سوئے سکردو (چوٹیوں کے نگر میں)

Blogger Khalid Hussain Borewala

آدمی وقت پر گیا ہوگا
وقت پہلے گزر گیا ہوگا
پیدایش سے لے کر موت تک کی مہلت کو انسان زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔ وقت کا دھارا چلتا رہتا ہے۔ کیلنڈر پر تاریخیں بدلتی رہتی ہیں۔ فطری توڑ پھوڑ جاری رہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فطرت کی رنگینیاں بھی اپنا رنگ جماتی رہتی ہیں۔ لوگ اس دنیائے فانی میں آتے ہیں اور قدرت کی طرف سے اُن کے لیے مقرر کردہ دن گزار کر چلے جاتے ہیں۔ ہر روز صبح کا سورج اپنے دامن میں نئی اُمنگیں، نئی آرزوئیں اور بہت سے سر بستہ راز لیے مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔ اُن میں سے کچھ اُمنگوں کو ترنگ مل جاتی ہے، کچھ سربستہ راز طشت از بام ہو جاتے ہیں…… جب کہ بقیہ سب کو وہ اپنے دامن میں سمیٹ کر دور، بہت دور کہیں اَن دیکھی منزلوں کی طرف لے جا کر چھپ جاتا ہے۔ یہ سلسلہ کروڑ ہا سال سے جاری و ساری ہے اور یہ اُس وقت تک جاری رہے گا، جب تک کہ اسے بنانے والا چاہے گا۔
بلتستان بھی وقت اور تاریخی اعتبار سے ہمیشہ بدلتا رہا ہے، بل کہ یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ زیادہ دیر پہلے کی بات نہیں۔ 1971ء کی جنگ میں بھارت نے پاکستان میں شامل بلتستان کے کچھ دیہاتوں اور برفیلے علاقوں پر قبضہ جما لیا تھا، جن میں وادئی چھوربٹ میں فرانو سے آگے والے چار دیہات، کچھ حصہ وادئی کھرمنگ کا (غالباً تین دیہات) اور پھر اس میں سیاچن گلیشئر کا کچھ علاقہ بھی شامل ہے۔ اب بھی بلتستان دو حصوں میں منقسم ہے۔ موجودہ بلتستان کا 80 فی صد پاکستان جب کہ 20 فی صد بھارت کے پاس ہے، جس کی وجہ سے بلتی لوگ بھی دو حصوں میں بٹ گئے ہیں۔
موجودہ بلتستان کے مشرق میں لداخ کا علاقہ ہے نوبراہ سمیت، شمال میں چینی ترکستان یعنی چینی صوبہ سنکیانگ جسے اب زینگیانگ کہا جاتا ہے۔ مغرب میں استور، شمال مغرب میں ہنزہ و گلگت کا علاقہ جب کہ جنوب میں کشمیر آتا ہے۔
بلتستان کا موجودہ علاقہ دنیا کے دو سب سے بڑے اور سب سے اونچی پہاڑی چوٹیوں والے سلسلوں کے بیچ میں ہے، جن کے نام ہمالیہ اور قراقرم ہیں۔ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ کی زیادہ تر اونچی چوٹیاں نیپال میں ہیں، جن کا شمار دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں بھی ہوتا ہے۔ جب کہ بلتستان کے ہمالیائی حصوں میں زیادہ بلند چوٹیاں نہیں۔ جب کہ اس کے مقابلے میں سلسلہ ہائے کوہ قراقرم کی بلتستان میں 20 تا 28 ہزار فٹ بلند چوٹیوں کی تعداد 150 ہے۔ جب کہ پورے جی بی میں ان کی تعداد 300 کے قریب ہے۔ سب سے بلند چوٹی ’’کے ٹو‘‘ ہے، جسے مقامی یعنی بلتی زبان میں ’’چھوگوری‘‘ کہا جاتا ہے۔ سطحِ سمندر سے جس کی بلندی 8611 میٹر یعنی 28251 فٹ ہے۔ یہ دنیا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی بھی ہے، جب کہ پہلی بلند ترین چوٹی نیپال میں ہے، جسے ’’ماؤنٹ ایورسٹ‘‘ کی چوٹی کہا جاتا ہے۔
دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کا تقریباً 70 فی صد بلتستان میں ہے۔ دنیا کے 40 سب سے بڑے برفانی گلیشیر بھی بلتستان میں آتے ہیں۔ جب کہ چھوٹے چھوٹے گلیشیر تو لاتعداد ہیں۔ ان میں سب سے بڑا گلیشیر سیاچن ہے، جو کم و بیش 75 کلو میٹر لمبا اور ساڑھے تین کلومیٹر چوڑا ہے۔ قطبین کے بعد یہ دنیا کا سب سے لمبا گلیشیر ہے۔ اس کے بعد بیافو، بالتورو یا بلترو اور ہسپر بڑے اور لمبے گلیشیر ہیں۔
بلتستان میں کچورا سے لے کر تھورگو تک پہاڑوں کے درمیان سب سے بڑا وسیع میدان اور کھلی جگہ ہے، جس میں سرفرنگا اور کٹپنا سمیت دنیا کے معروف سرد صحرائی علاقے سکردو کا پورا شہر بھی شامل ہے۔ سکردو کو بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
گلگت بلتستان کا کل رقبہ 72971 ہزار مربع کلومیٹر یا 28 ہزار مربع میل ہے، جس میں سے سکردو کا رقبہ 10118 مربع میل بنتا ہے۔ اس میں سے قابلِ کاشت رقبہ صرف 20 ہزار ہیکٹر ہے۔ موسمِ سرما میں یہاں سخت سردی پڑتی ہے۔ یہاں کا درجۂ حرارت عموماً منفی 24 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، مگر بلتستان کی تاریخ میں سنہ 1994ء میں ریکارڈ سردی پڑی، جب خپلو کا درجۂ حرارت منفی 30 سینٹی گریڈ تک گر گیا…… اور پھر جلد ہی یہ ریکارڈ سنہ 2020ء میں اُس وقت ٹوٹ گیا، جب جنوری 2020ء میں خپلو کا درجۂ حرارت منفی 42 سینٹی گریڈ تک گر گیا تھا۔
سکردو کے بعد شگر ویلی کا علاقہ بلتستان میں سب سے زیادہ وسیع اور کھلی جگہ ہے۔ یہ بالائی سندھ کا سب سے لمبا ہم وار میدان ہے، جو دریائے شگر کے دونوں اطراف میں دور تک پھیلا ہوا ہے۔ اس میں وسیع و عریض بنجر میدان واقع ہیں۔ اسی طرح سے خپلو خاص کے ارد گرد کا علاقہ بھی وسیع و عریض ہے۔ وادئی چھوربٹ کی طرف سے آنے والے شیوک دریا کا پاٹ یہاں خپلو کے پاس پہنچ کر کافی دور تک پھیل جاتا ہے۔ دریائے گیاری، وادئی گیاری کی طرف سے آ کر ہلدی کے قریب دریائے ہوشے میں گرتا ہے، جو تھوڑا نیچے آ کر دریائے شیوک کے ساتھ مل جاتا ہے۔ خپلو تا ہلدی اور مچلو تک کا علاقہ ایک طرف سے جب کہ دوسری جانب سے سلینگ تا غورسے و غازی تھنگ تک ایک بڑا علاقہ جھیل کی شکل میں کافی بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اسی طرح سکردو کے قریب دیوسائی کا علاقہ بھی ایک بڑے میدان کی صورت میں بلند سطحِ مرتفع ہے۔ جو سطحِ مرتفع تبت کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بلند سطحِ مرتفع ہے۔ اس کی بلندی سطحِ سمندر سے 14000 فٹ ہے۔ جو 80×120 میل کے حساب سے دور تک پھیلا ہوا ہے، مگر زیادہ بلندی ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی درخت ہے اور نہ کوئی کھیتی باڑی ہی ہوتی ہے۔ اتنی بلندی پر صرف گھاس پھوس، جڑی بوٹیاں اور پھول اُگتے ہیں۔ یہ پھولوں کی بے شمار اقسام کا مسکن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں پھولوں کی 150 سے زائد نایاب اقسام پھلتی پھولتی ہیں۔ یہاں مختلف پرندے اور حیوانات بھی رہتے ہیں۔ خپلو کے برعکس اس میں ٹراؤٹ مچھلی سے بھرپور تازہ اور میٹھے پانی کی جھیلیں ہیں۔ برفانی چیتا، اڑیال، مارموٹ، فالکن، گولڈن ایگل، داڑھی والا عقاب، لومڑی، تبتی بھیڑیا اور براؤن بئیر یعنی بھورا ریچھ بھی پایا جاتا ہے…… جس کی خاصیت اپریل تا نومبر اپنی غار میں بغیر کچھ کھائے پیے زندگی بسر کرنا ہے۔ اس دوران میں وہ اپنی چربی جلا جلا کر بہ طور اپنی خوراک استعمال کرتا رہتا ہے ۔
دیوسائی کی اک خاص بات یہ ہے کہ یہاں ’’برجی لاء‘‘ کے علاقے سے ایک ساتھ چھے، آٹھ ہزاری چوٹیوں کا نظارہ کیا جاسکتا ہے…… جن میں کے ٹو، جی1، جی 2 اور جی4 شامل ہیں۔ جب کہ ایک انتہائی خوب صورت سات ہزاری چوٹی ’’مشہ بروم‘‘ بھی نظر آتی ہے ۔
بلتستان کا شمالی حصہ بڑے بڑے پہاڑوں، وسیع و عریض گلیشیروں اور اونچی اونچی چوٹیوں پر مشتمل ہے۔ یہ سارا علاقہ کوہِ قراقرم میں گھرا ہوا ہے، جسے کوہ پیماؤں کی جنت کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سی چوٹیاں سر کر لی گئی ہیں، مگر پھر بھی ابھی بہت سی باقی ہیں، جو ’’ہل من مبارز‘‘ کَہ کر دنیا بھر کے ہائیکرز کو چیلنج دیتی ہوئی دعوتِ نظارہ دیتی ہیں۔
بلتستان کا سارا علاقہ چوں کہ اونچے اونچے پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس کے زیادہ تر علاقوں تک رسائی پہاڑی دروں کو کراس کر کے حاصل کی جاتی تھی۔ کبھی چین کی طرف سے صرف برفانی رستوں سے یہاں تک رسائی ممکن تھی۔ کیوں کہ قراقرم کا پہاڑی سلسلہ برصغیر اور چین کے درمیان حدِ فاصل کا کام دیتا ہے، مگر بعد میں برفانی گلیشیر کے بڑھ کر زیادہ لمبائی چوڑائی اختیار کر جانے سے یہ راستے متروک ہوگئے۔ بلتستان کے زیادہ تر رہایشی علاقے سطحِ سمندر سے سات ہزار فٹ بلندی پر ہیں۔ جن میں آبادی نہیں، اُن کی بلندی سات تا بیس ہزار فٹ ہے۔ جو زیادہ تر گلیشیر، برفانی میدانوں، سطحِ مرتفع اور چراگاہوں پر مشتمل ہے ۔ جب کہ 20 تا 28ہزار فٹ صرف اور صرف پہاڑی چوٹیاں ہیں۔
سطحِ سمندر سے زیادہ بلندی اور مون سون ہواؤں کی گزرگاہ سے دور ہونے کی وجہ سے یہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں۔ اس لیے کھیتوں کو پانی دیے بغیر یہاں کاشت کاری نہیں ہوسکتی۔ اس سارے علاقے میں جنگلات کی بھی کمی ہے۔ صرف ارندو، سکردو اور کھرمنگ کے علاقوں میں تھوڑا بہت جنگل ہے۔ جو تھے، وہ بھی اب تیزی سے کاٹے جا رہے ہیں۔ جہاں جنگل نہ ہوں، وہاں بارش نہیں ہوتیں۔ درختوں کی زیادہ کٹائی سے جو تھوڑی بہت بارش ہوتی تھی، وہ بھی اب بہ تدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ان علاقوں میں گرمی کی شدت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمیں اس سال اس پورے خطے میں شدید گرمی ملی۔ صرف رات کو ٹھنڈ ملتی تھی۔ جب کہ دن میں سورج کی تیز شعاعیں کاٹنے کو دوڑتی تھیں، جس کی وجہ سے سارا سارا دن ہمیں گاڑی میں ’’اے سی‘‘ چلانا پڑتا تھا۔
خپلو کے ارد گرد زیادہ تر جھیلیں مچھلیوں سے خالی ہیں، سوائے اک دو کے۔ مثلاً: کھرفق جھیل وغیرہ جس کے پانیوں میں ٹراؤٹ پائی جاتی ہے۔ ورنہ یہاں کی میٹھے پانی والی زیادہ تر جھیلیں مچھلیوں کے بغیر ہی ہیں۔
انسانی چہروں کی رنگا رنگی دیکھنی ہو، تو بلتستان آئیں۔ آپ کو یہاں کر ہر گاؤں میں الگ قسم کے ایک جیسے چہروں والے لوگوں سے پالا پڑے گا۔ جگلوٹ سکردو روڈ کی طرف سے آپ کو روندو کے علاقے سے ہی الگ الگ قسم کے علاحدہ علاحدہ چہروں والے مختلف النسل لوگ ملتے ہیں۔ بلتستان کے ہر ہر موضع کے باشندے دوسرے موضع سے اپنے رنگ و روپ، عادات و اطوار اور قد کاٹھ سے یک سر مختلف ہیں۔ ڈاکٹر آفاق اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جلوۂ کشمیر‘‘ میں لکھتے ہیں:’’بلتستان کے لوگ زیادہ تر منگول، آریا اور تاجک نسل سے ہیں، جو گلگت، نگر اور کاشغر کی جانب سے وارد ہوئے اور پھر مستقل یہاں آباد ہوگئے۔‘‘
مختلف النوع نسل کے ہونے کے باوجود یہاں کے سارے لوگ امن پسند، خوش اخلاق، مہمان نواز اور تہذیب و آداب میں مثالی ہیں۔ چوری، اِغوا، غنڈا گردی، ڈاکا زنی اور قتل یہاں پر سرے سے موجود نہیں۔
(جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے