں کے کمنٹس نے بیماری کی حالت یہ لمبا، چوڑا کھلا خط لکھنے پر مجبور کیا، جنھوں نے سیاسی اختلاف کے باوجود اپنے خیالات کا اظہار آپ کے خلاف اور ایمل ولی خان کے حق میں انتہائی شدتِ احساس کے ساتھ کیا ہے۔
اُمید ہے سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ خط آپ کو کوئی نہ کوئی کاپی کرکے سینڈ کر ہی دے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خط آپ اور آپ جیسے سیاسی کم زوری کے شکار معززین کے لیے سیاسی بصیرت کا ذریعہ بنے اور ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے عوام اور اداروں کو مناسب قیادت کے چناو کا بھی شدت سے احساس ہوجائے۔
شاید اس خط کو لکھنے کے لیے اللہ نے میری چوتھے دن مجھ سے ڈینگی وائرس کو شکست دلواکر ’’نظر آنے والے وائرس‘‘ سے نبرد آزمائی کے لیے میرے اندر آپ کے بیان کی ضد میں اُن( ایمل ولی خان ) کی مدد کے لیے خصوصی سافٹ وئیر ایکٹویٹ کیا ہو، جو ہمیشہ اس ملک کی پارلیمانی اور آئینی ڈھانچے کے احترام کی بہ حالی کی بات کرتے آرہے ہیں۔ ورنہ اتنا دم ڈینگی کے بیمار میں کہاں ہوتا ہے ؟ کیوں کہ مَیں ابھی تک دوستوں کے فون کالز لینے،کمنٹس میں دعاؤں پر شکریہ کے طور پر خود کمنٹس کرنے یا ری ایکشن تک کرنے سے معذور تھا۔ اب اس وقت صبح کے 5 بجنے میں 20 منٹ باقی ہیں۔ جسمانی تکلف کی وجہ سے ساری رات نیند نہیں آئی۔ آج اپنی خوشی سے اس وقت آپ سے یہ خط لکھ کر مخاطب ہوں۔
آخری جملہ بوریت کو کم کرنے کے لیے از راہِ تفنن آپ کے بیان کی مناسبت سے مناسب سمجھ کر لکھ چکا، پھر بھی اگر کو مناسب نہ لگا، تو کاپی پیسٹ کرکے ایڈیٹ کردیں اور خط کو دوبارہ سے پڑھ کر خود فیصلہ کریں کہ اس میں کون سی غیر ضروری بات ہے اور یہ بھی سوچ لیں کہ یہ تحریر کھلا خط ہے یا آئینہ……؟
آپ کا خیر اندیش
فیض علی خان فیضؔ
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










