حیدر علی خان کی داستانِ وفا

Blogger Sajid Aman

مینگورہ کے مین بازار چوک مینگروال (مینگورہ کے باسی) میں، ’’اڈہ‘‘ سے غورئی چینہ کی طرف جانے والا راستہ محلہ اسحاق کے بعد دوسرا پوش ایریا سمجھا جاتا تھا۔ یہاں کے مکانات رہایشیوں کی نفاست، آرٹ اور فنِ تعمیر سے لگاؤ کی جھلک سمجھے جاتے تھے۔ چوڑا راستہ اُن کی دل کی کشادگی کی غمازی کرتا تھا اور وہ یہاں سے گزرنے والے ہر شخص کو محبت و عقیدت سے گلے لگا کر اپنے مرتبے کا تعین خود ہی کر دیتے تھے۔
یہ گلی ایک طرح سے مہذب لوگوں کی پہچان تھی۔ گرمیوں میں چلتی ٹھنڈی ہوائیں یہاں سے گزرنے والوں کو احساس دلاتیں کہ یہاں کے مکین صفائی پسند اور پُرامن ہیں۔ گلی کے آخر میں چاچا کریم بخش مقیم تھے۔ شیر داد لالا اور کریم داد لالا، جلوخیل ملک صاحب اور ان کے بھتیجے ہمایوں کا بڑا رعب و دبدبہ تھا۔ ملک صاحب کا کشور میرخان خیل کے ساتھ گہرا یارانہ تھا۔ یہیں ظفر اللہ دادا، رحیم اللہ، اکبر علی، شاکر اللہ، محمد علی، عطاء اللہ، ہدایت اللہ، حبیب اللہ، لیاقت علی، عنایت اللہ، شوکت علی اور خان جی جیسے لوگ بستے تھے۔ دل میں ایک ٹیس سی اٹھنے لگتی ہے، جب مذکورہ تمام چہرے نگاہوں کے سامنے آتے ہیں۔ انھی راستوں سے گزر کر لوگ کوزے میں غورئی چینہ کا پانی بھر کر لایا کرتے تھے۔ میاندم کے برف پگھلنے کے بعد مینگروال کے لیے ٹھنڈا پانی بس یہی سہارا تھا۔
یہ بھی روایت ہے کہ شاید ان گھروں میں ملاکنڈ ڈویژن کا پہلا ’’بیسمنٹ‘‘ (Basement) تعمیر ہوا تھا، جو تجسس اور قصوں کا مرکز تھا۔ یہ گلی اسی خاندان، اسی احساس اور اسی روایت کے بیٹے حیدر علی خان سے جڑتی ہے۔اس موقع پر اگر ہم ان کا مختصر پیشہ ورانہ تعارف کرنا چاہیں، تو کچھ یوں ہوگی کہ حیدر علی خان درختوں کے ہم راز، زمین کے معمار اور فطرت کے امین ہیں۔
حیدر علی خان زردار، مانزئی خاندان کے چشم و چراغ اور بنیادی مینگروال ہیں۔ زردار حاجی صاحب، غمے حاجی صاحب، کریم داد لالا، ڈاکٹر پیر داد اور شیر داد لالا…… یہ سب نام آج بھی نہ صرف مینگروال یاد رکھے ہوئے ہیں، بل کہ انھیں سن کر نگاہ احتراماً جھکانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
حیدر علی خان نے پوری زندگی اپنی قابلیت، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن سے وفا کے لیے وقف کی۔ انعام میں صرف وہ سکون پایا جو ایمان داری اور وطن سے محبت سے ملتا ہے۔ وقت کے صحیفے پر کچھ نام یوں ثبت ہو جاتے ہیں، جیسے جنگل میں صدیوں پرانے درخت اپنی جڑوں کے ساتھ زمین میں اُتر جائیں۔ حیدر علی خان بھی ایسا ہی نام ہیں،جنھوں نے عمرِ عزیز کے 40 برس فطرت کو نبھانے میں گزارے، جنگلات کو سانس دی، زمین کو آس دی اور انسان کو اُمید بخشی۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف میسوری، کولمبیا اور پاکستان کے فارسٹ انسٹیٹیوٹ اور پشاور سے حاصل کردہ تعلیم نے حیدر علی خان کے فکر کو آفاقی وسعت دی، لیکن اصل کمال یہ تھا کہ اُنھوں نے کتابی علم کو خاک، بیج اور بارش کے قطروں میں ڈھال دیا۔
چیف کنزرویٹر آف فارسٹ اور منیجنگ ڈائریکٹر، فارسٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے طور پر وہ صرف اس منصب کے امین نہ تھے، بل کہ خوابوں کے باغ بان تھے۔ تربیلا واٹرشیڈ مینجمنٹ پراجیکٹ ہو یا دیر-سوات واٹرشیڈ مینجمنٹ، ہر منصوبے کو اُنھوں نے درختوں کی زبان اور چشموں کے گیت میں ڈھالا۔ اُن کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اُنھوں نے جنگلات کو صرف لکڑی یا زمین کی صورت نہیں دیکھا، بل کہ اسے انسانی تقدیر اور فطرت کی روح سے جوڑا۔ اُنھوں نے دیہات کے باسیوں کو شریکِ کار نہیں، بل کہ محافظ بنا یا اور یوں فطرت اور انسان کے درمیان اعتماد کی ڈور بُن دی۔
آج وہ ’’لاسونہ ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن‘‘ کے بورڈ میں ہیں، تو محض پالیسیوں اور فنڈ ریزنگ تک محدود نہیں ہیں، بل کہ نئی نسل کے دلوں میں یہ بیج بو رہے ہیں کہ جنگل محض سبزہ نہیں، بل کہ زندگی کا استعارہ ہے۔
حیدر علی خان کی اصل کام یابی یہ ہے کہ اُنھوں نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ہر درخت ایک دعا ہے، ہر چشمہ ایک گیت ہے اور ہر جنگل ایک عہد ہے…… انسان اور زمین کے درمیان ایک ابدی معاہدہ۔
آج جب دنیا، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور ان سے نمٹنے کی تدابیر پر بات کرتی ہے، تو ہمیں فخر ہے کہ ہمارے شہر کے ایک فرد نے دہائیوں پہلے ہی اس خطرے کو بھانپ لیا تھا۔ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی اور بے شمار دلوں کو گرویدہ بنایا تھا۔ اگر حیدر علی خان جیسے لوگ نہ ہوتے، تو آج نقصانات کئی گنا زیادہ ہوتے۔
یہ مینگروال (حیدر علی خان) یقینا خراجِ تحسین کا مستحق ہے۔ اس کی زندگی کے چھپے گوشوں کا پردہ چاک کرنے کے بعد لاکھوں مینگروال چاہیں گے کہ اس کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی دھرتی کو فطرت سے ہم آہنگ رکھیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے