آج کا لنڈیکس، کل کے لنڈیکس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ لنڈیکس جو کبھی باغوں، باغیچوں، کھیتوں اور ہریالی کے لیے جانا جاتا تھا، چند ہی گھر تھے اور مولی، گاجر، خربوزے کی فصلیں عام ملتی تھیں…… اب ایک رہایشی کالونی کے سوا کچھ نہیں۔
کامران خان پل کب بنا، یہ مجھے یاد نہیں، مگر یہ ضرور یاد ہے کہ جب بتکڑہ کی طرف سے وہ ٹوٹا ہوا تھا، تو بنگلہ دیش کی جانب جانے کے لیے اس کی اترائی سے نیچے آ کر خوڑ (ندی) کو بڑے بڑے پتھروں کی مدد سے پار کیا جاتا تھا۔ مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے، جب یہ پل ہی موجود نہیں تھا۔ خوڑ پوری رفتار سے بہتا ہوا لنڈیکس کی طرف کھیتوں کے درمیان نکلتا تھا اور دوسری جانب چھوٹے دادا کا گھر تھا۔ نہ کوئی پڑوسی، نہ کوئی ہمسایہ…… آبادی سے بالکل الگ ایک دنیا۔
ایک بہت بڑا سیبوں کا باغ تھا، جس میں چھوٹے دادا کا گھر بنا ہوا تھا۔ دادا روز لنڈیکس روڈ تک لے آتے ، جو اس وقت اونچی نیچی پگڈنڈی تھی، اردگرد بڑے بڑے درختوں کے ساتھ۔ ہم خوڑ کے ایک کنارے کھڑے ہوکر پوری آواز لگا کر سامنے موجود اپنے چچاؤں سے بات کرنے اور جواب سننے کی کوشش کرتے۔
وقت کے ساتھ ایری گیشن کالونی بنی۔ خوڑ کی طرف دیوار سیڑھیوں کی طرح بنائی گئی۔ پھر چند مکان وجود میں آئے، جن میں بعد میں مسیحی خاندان آکر آباد ہوئے۔ پچھلی طرف سرکاری تعمیرات ہوئیں…… عدالتیں اور دفاتر کھڑے ہوگئے۔ وہ گھر جس کی طرف کبھی ہزار راستے جاتے تھے، اب گویا بے راستہ رہ گیا۔ اسی دوران میں چھوٹے دادا، کالج طوطا، بھی پشاور جا کر آباد ہوگئے۔ مکان کچھ عرصہ کرائے پر رہا، پھر چوکی دار کے حوالے ہوا۔ وقت گزرا، درخت بوڑھے ہوتے گئے اور سیبوں کی جسامت چھوٹی ہوتی گئی۔
ایلم ہوٹل سے درختوں کے سائے میں ایک پگڈنڈی نکلتی تھی، جو وہاں تک پہنچاتی، جہاں آج پریس کلب اور سکول ہیں۔ اس مقام پر پانی کا ایک نالہ بہتا تھا۔ اس پر پتھر رکھے جاتے اور پھر خوڑ میں اُترنا پڑتا۔ ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ نے لوہے کے تاروں سے پتھروں کو باندھ کر ایک بنیاد سی بنا دی تھی، جس پر چلتے ہوئے اکثر چپل اٹک جاتے۔ پھر پتھروں پر چلتے ہوئے ٹوٹے پل کی دیوار پکڑ کر اوپر چڑھنا پڑتا۔ یہ دن کے وقت مکان باغ تک جانے کا شارٹ کٹ تھا۔
بعد میں کالج طوطا نے سوچا کہ مکان اور باغیچہ بیچ دینا چاہیے۔ کئی گاہک آئے، مگر راستہ نہ ہونے اور ویرانی کی وجہ سے سودا نہ کرسکے۔ آخرِکار ایک گاہک آیا، جس نے 14 لاکھ روپے میں سودا کیا، مگر شرط رکھی کہ پل سے مکان تک ایری گیشن کی دیوار کے ساتھ ایک پشتہ تعمیر کیا جائے۔ خرچ اُس کا ہوگا، مگر ٹھیکے دار ہم ڈھونڈیں گے۔ یہ ذمے داری رضا خان ولد حاجی عجب خان امانکوٹ کے سپرد ہوئی۔ اُنھوں نے ساڑھے تین سے چار فٹ کا پشتہ تعمیر کیا، جس سے آمدورفت بہت بہتر ہوگئی۔
رفتہ رفتہ پگڈنڈی کھل گئی، کھیت راستے کی نذر ہوگئے۔ خوڑ میں پتھروں پر بنے پرانے راستے بھی متروک ہوگئے۔ وقت اور بھرائی نے اس جگہ کو سڑک میں بدل دیا۔ سرکاری فارم کے ساتھ پتھر ڈال کر بھرائی کی گئی، خوڑ تنگ ہوا مگر ایک باقاعدہ راستہ بن گیا۔ پھر حکومت نے خپل کور ماڈل سکول کے آگے ایل شکل کے پشتے بنائے ، جس سے راستہ اور نمایاں ہوگیا۔ آخرِکار یہ راستہ موجودہ پریس کلب روڈ کے طور پر تسلیم ہوا۔
مگر ایک اور قصہ بھی ہے۔ مشرف دور میں جب فوج واپڈا میں گھسی، تو ایک دن نوٹس آیا کہ اس باغ کے گھر میں ایک میٹر لگا تھا اور اس پر 35 ہزار روپے بقایا ہیں۔ حالاں کہ نہ گھر تھا، نہ مکان، نہ کوئی نشانی۔ بس دفتر کے چکر تھے۔ کسی زمانے میں ایک واپڈا اہل کار نے وہ گھر مانگ لیا تھا اور وہاں بورڈ لگا دیا تھا۔ میٹر چلتا رہا اور وہ سکون سے رہتا رہا۔ پھر بارشوں نے مکان گرا دیا، مگر میٹر کہاں گیا، کسی کو خبر نہ ہوئی۔ کیس میجر بہادر کے سامنے پیش ہوتا رہا۔ ہماری پراپرٹی پر جہاں کہیں بھی واپڈا کے میٹر تھے، وہ اکھاڑ کر لے جاتے۔ ہم وعدے اور معاہدے کرکے دوبارہ لگواتے۔ پھر وہ دن آیا جب واجپائی جی نے محاذ پر فوجی مورال بڑھانے کے لیے کہا تھا: ’’خبردار! تمھارا مقابلہ کسی پیشہ ور فوج سے نہیں، میٹر ریڈروں سے ہے!‘‘
وقت گزرا، فوج واپڈا سے نکل گئی اور ہماری جان چھوٹ گئی۔ آج وہاں ایک لمبی سڑک ہے اور اس مکان اور باغیچے کی جگہ ایک آباد کالونی کھڑی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










