انتظامی اصلاحات، وقت کی ضرورت

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، مگر اس وفاق کی انتظامی تقسیم اب فرسودہ ہوچکی ہے۔ ملک کی آبادی 25 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے، جب کہ وسائل، اختیارات اور گورننس کا نظام آج بھی 1970ء کی دہائی کے اُصولوں پر چل رہا ہے۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچا اور انتظامی تقسیم، عوام کی خدمت کے لیے کافی ہے؟
کیا دوردراز علاقوں کے عوام کو اُن کے بنیادی حقوق، سہولیات اور انصاف بروقت مل رہا ہے؟
اگر نہیں، تو کیا حل ہے……؟
اس تناظر میں اگر پاکستان کے تمام ڈویژنوں کو ’’صوبے‘‘، تمام اضلاع کو ’’کاؤنٹی‘‘ اور تمام تحصیلوں کو ’’ضلع‘‘ کا درجہ دے دیا جائے، تو یہ ایک انقلابی قدم ہوگا، جو عوامی فلاح و بہبود، مقامی خودمختاری اور موثر حکم رانی کی طرف ایک اہم پیش رفت ثابت ہو گا۔
پاکستان میں اس وقت 4 بڑے صوبے ، 37 ڈویژن، 170 سے زائد اضلاع اور تقریباً 600 تحصیلیں ہیں، مگر ان تمام اکائیوں کا انتظامی ڈھانچا غیر متوازن ہے۔ ایک طرف لاہور، کراچی اور پشاور جیسے بڑے شہر وسائل اور اختیارات سے مالا مال ہیں، تو دوسری طرف ڈیرہ بگٹی، ٹھٹھہ، ٹانک اور چترال جیسے دور افتادہ علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
صوبائی حکومتیں اکثر وسائل اور اختیارات کو مرکز میں سمیٹ کر رکھتی ہیں، جب کہ اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر اختیارات، بجٹ اور فیصلہ سازی کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجہ یہ کہ مقامی عوام کی آواز بلند بھی ہو تو کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔
اگر پاکستان کے تمام ڈویژنوں کو انتظامی لحاظ سے الگ صوبے بنا دیا جائے تو:
٭ وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔
٭ مقامی قیادت کو فیصلہ سازی کے اختیارات ملیں گے۔
٭ عوامی مسائل کا مقامی سطح پر فوری حل ممکن ہوگا۔
٭ سیاسی محرومیاں اور احساسِ بیگانگی کا خاتمہ ہوگا۔
٭ چھوٹے صوبے قومی دھارے میں زیادہ متحرک کردار ادا کر سکیں گے۔
مثال کے طور پر ہزارہ، جنوبی پنجاب، پوٹھوہار اور بہاولپور جیسے علاقوں میں برسوں سے الگ صوبے کا مطالبہ جاری ہے۔ اگر یہ مطالبات تسلیم کیے جائیں اور دیگر ڈویژنوں کو بھی مساوی حیثیت دی جائے، تو پاکستان میں ایک توازن پیدا ہو سکتا ہے ۔
٭ اضلاع کو کاؤنٹی کا درجہ دینا کیوں ضروری؟
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، برطانیہ، جرمنی میں کاؤنٹی گورنمنٹ مقامی سطح پر انتہائی موثر ثابت ہوئی ہے۔ ہر کاؤنٹی اپنے بجٹ، تعلیم، صحت، پبلک سیفٹی اور دیگر عوامی خدمات کو خود سنبھالتی ہے۔ پاکستان میں اگر ہر ضلع کو یہ درجہ دے دیا جائے تو:
٭ بیوروکریسی کی مرکزیت کم ہوگی۔
٭ ہر علاقے میں لوکل گورننس مضبوط ہوگی۔
٭ شفافیت اور احتساب میں بہتری آئے گی۔
٭ تعلیم، صحت اور بلدیاتی خدمات کی بروقت فراہمی ممکن ہوگی۔
ایک عام پاکستانی کے لیے سب سے قریبی انتظامی مرکز تحصیل ہوتا ہے۔ اگر تحصیل کو ’’ضلع‘‘ کا درجہ دے دیا جائے ، تو:
٭ بنیادی سہولیات جیسے پاسپورٹ آفس، ڈومیسائل، فرد اور زمین کا ریکارڈ عوام کو اپنے قریبی علاقے میں دست یاب ہوگا۔
٭ عدالتی نظام اور تھانہ کلچر میں بہتری آئے گی۔ کیوں کہ نگرانی اور جواب دہی کا دائرہ محدود اور موثر ہوگا۔
٭ عوام کو سفر، وقت اور پیسے کی بچت ہوگی۔
یقینا اس تجویز کے نفاذ میں کئی رکاوٹیں ہیں، جیسے کہ:
٭ سیاسی مخالفت (بالخصوص بڑی صوبائی حکومتوں کی طرف سے )
٭ وسائل کی کمی۔
٭ نئے انتظامی انفراسٹرکچر کی ضرورت۔
مگر، اگر نیت درست ہو، تو یہ تمام مسائل قابلِ حل ہیں۔ ایک مرحلہ وار منصوبہ بندی، آئینی ترامیم اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی سے یہ اصلاحات ممکن ہیں۔
پاکستان کو 21ویں صدی میں قدم رکھنے کے لیے نئی سوچ اور فعال نظامِ حکومت کی ضرورت ہے۔ پرانے ڈھانچے میں عوام کی خدمت ممکن نہیں۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہر پاکستانی کو برابر کے حقوق، سہولیات، انصاف اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں، تو ہمیں اپنی انتظامی تقسیم کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا۔ ڈویژنوں کو صوبے، اضلاع کو کاؤنٹی اور تحصیلوں کو ضلع کا درجہ دینے کا وقت آ چکا ہے۔ یہی وہ راہ ہے، جو پاکستان کو ایک جدید، مستحکم اور عوام دوست ریاست بنا سکتی ہے۔
اگر واقعی مسائل حل کرنے کا ارادہ موجود ہے، تو مقتدر قوتوں اور سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نکالیں۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ ذاتی، جماعتی اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کے مستقبل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں…… اور اگر ممکن ہو، تو اس مسئلے پر عوامی رائے بھی لی جائے۔ ایک شفاف اور منصفانہ ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے بہ راہِ راست رائے لینے کا عمل نہ صرف جمہوری اُصولوں کو مضبوط کرے گا، بل کہ فیصلے کو قومی تائید بھی حاصل ہوگی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے