امن، نعروں کا تضاد

Blogger Sami Khan Torwali

اس خطے کی تاریخ خون، آنسو اور جد و جہد کی طویل داستان ہے۔ یہاں امن کی ہر صدا کو کبھی کم زور قرار دیا گیا، کبھی غداری سے تعبیر کیا گیا اور کبھی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے پالشیوں نے اس کا مذاق اُڑایا…… مگر آج ایک عجیب المیہ جنم لے رہا ہے۔ وہی لوگ جو کبھی امن کے نعروں کا مذاق اُڑاتیتھے، آج امن کی دہائی دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی کیوں آئی…… کیا یہ دل کی سچائی ہے، یا حالات کی مجبوری……؟
ہم جانتے ہیں کہ کچھ آوازیں اس لیے ’’امن‘‘ کے لیے اُٹھ رہی ہیں کہ وہ اس وقت زیرِ عتاب ہیں…… لیکن ماضی کی ان کی پالیسیوں پر نظر ڈالیں، تو وہ امن کے بہ جائے جنگ، انتشار اور طاقت کے بل بوتے پر اپنی سیاست چمکانے میں مصروف تھیں۔ ان کا امن سے اتنا ہی تعلق تھا، جتنا آج کل کے پالشیوں کا ہے…… لیکن پھر بھی ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ اگر وہ واقعی سدھر گئے ہیں، تو یہ خوش آیند بات ہے…… مگر دعا یہ ہے کہ اُن کا سدھرنا وقتی نہ ہو، بل کہ مستقل ہو، ایسا سدھرنا جو اس دھرتی کے باسیوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔
خڑ کمر واقعہ ہماری اجتماعی یادداشت پر ایک ایسا زخم ہے، جو آج بھی تازہ ہے۔ اُس سانحے پر جب عوام خون میں نہاگئے، تو اقتدار کے ایوانوں سے آوازیں آئیں۔ مراد سعید جیسے وزرا اور اُن کے مشیران کبھی جنگ جوؤں کے ترجمان بنے، کبھی سیکورٹی اداروں کے۔ اُن کے بیانیے میں تضاد، اُن کے رویوں میں دوغلا پن اور اُن کے الفاظ میں سیاسی اداکاری جھلکتی رہی…… لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام کی لاشوں پر کھیلنے والے یہ تماشے ہمیں مزید زخمی کرگئے۔
اب اگر یہ لوگ واقعی امن کے قافلے میں شامل ہونے جا رہے ہیں، تو ہمیں خوش ہونا چاہیے…… مگر دُکھ اس بات کا ہے کہ یہ سب کچھ اقتدار اور مراعات چھوڑ کر نہیں کیا جا رہا، بل کہ مراعات بھی برقرار ہیں اور احتجاج بھی جاری ہے۔ یہ کیسا مذاق ہے ……؟
یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر احتجاج کس کا حق ہے؟ احتجاج تو بے اختیار عوام کرتے ہیں، وہ عوام جو انصاف کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، وہ مزدور جو روٹی کے لیے آواز اٹھاتا ہے، وہ کسان جو اپنی فصل کے جائز دام کے لیے سڑکوں پر نکلتا ہے…… لیکن جن کے پاس وفاقی اور صوبائی حکومت ہے، ان کے احتجاج کا مطلب ہی کیا ہے؟ اگر وہ واقعی سنجیدہ ہیں، تو اقتدار کے سنگھاسن سے استعفا دیں اور عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
یہ دوہرا رویہ سراسر ظلم ہے۔ ایک طرف مراعات، پروٹوکول اور وزارتوں کے مزے…… اور دوسری طرف احتجاج کے نعروں میں عوام کو گم راہ کرنا۔ یہ کھیل عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی قتل پر پولیس اور عدلیہ احتجاج میں بین کرنے لگے۔ حالاں کہ ان کا اصل کام مجرم کو پکڑنا اور سزا دلوانا ہوتا ہے۔ طاقت ور احتجاج نہیں کرتے، وہ فیصلے کرتے ہیں…… لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ جن کے پاس فیصلوں کا اختیار ہے، وہی تماشائی بن کر سڑکوں پر آ جاتے ہیں اور جن کے پاس کچھ بھی نہیں، وہ خون اور آنسو بہا کر بھی گونگے بنے رہتے ہیں۔
اس پورے کھیل کا سب سے بڑا نقصان عام آدمی کو ہے۔ وہ عوام جو روزگار کے لیے در بہ در ہیں، جو اپنے بچوں کی لاشیں اُٹھا اُٹھا کر بھی امن کے نعرے لگاتے ہیں، وہ عوام جنھیں بار بار بتایا جاتا ہے کہ یہ سب قربانیاں ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہیں…… لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان قربانیوں کے باوجود امن آج بھی خواب ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر آج بھی طاقت ور ہی احتجاج کریں گے اور فیصلہ سازی بھی انھی کے ہاتھ میں ہوگی، تو پھر عوام کہاں جائیں؟ کیا ان کے زخموں کا کوئی مداوا ہوگا یا وہ یوں ہی تماشا بنتے رہیں گے؟
امن کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کی حمایت ضروری ہے، چاہے وہ ماضی میں کتنی ہی غلطیوں کی مرتکب کیوں نہ ہو…… لیکن شرط یہ ہے کہ یہ آوازیں وقتی نہ ہوں، یہ صرف سیاسی بچاو کا حربہ نہ ہوں، بل کہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی صدائیں ہوں۔ کیوں کہ امن اب کھیل نہیں رہا، یہ عوام کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا اور پاکستان کے ہر کونے میں امن قائم ہو…… مگر یہ امن احتجاج سے نہیں، بل کہ خلوصِ نیت، طاقت وروں کے فیصلوں اور عوامی امنگوں کے احترام سے آئے گا۔ بہ صورتِ دیگر یہ کھیل یوں ہی جاری رہے گا اور عوام ہمیشہ کی طرح تماشائی بنے رہیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے