خدمت و ایثار کا پیکر، ڈاکٹر فضل ربی

Blogger Sami Khan Torwali

ڈاکٹر فضل ربی، ضلع شانگلہ کے علم و دانش سے پیاسی، مگر غیر معمولی صلاحیتوں سے مالا مال سرزمین کے چشم و چراغ ہیں۔ اُن کی شخصیت علم، خدمت، انسان دوستی اور معاشرتی ہم دردی کا حسین امتزاج ہے ۔ موجودہ وقت میں وہ سی ڈی ہسپتال کے کریٹیکل کیئر ڈیپارٹمنٹ میں بہ طور سربراہ (HOD) نہایت جاں فشانی، فرض شناسی اور غیرمعمولی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُن کی قیادت میں نہ صرف طبی شعبے میں معیار اور نظم و ضبط متعارف کروایا گیا، بل کہ مریضوں کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیتے ہوئے عملی طور پر ایثار اور قربانی کی مثالیں قائم کی گئیں۔
ڈاکٹر فضل ربی ’’بلڈ ڈونیشن سوسائٹی پاکستان‘‘ (BDSP) کے بانی اراکین میں شامل اور اس وقت بہ طور صدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُن کی قیادت میں بلڈ ڈونیشن کے حوالے سے ملک گیر شعوری مہمات کا انعقاد کیا گیا، جن کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی ترغیب ملی۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے اثرات محض ایک انسان کی جان بچانے تک محدود نہیں رہتے، بل کہ اس کے ذریعے معاشرے میں ایثار، قربانی اور ہم دردی کی فضا بھی پروان چڑھتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس حوالے سے عملی سطح پر بھی متحرک رہتے ہیں اور اپنے قریبی حلقے میں خود خون عطیہ کرنے والوں کی فہرست تیار رکھتے ہیں، تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد ممکن ہوسکے۔
ڈاکٹر صاحب کی انسان دوستی کسی جغرافیائی یا نسلی حد بندی کی محتاج نہیں۔ وہ ہر مظلوم، بے کس اور محکوم انسان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، چاہے وہ فلسطین کے نہتے شہری ہوں، یا پاکستان کے دور افتادہ علاقوں کے وہ لوگ جو ظلم، غربت یا ناانصافی کا شکار ہوں۔ وہ حق گوئی اور جراتِ اظہار کی ایسی مثال ہیں، جو ہمارے معاشرے میں خال خال ہی دکھائی دیتی ہے۔ وہ سوشل میڈیا، تقریبات اور پبلک فورمز پر کھل کر ہر اُس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، جو انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ بن رہا ہو۔
شانگلہ کے وہ یتیم بچے، جن کے والدین کوئلہ کانوں کے اندوہ ناک دھماکوں کا نشانہ بنے، اُن کے لیے ڈاکٹر فضل ربی ایک شفیق باپ، ایک محافظ اور ایک روشن اُمید ہیں۔ وہ اُن بچوں کی نہ صرف تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہیں، بل کہ اُن کی خوراک، لباس، نفسیاتی بہ حالی اور دیگر بنیادی ضروریات کا بار بھی اٹھاتے ہیں۔ اُن کی یہ خدمات محض خیرات یا صدقہ نہیں، بل کہ ایک منظم، مستقل اور باوقار کفالت نظام کی صورت میں جاری و ساری ہیں، جس میں وہ نہ صرف خود سرمایہ خرچ کرتے ہیں، بل کہ اپنے دوست احباب اور وسیع سماجی روابط کو بھی شامل کرتے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی ڈاکٹر صاحب کا کردار کسی روشن چراغ سے کم نہیں۔ وہ اُن غریب طلبہ کے لیے اُمید کی کرن ہیں، جو فیسوں یا دیگر مالی مسائل کے باعث تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایسے طلبہ کے لیے فیس، کتب، یونیفارم اور دیگر تعلیمی لوازمات کا بندوبست کرتے ہیں، تاکہ اُن کی علمی پیاس بجھائی جا سکے اور وہ مستقبل کے کارآمد شہری بن سکیں۔
اسی طرح وہ طبی میدان میں بھی غریب اور نادار مریضوں کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔ مہنگے علاج، ادویہ کی عدم دست یابی یا ٹیسٹوں کی ناقابل برداشت فیس ان مریضوں کے لیے ایک دیوار بن جاتی ہے، جسے ڈاکٹر فضل ربی اپنی ذاتی کوششوں اور کمیونٹی کے تعاون سے گرا دیتے ہیں۔ وہ مریضوں کے لیے صرف ایک معالج نہیں، بل کہ ایک سہارا، ایک شفیق بھائی اور بعض اوقات آخری اُمید بن جاتے ہیں۔
ڈاکٹر فضل ربی بلاشبہ ہمارے معاشرے کا وہ روشن ستارہ ہیں جن کی روشنی سے نہ صرف درد مند دلوں کو سکون ملتا ہے، بل کہ نوجوان نسل کو عمل، ایثار، قربانی اور انسان دوستی کا درس بھی ملتا ہے۔ وہ انسانیت کی معراج کے پیکر اور ایک ایسا نام ہیں، جس پر شانگلہ، خیبر پختونخوا اور پورا ملک بہ جا طور پر فخر کر سکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے