’’مَیں ٹوٹا ہوا انسان ہوں، تجھے توڑ کر ننگے پاؤں چلوں گا……!‘‘
یہ ایک ذاتی فریاد نہیں، بل کہ اُن لاکھوں انسانی دلوں کی صدا ہے، جو تاریخ، سیاست اور طاقت کے بھاری پہاڑوں تلے کچلے جا چکے ہیں۔ مظلوم قومیں اسی ٹوٹے پن، اسی بے بسی اور اسی اُمید کے ملے جلے احساس سے گزرتی ہیں:جسم میں درد ہو، مگر حوصلہ زندہ رہے؛ زخم گھنے ہوں، مگر آواز خاموش نہ ہو۔
مظلوم قوم کی حالت صرف بلند و بالا بیانات یا اعداد و شمار تک محدود نہیں ہوتی۔ یہ روزمرہ کی حقیقت ہے۔ وہ مائیں جو بچوں کے مستقبل کے خوف میں راتیں جاگتی ہیں؛ وہ کسان جو اپنی زمین دیکھ کر بھی سوچتے ہیں کہ کل کون سا فیصلہ انھیں بے دخل کر دے گا؛ وہ نوجوان جو عزت کے ساتھ کام تلاش کرتے ہیں، مگر موقع ان سے چھینا جاتا ہے۔ یہ تمام چہرے ایک ہی درد کا مختلف رنگ ہیں۔ جب کسی قوم کے بنیادی حقوق، آزادیِ اظہار اور معاشی مواقع منجمد ہوجائیں، تو انسان توڑ کر ننگے پاؤں چلنے لگتا ہے۔ جسم تھکا ہوتا ہے، مگر سفر جاری رہتا ہے، کیوں کہ امید مر نہیں سکتی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مظلومیت صبر سے بھی بڑھ کر جدوجہد پیدا کرتی ہے۔ جب لوگوں کی آوازیں دبائی جاتی ہیں، تو وہ نئے انداز سے بولتے ہیں۔ شاعری، نغمے، مضامین، مظاہرے اور چھوٹے چھوٹے اجتماعی عمل جن میں ہمت اور حوصلہ چھپا ہوتا ہے۔ ظلم کے خلاف اُٹھنے والی آوازیں ابتدا میں کم زور دِکھتی ہیں، مگر مستقل مزاجی انھیں طاقتور بنا دیتی ہے…… اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جب ٹوٹے انسان کے قدم ایک قوم کی راہ بن جاتے ہیں۔
ظلم صرف باہر سے نہ آئے۔ کبھی کبھی اندرونی تقسیم، غیر مساوی پالیسیاں اور خوف بھی ایک قوم کو کم زور کرتے ہیں۔ مظلوم قوم کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کرے، تعلیم و شعور کو عام کرے اور نوجوانوں کو بااختیار بنائے۔ بیرونی طاقتیں عارضی طور پر حکم رانی مضبوط کرسکتی ہیں، مگر حقیقی تبدیلی تبھی آتی ہے، جب قوم خود اپنے حقوق کا علم پکڑے۔
مظلومیت کے باوجود اُمید نہ چھوڑیں۔ یہ وہ طاقت ہے، جو رات کے اندھیرے میں بھی صبح کی کرن دکھاتی ہے۔ ہر چھوٹا اقدام، ہر آگاہانہ فیصلہ، ہر سبق آموز مضمون اور ہر انسانی خدمت مظلوم قوم کی تعمیرِ نو میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ آزادی، مساوات اور عدل وہ منزلیں ہیں، جن کی تلاش میں ہر قدم اہم ہے، چاہے وہ قدم ننگے پاؤں ہی کیوں نہ اُٹھایا گیا ہو۔
آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ٹوٹا ہوا انسان جب اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے، تو دنیا سنتی ہے۔ مظلوم قومیں خاموشی توڑ کر بولیں۔اپنی کہانیاں سنائیں، درد بکھیریں اور اُمید کے دیے جلائیں۔ تاریخ اُن قوموں کو یاد رکھتی ہے، جنھوں نے شکست کے بعد بھی حوصلہ نہیں چھوڑا، بل کہ پھر سے اُٹھ کر اپنے ہاتھوں سے اپنا مقدر لکھا۔ اگرچہ راستہ طویل اور مشکل ہوگا، مگر ایک متحد، شجاع اور باشعور قوم ہی اپنے لیے روشنی کا چراغ جلائے گی اور یہی چراغ آنے والی نسلوں کے لیے اُمید بن جائے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










