پاکستان نے جس سال اپنا دھڑ (مشرقی پاکستان) کھویا، اُسی سال جاپان میں عالمی ٹیبل ٹینس چمپئن شپ منعقد ہوئی تھی۔ اس عالمی مقابلے کے دوران میں چین اور امریکہ کے کھلاڑی ایک دوسرے سے ملے اور امریکی کھلاڑیوں کو چین آنے کی دعوت دی گئی، جو اُنھوں نے قبول کرلی۔ یوں کمیونسٹ انقلاب کے دو دہائی بعد پہلی مرتبہ کوئی امریکی شہری چین پہنچا۔ یہاں سے دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں کم ہوئیں اور سفارتی تعلقات کی راہیں کھلیں۔ بعد ازاں 1972ء میں امریکہ کے صدر رچرڈ نِکسن نے ہنری کسنجر کے ہم راہ چین کا دورہ کیا۔
بین الاقوامی تعلقات میں یہ واقعہ ’’پِنگ پونگ ڈپلومیسی‘‘ (Ping Pong Diplomacy) کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ واقعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیوں کہ یہاں سے سپورٹس ڈپلومیسی نے جنم لیا۔ کھلاڑی امن کے سفیر کہلائے اور کھیل محض عوامی تفریح تک محدود نہ رہ کر ملکوں کے درمیان تناو، کشیدگی اور نفرت کم کرنے اور اُنھیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا اہم ذریعہ بن گئے۔
وقت کے ساتھ کھیل نے عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کیں اور اپنے اور پرائے ، دوست اور دشمن کا فرق مٹ کر ایک محبت کے دھاگے میں پرو دیا۔ لوگ دوسرے ممالک کے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو سراہنے لگے ۔ میدان میں اگر کھیل کے دوران میں تھوڑا تناو پیدا بھی ہو جاتا، تو آخر میں سب گلے مل کر مخالفت کھیل کے میدان ہی میں چھوڑ دیتے۔
1979ء میں خمینی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی چلی آ رہی ہے، جو کہ تا دمِ تحریر جاری ہے۔ اس دوران میں 1998ء میں فرانس میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ میں جب امریکہ اور ایران کی ٹیمیں آمنے سامنے آئیں، تو کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کو پھول پیش کیے اور باہمی احترام کا مظاہرہ کیا۔ حالاں کہ اُس وقت ایران، امریکی پابندیوں میں جھکڑا ہوا تھا۔
اسی طرح 1999ء میں جب پاکستان اور بھارت کارگل پر بہ راہِ راست محاذ آرائی میں مصروف تھے، اُس کے باوجود دونوں کرکٹ ٹیموں نے ورلڈ کپ میں میچ کھیلا اور اُن کا رویہ ایک دوسرے اور خصوصاً کھیل کے تئیں انتہائی مخلصانہ رہا۔
2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان فاصلہ بڑھا، لیکن جب بھی کرکٹ یا کسی دوسرے کھیل کے میدان میں کھلاڑی ملے، اُنھوں نے باقاعدہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا، گلے لگے اور کھیل کو بھرپور عزت دی۔
چوں کہ کھلاڑی امن کے داعی ہوتے ہیں، وہ دوریاں مٹاتے ہیں؛ وہ فخر محسوس کرتے ہیں جب اُن کا نام سرحدوں کے پار لیا جاتا ہے۔ کھلاڑی نفرت کی دوڑ میں اپنی مٹی پلید نہیں کرتے…… مگر اَب حالات بدل گئے ہیں۔ نفرت کے کالے سائے کھیل کے میدانوں پر بھی منڈلا رہے ہیں۔ خصوصاً پاک-بھارت کرکٹ مقابلے اب میدانِ جنگ اور سیاسی سکورنگ کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ کھلاڑی متنازع انداز میں جشن مناتے ہیں اور ایک دوسرے کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں (وہ زخم جو بعض بے ضمیر فیصلہ سازوں کی وجہ سے لگے ہیں)۔ کھلاڑی سیاسی بیانات دیتے ہیں، اپنا میچ کسی فوجی لاشعور کو وقف کرتے ہیں؛ میچ کے بعد کھیل کی روایات پامال ہو رہی ہیں۔
اس ایشیا کپ میں کرکٹ جیسے شریفانہ کھیل کا تقدس خاک میں مل گیا۔ جنگی بیانیہ غالب آیا اور کھیل ہار گیا؛ اب کھیل دوریاں کم کرنے کی بہ جائے انھیں بڑھانے کا سبب بنتا ہے ۔ اس کے ذریعے کوئی گفت گو ممکن نہیں رہے گی، بل کہ اس کی مدد سے بھی منھ بند کرایا جائے گا۔ اب مسکراہٹیں نہیں بانٹی جائیں گی؛ کھلاڑی امن کے داعی نہیں رہیں گے، بل کہ نفرت کے سفیر بنیں گے…… جو جتنی زیادہ نفرت کو پروان چڑھائے گا، وہ اتنا بڑا کھلاڑی مانا جائے گا۔ یعنی کھیل کے چہرے پر دشمنی کا تیزاب پھینک دیا گیا ہے، اس کی خوب صورتی زائل کر دی گئی ہے۔ کھیل کے تقدس کا قتل ہوچکا ہے؛ نفرت کے کفن میں لپٹی اس کی لاش دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ قاتل کتنا چالاک تھا، کتنے کمال سے اس نے قتل کیا۔
بہ قولِ شاعر
دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
کھیل کے ذریعے ہونے والی سفارت کاری کا پاکستان اور بھارت میں جنازہ نکل چکا ہے۔ بہتر ہے کہ کرکٹ جیسے شریفانہ کھیل کے لیے فاتحہ پڑھ لیا جائے……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










