سیاسی و انتظامی تجربات کے بوجھ تلے سسکتا سوات

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

سوات، جو کبھی ’’مشرق کا سویٹزرلینڈ‘‘ کہلاتا تھا، آج معاشی، سماجی اور انتظامی بحرانوں کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے ۔ یہ وادی محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بل کہ ایک تہذیب، ایک تاریخ اور ایک امید کا نام ہے۔ یہاں کے عوام کی اکثریت کا ذریعۂ معاش سیاحت سے وابستہ ہے، مگر افسوس کہ گذشتہ دو دہائیوں سے سوات کو مسلسل ایسے حالات کا سامنا رہا، جنھوں نے یہاں کی معیشت کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کیا ہے۔
کبھی دہشت گردی، کبھی بدامنی، کبھی سیلاب اور کبھی انتظامی فیصلوں کی بھینٹ چڑھتا یہ علاقہ آج پھر ایک نئے بحران کا شکار ہے…… اور وہ ہے تجاوزات کے خلاف نام نہاد آپریشن، جو نہ صرف بے وقت، بل کہ بِلا مشاورت بھی کیا گیا ہے۔ جب لوگ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریوں سے اپنے گھروں اور کاروبار کو سنبھالنے میں مصروف تھے، تب ان پر ریاستی طاقت کا استعمال کسی طور بھی قابلِ تحسین نہیں سمجھا جاسکتا۔
انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں شیلنگ، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں تک کی گئیں، جن کا ہدف مقامی تاجر، ہوٹل مالکان اور منتخب نمایندے بنے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر دانش مندانہ، بل کہ سوات جیسے حساس علاقے میں انتظامی ناپختگی کا کھلا ثبوت ہے۔
یہ امر بھی حیرت انگیز اور ناقابلِ فہم ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہے اور سوات کے تقریباً تمام منتخب نمایندے، بہ شمول تحصیل میئرز، اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ متاثرہ افراد کی اکثریت بھی پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ ہے، تو پھر یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ ’’کیا پی ٹی آئی خود اپنے ہی پاؤں پر کلھاڑی نہیں مار رہی؟‘‘
یہ جماعت جس نے عوامی حمایت سے یہاں تک رسائی حاصل کی، اب عوام ہی کے پیچھے پڑگئی؟
اس عمل سے سوات میں سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ سیاح اس خوب صورت وادی کا رخ کرنے سے گریزاں ہیں اور سیاحتی علاقوں کے بازاروں میں سناٹا چھاچکا ہے۔ اس معاشی قتل کا ذمے دار کون ہے ؟
جہاں ایک طرف طاقت کا غیر ضروری استعمال افسوس ناک ہے، وہیں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ تجاوزات کی حمایت بھی کسی صورت دانش مندی نہیں۔ یہ عمل نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے، بل کہ عوامی مفاد کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے…… مگر ضروری ہے کہ نقصان اور تجاوزات کا تعین انصاف، شفافیت اور میرٹ کے اصولوں کے تحت ہو، اور یہ کام مقامی سطح پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی نگرانی میں ہونا چاہیے، جو مقامی حالات، ضروریات اور روایات سے بہ خوبی واقف ہو۔
اگر واقعی تجاوزات ہیں، تو ان کی اجازت دینے والے کون تھے؟ اگر یہ سب کچھ مقامی سطح پر سفارشات یا چشم پوشی سے ہوا، تو سب سے پہلے انھی اہل کاروں اور سیاسی چہروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، جنھوں نے ان اقدامات کو ممکن بنایا۔ حکومت اگر واقعی قانون پر عمل درآمد چاہتی ہے، تو اسے مقامی کمیونٹی کو اعتماد میں لینا ہوگا، مشاورت کو ترجیح دینی ہوگی اور ایسے فیصلے کرنے ہوں گے، جو وقتی نہیں، بل کہ دیرپا بہتری کا ذریعہ ہوں۔ سوات کے لوگ پُرامن ہیں، مگر ان کے صبر کا امتحان لینا کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔
موجودہ حالات میں ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر اور دیگر مقامی نمایندوں کی گرفتاری نہ صرف غیر ضروری، بل کہ غیر دانشمندانہ قدم تھا۔ اس سے نہ صرف عوامی غصے میں اضافہ ہوا، بل کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ پر سے اعتماد بھی متزلزل ہوا ہے۔
خدارا! سوات کے حال پر رحم کیا جائے۔ یہ وادی صرف قدرتی حسن کی امین نہیں، بل کہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کا سہارا ہے۔ یہاں کی سیاحت، صرف مقامی معیشت کا محور نہیں، بل کہ پورے ملک کی اقتصادی تصویر کا ایک روشن پہلو ہے۔ اگر واقعی اصلاحات مقصود ہیں، تو ان کا آغاز طاقت سے نہیں، بل کہ گفت و شنید، شراکت داری اور عوامی مشاورت سے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حل کیا جائے۔
سوات کو سیاسی کش مہ کش اور انتظامی تجربات کی نذر کرنے کے بہ جائے، اسے پائیدار ترقی، مقامی شرکت اور سماجی انصاف کی علامت بنایا جائے۔ یہاں کے عوام بے آواز نہیں، بس ان کی آواز کو سننے والا کوئی ہونا چاہیے۔
وقت آگیا ہے کہ حکومت اور منتخب نمایندے اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں اور ایسے فیصلے کریں، جو وقتی نہیں، بل کہ دیرپا بہتری کا سبب بنیں۔ عوام کا اعتماد کھو دینا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔ سوات کو وہ مقام دیا جائے، جس کا وہ مستحق ہے…… عزت، خودداری، اور پُرامن ترقی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے