ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں، جہاں قوموں کے درمیان تعلقات کی بنیاد معاہدوں پر رکھی جاتی ہے۔ دفاعی معاہدے، تجارتی سمجھوتے، دوستی کے چارٹر اور سفارتی وعدے …… سب کچھ ایک اُصول پر قائم ہوتا ہے:’’باہمی اعتماد اور ذمے داری کا احساس۔‘‘
دنیا بھر میں ممالک باہم اپنے مفادات، عزت، سلامتی اور مستقبل کے تحفظ کے لیے معاہدے کرتے ہیں…… لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک ریاست اور اس کے عوام کے درمیان بھی ایسا کوئی باضابطہ معاہدہ ممکن نہیں؟ ایک ایسا معاہدہ جو محض آئینی نِکات پر مبنی نہ ہو، بل کہ جذبے ، اخلاق اور احساسِ فرض سے لب ریز ہو؟
کیا وقت آ نہیں گیا کہ ریاستِ پاکستان اور پاکستانی عوام کے مابین ایک نیا، واضح اور عملی معاہدہ طے پائے؟ ایک ایسا معاہدہ جس کی بنیاد احترام، عدل، امانت اور وفاداری پر ہو…… ایک ایسا معاہدہ جو صرف وعدہ نہ ہو، بل کہ ایک مستقل عہد ہو۔
٭ معاہدہ کیوں ضروری ہے؟
ریاستِ پاکستان اور پاکستانی عوام کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہو جو محض الفاظ کی حد تک نہ ہو، بل کہ ایک زندہ، فعال اور پائیدار سماجی معاہدہ ہو…… ایک ایسا معاہدہ جو فریقین کے حقوق، فرائض، کردار اور حد بندیوں کو واضح کرے…… ایک ایسا معاہدہ جو صرف آئینی کاغذات میں نہیں، بل کہ دلوں میں لکھا جائے ، ضمیر میں گونجے اور عمل کی صورت میں نمایاں ہو۔
یہ معاہدہ ہوگا:
٭ ایک دوسرے کے احترام کا۔
٭ ایک دوسرے کی خدمت کا۔
٭ ریاست عوام کے حقوق کی نگہ بان ہوگی…… اور عوام ریاست کے وجود پر اپنی جان نچھاور کرنے والے ہوں گے۔
ریاست ایک فطری یا خودکار مظہر نہیں، بل کہ ایک سماجی نظم ہے، جو عوام کے اجتماعی ارادے اور اعتماد سے وجود میں آتا ہے۔ عوام ریاست کو اپنی مرضی سے اختیارات دیتے ہیں، تاکہ وہ اُن کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے، عدل فراہم کرے اور ایک باوقار زندگی کے لیے سہولیات دے…… لیکن جب ریاست عوام کو نظرانداز کرے، جب ادارے طاقت وروں کے ہاتھ کا کھلونا بن جائیں، جب انصاف مہنگا اور تعلیم ناپید ہو، جب روزگار سفارش سے مشروط ہو اور جب عوام کو صرف ’’ووٹ‘‘ دینے کا آلہ سمجھا جائے، تو پھر لازم ہو جاتا ہے کہ ایک نئے عہد کی بنیاد رکھی جائے۔
یہ معاہدہ وقت کی پکار ہے۔ کیوں کہ قومیں صرف نعرے، ترانے یا تقریریں سن کر نہیں بنتیں، بل کہ اُس وقت بنتی ہیں جب ریاست اور عوام ایک دوسرے کی امانت دار بن جائیں۔
٭ معاہدے کی شرائط اور دو طرفہ ذمے داریاں کیا ہوں گی؟
سب سے پہلے ریاست کی ذمے داریوں پر بات کرتے ہیں، جو درجِ ذیل ہیں:
٭ انصاف کا وعدہ:۔ ہر شہری کو برابری کی بنیاد پر فوری، سستا اور غیر جانب دار انصاف فراہم کرنا۔
٭ تعلیم کا حق:۔ ہر بچے کو معیاری تعلیم کی مفت سہولت دینا، کیوں کہ تعلیم صرف فرد نہیں، قومیں سنوارتی ہے۔
٭ صحت و تحفظ:۔ ہر فرد کو صحت کی بنیادی سہولیات، صاف پانی اور ذاتی تحفظ دینا۔
٭ روزگار اور خودمختاری:۔ نوجوانوں کو باعزت روزگار، ہنر مندی اور کاروباری مواقع مہیا کرنا۔
٭ قانون کی بالادستی:۔ امیر و غریب، بااثر و بے نوا، سب کے لیے ایک ہی قانون ہو؛ نہ کوئی قانون سے بالا ہو، نہ کوئی پست۔
اب آتے ہیں عوام کی ذمے داریوں کی طرف:
٭ ریاست سے وفاداری:۔ اپنی سرزمین کو ماں سمجھنا اور ہر قسم کی اندرونی و بیرونی سازش کے خلاف ریاست کا دفاع کرنا۔
٭ قانون کی پاس داری:۔ ٹریفک سگنل سے لے کر ٹیکس کی ادائی تک، ہر قانون کا احترام کرنا۔
٭ سماجی برداشت:۔ زبان، نسل، فرقہ یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نفرت نہیں، بل کہ برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینا۔
٭ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا:۔ اپنے ذاتی فائدے کے لیے قوم کو نقصان نہ دینا، خواہ وہ جھوٹی گواہی ہو، یا کرپشن میں خاموشی۔
قارئین! یہ صرف خواب نہیں، ایک قابلِ عمل حقیقت ہے۔ دنیا میں ایسے کئی ماڈل موجود ہیں، جہاں عوام اور ریاست کے درمیان ایسا غیر تحریری مگر زندہ معاہدہ موجود ہے۔ مثال کے طور پر شمالی یورپ کے ممالک، جاپان، کینیڈا وغیرہ۔ وہاں ریاست اپنے عوام کے سامنے جواب دہ ہے اور عوام ریاست کو ایک نعمت سمجھتے ہیں۔
لیکن ایسا پاکستان میں کیوں نہیں……؟ ہم کیوں ہر روز نظام سے مایوس ہو کر دل برداشتہ ہوتے رہیں…… ہم کیوں صرف ایک دوسرے کو کوستے رہیں…… یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، نئے معاہدے کا ہے……!
٭ جو ہم چاہتے ہیں، وہ پاکستان کیسا ہو؟
وہ پاکستان ایسا ہو جہاں استاد کو عزت ملے، مزدور کو اجرت ملے، بیمار کو دوا ملے، مظلوم کو انصاف ملے، ظالم کو سزاملے، طالب علم کو خواب ملے اور شہید کے ورثا کو انصاف ملے، جہاں کوئی بوڑھا پنشن کی لائن میں کھڑا ہو کر نہ مرے اور کوئی بچہ اسپتال کی دہلیز پر ماں کی گود میں دم نہ توڑے۔
اور ایسا معاہدہ تب ہی ممکن ہے، جب ’’ریاست‘‘ عوام کو اپنا ’’مالک‘‘ سمجھے اور عوام ریاست کو اپنا ’’محافظ‘‘ مانیں۔ جب نہ کوئی طاقت ور قانون سے بالاتر ہو اور نہ کوئی کم زور انصاف سے محروم ہی ہو۔
یہ وقت ہے کہ ہم نفرت، بداعتمادی اور شکایات کی سیاست کو پیچھے چھوڑ کر، ایک نئے معاہدے کی بنیاد رکھیں۔ ایک ایسا معاہدہ جو پاکستان کے مستقبل کو روشن، مضبوط اور متحد کرے۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ ریاست ہم سے ہے اور ہم ریاست سے۔
آیئے ، ایک دوسرے سے عہد کریں کہ ہم مل کر ایک نیا پاکستان بنائیں گے…… ایک ایسا پاکستان، جہاں حق و فرض، احترام و اخلاص، قانون و انصاف اور عزت و امان سب کے لیے برابر ہو۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










