یہ محض تصویر نہیں…… ایک تاریخ ہے، جد و جہد ہے، نظریات کی کہانی ہے۔
تصویر کے دائیں جانب فضل رحمان نونو، درمیان میں عبداللہ یوسف زئی اور ساتھ عبدالعزیز شاہین ایڈوکیٹ (سابقہ محکمۂ تعلیم) نظر آتے ہیں۔ یہ سب مینگورہ شہر کے اصلی باشندے ہیں۔
مینگورہ ایک چھوٹے قصبے سے بڑھتے بڑھتے خیبرپختونخوا کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا شہر بنا۔ اس بڑھوتری کے ساتھ ہی روایات نے بھی کروٹیں بدلیں۔ کبھی فیشن یہیں سے شروع ہو کر باقی شہروں تک جاتا تھا، پھر یہیں متروک ہو کر وہاں پہنچتا اور آج یہ شہر فیشن اور برانڈ سیلز میں پورے پاکستان میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ میٹروپولیٹن کلچر نے ہر شے کو کمرشلائز کر دیا۔ اب تعلقات، ملاقاتیں، شادی بیاہ حتیٰ کہ وفات تک کو بھی کمرشل بنیادوں پر دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔
فضل رحمان نونو ایک سیاسی کارکن، جد و جہد اور قربانی کی علامت، نظریات کے علم بردار اور ’’شہید‘‘ کے وارث ہیں۔
عبداللہ یوسف زئی نے قومی حقوق کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ اپنے بچوں کے لیے یادوں کے سوا کچھ نہ چھوڑا۔ سیاست نے اِن دونوں کو کچھ نہیں دیا، بل کہ الٹا انھیں دیوار سے لگا دیا۔ جمہوریت اور نظریات نے ان کا خوب مذاق اُڑایا۔
یہ بات شاید آج کے کارپوریٹ کلچر میں سمجھنا مشکل ہو، مگر جنھیں سٹوڈنٹس یونین اور ضیاء الحق کے جابرانہ مارشل لا کا تجربہ ہے، وہ اس کو بہ خوبی سمجھتے ہیں۔ اُس وقت آہن گر کی دکان میں شعلے بھڑکتے تھے، آہن کی چمک تھی اور تب اُنھوں نے سمجھا تھا کہ
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کَہ لے
آج ان کارکنوں کو بازاروں میں نادیدہ زنجیروں کے ساتھ گھومتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ جنھوں نے قومی آزادی، جمہوریت اور حقوق کے لیے اپنی زندگی خوار کی، مگر آج اُن کے حصے میں کوئی تمغا ہے،نہ تعریف و توصیف۔ یہ شکست خوردہ فوج کے بہادر سپاہی، سرمایہ دارانہ اشرافیہ میں گم صم ’’اہلِ کرم‘‘ کا تماشا دیکھتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام ترقی نہیں، بل کہ صرف سہولتیں خریدنے کا نام ہے۔ جو زیادہ خرید سکتا ہے، وہی کام یاب سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ دراصل وہ لوٹا ہوا اور بے وقوف بنایا گیا شخص ہوتا ہے۔
وسائل کتنے جمع ہوئے…… یہ اہم ہے! کیسے اور کہاں سے جمع کیے گئے…… اس کے کوئی معنی نہیں۔
مادی معنوں میں ذکر شدہ لوگ ہارے ہوئے ہیں، مگر اصل میں یہ قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ شاید نظریاتی دور کے آخری گواہ ہیں، جان و مال اور وقت کی قربانی دینے والی آخری سرپھری نسل کے سپاہی۔
’’سرخ ہے، سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے!‘‘
یہ نعرہ طلبہ ، مزدور، کسان، وکیل اور صحافیوں کے ہر مظاہرے میں گونجتا تھا۔ تب انقلاب کا مطلب یہ تھا کہ دو فی صد مراعات یافتہ طبقے کو اختیارات سے محروم کر کے 98 فی صد محنت کشوں کو وسائل کا مالک بنایا جائے۔
بھٹو نے کہا تھا: ’’یہ کوئی خدائی قانون تو نہیں کہ غریب ہمیشہ غریب رہے!‘‘
اور باچا خان نے فرمایا تھا کہ ’’انسان کی خدمت سب سے افضل ہے!‘‘
مگر اشرافیہ نے مذہب کو ہتھیار بنا کر کہا کہ ’’مال اللہ دیتا ہے!‘‘…… لیکن یہ نہیں بتایا کہ ہر مال دار کے پیچھے استحصال اور بددیانتی کی لمبی داستان کیوں ہے؟
ضیاء الحق کے ’’مارشل لا‘‘ نے اسلامی لبادے میں ایک منافقانہ حکومت چلائی۔ تین ماہ میں انتخابات کا وعدہ کیا، مگر مکر گیا اور سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے کے لیے مغرب کی خدمات پیش کیں۔ قوم کو کرائے پر چڑھا دیا، ’’مومن و کافر‘‘ کے فتوے تقسیم ہوئے…… اور افغانستان کی جنگ میں قوم کو جھونک دیا، جس کی آگ شعلے آج بھی ماند نہیں ہوئے۔
فضل رحمان نونو اور عبداللہ یوسف زئی اُسی قبیلے کے لوگ تھے، جنھوں نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا اور کہا:
حق بات ہی کہیں گے سر دار دیکھنا
اہلِ قلم کی جرأتِ اظہار دیکھنا
آج 2025ء میں سیاسی طور پر مقید اور نظریاتی طور پر دیوالیہ معاشرے میں یہ روشنی کے مینار اپنی سمت کھو بیٹھے ہیں۔ وہ ایک مصنوعی زندگی اور مصنوعی معاشرے میں اپنے کل کی گرم جوشی کے دکھ سہہ رہے ہیں۔
خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،ان لوگوں کوجنھوں نے ’’بروقت‘‘ سچ کہا اور پوری قوت سے کہا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










