شکریہ ادا کرنے میں کنجوسی کیوں؟

Blogger Mehran Khan

یا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ کسی سبزی والے سے سبزی خریدتے ہیں، تو آپ محض اُسے پیسے تھما دیتے ہیں۔ اکثر اوقات پیسے دیتے ہوئے ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ بھی کرلیتے ہیں اور مہنگائی پر دو چار جملے بھی ارشاد فرما دیتے ہیں، لیکن اس بات کا شکریہ ادا نہیں کرتے کہ اُس نے آپ کو سبزی دی اور اپنی ذمے داری بہ طریقِ احسن پوری کی۔
اسی طرح ہیئر سیلون والا آپ کے اُلجھے ہوئے بال تراش کر آپ کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ آئینہ بھی آپ کو رشک سے دیکھتا ہے اور آپ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر مسکراتے ہی رہ جاتے ہیں۔ پھر کالر جھاڑ کر اُس سے قیمت پوچھتے ہیں، جواب ملنے پر پیسے تھما دیتے ہیں اور شکریہ ادا کیے بغیر، چلتے چلتے بھی آئینے میں اپنے اوپر سرسری نظر ڈال دیتے ہیں۔
کوئی اُستاد آپ کو پڑھاتا ہے، تو کلاس ختم ہونے پر آپ لمبی سانس لیتے ہیں کہ شکر ہے جان چھوٹی، لیکن یہ کبھی نہیں سوچتے کہ اُس نے کتنی محنت سے آپ کو پڑھایا۔ اُس کے لیے شکریہ کے الفاظ آپ کی زبان پر نہیں آتے۔
کوئی موچی آپ کے جوتوں کی سلائی کرتا ہے، تو آپ یہ کَہ کر وہاں سے چلے جاتے ہیں کہ باقی کام نمٹا کر آتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت میں آپ کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ بس وہاں وقت گزارنا مشکل لگتا ہے۔ کچھ دیر بعد واپس آ کر آپ جوتے اُٹھا لیتے ہیں، پیسے دیتے ہیں اور بنا شکریہ ادا کیے رخصت ہو جاتے ہیں۔
ہوٹل میں کھانا کھانے جائیں، تو ایک معصوم سا ویٹر آپ کو کھانا پیش کرتا ہے۔ آپ سیر ہو کر کھا لیتے ہیں اور آخر میں بل ادا کرکے ہوٹل سے نکل جاتے ہیں، لیکن وہاں بھی شکریے کا کوئی لفظ زبان سے نہیں نکلتا۔
سڑک پر دیکھیں، تو صفائی والے اپنا کام کرتے دکھائی دیتے ہیں، ٹریفک پولیس والے بارش اور دھوپ کی پروا کیے بغیر ڈیوٹی نبھا رہے ہوتے ہیں، رکشہ اور دوسری گاڑیوں کے ڈرائیور مسافروں کو اُن کی منزل تک پہنچانے میں مصروف ہوتے ہیں، پٹرول پمپ پر کوئی گاڑی میں ایندھن ڈال رہا ہوتا ہے، مگر ان سب کو بھی شکریہ کوئی نہیں کہتا۔ اگر کہتا بھی ہے، تو ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
اس کے برعکس ایک طبقہ ایسا ہے، جو کچھ نہ بھی کرے، تو لوگ اُن کے ممنون رہتے ہیں، اور اگر معمولی سا کام کر دے، تو آسمان سر پر اُٹھا لیتے ہیں۔ میرا اشارہ اہلِ اقتدار کی طرف ہے، یعنی صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین۔ وہ اگر کونسلر والا کوئی چھوٹا سا کام بھی کرلیں، تو لوگ شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتے، ویڈیوز بناتے ہیں، فیس بک پر پوسٹیں ڈالتے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں۔
حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ لین دین کے اس نظام میں اگر کوئی ہم سے کچھ لے کر کچھ دیتا ہے، تو وہ اپنا فرض ادا کرتا ہے…… لیکن سیاسی شعور کی کمی کے باعث ہمیں یہ لگتا ہے جیسے اُس نے ہم پر کوئی احسان کر دیا ہو۔ اصل میں تو وہ وہی کام کرتا ہے، جس کے لیے اُسے منتخب کیا گیا ہوتا ہے۔ یہ نظام ہی ہے، جس نے عوام اور ان کے نمایندوں کے درمیان اتنی خلیج پیدا کر دی ہے کہ عوام کو وہ آقا لگنے لگے ہیں…… اور آقا سے سوال کرنا گستاخی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہم میں سے نہ ہوتے ہوئے بھی ہم میں سے ہیں اور کچھ وقت کے لیے ہی سہی، مگر اُنھیں ہماری ضرورت پڑتی ہے ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ زندگی کے باقی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ برسوں سے اپنی ذمے داریاں بہ خوبی نبھا رہے ہیں، بالکل بالی ووڈ کی مشہور فلم ’’منا بھائی ایم بی بی ایس‘‘ کے مقصود چاچا کی طرح، لیکن اُن کو جادو کی جپھی دینے والا، اُن کی داد و تحسین کرنے والا اور اُن کی پیٹھ تھپتھپا کے حوصلہ دینے والا کوئی ’’مورلی پرساد شرما‘‘ یعنی ’’منا‘‘ ہمارے معاشرے میں موجود نہیں۔
لہٰذا اگر آپ نے حوصلہ افزائی کرنی ہے، داد دینی ہے، شکریہ ادا کرنا ہے، تو اس میں کنجوسی نہ کیجیے۔ دل کھول کر ان تمام انسانوں کا شکریہ ادا کیجیے جن سے آپ کسی نہ کسی انسانی یا معاشرتی رشتے میں جُڑے ہیں۔ خدارا! شکریہ صرف اہلِ اقتدار کے لیے مخصوص نہ رکھیے……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے