شناخت نہ ہو، تو زندگی کیسی؟

Blogger Fazal Maula Zahid

چند روز پہلے سیلاب زدگان کی امداد کے حوالے سے گفت گو ہو رہی تھی۔ ایک غیر سرکاری ادارے کے اہل کار نے خواجہ سرا برادری کے بارے میں بتایا کہ اگر اُن کا ڈیٹا موجود ہو، تو اُنھیں بھی خصوصی طور پر امدادی پیکیج میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ گاؤں میں پتا چلا کہ ایسے لوگ یہاں موجود تو ہیں، لیکن اُن کے پاس شناختی کارڈ ہے نہ کوئی تحریری پہچان۔ سماجی پابندیوں کے باعث وہ کھلے عام گھوم پھر بھی نہیں سکتے۔ یہ سن کر افسوس ہوا، مگر لمحوں بعد ہم یہ بات بھلا بیٹھے۔
اسی دوران میں خبر ملی کہ صوابی میں پولیس خواجہ سراؤں کو ضلع بدر کر رہی ہے۔ ہم نے اس پر بھی سر دائیں بائیں ہلایا طویل انگڑائی لیتے ہوئے دل سے برا مانا اور بس۔ آج بہروز خان لالا کی فیس بک پوسٹ سامنے آئی تو دل دہل گیا۔ لکھتے ہیں: ’’پولیس خواجہ سرا بچوں کو اپنے علاقے سے صرف اس لیے نکال رہی ہے کہ یہ فحاشی کا سبب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ اپنے گھروں سے محروم کر دیے جائیں گے، تو کہاں جائیں گے؟ ان کے پاس چھت ہے نہ روزگار، تعلیم ہے نہ عزت۔ انھیں برسرِ زمین جینے نہیں دیا جاتا اور آسمان پر یہ بے چارے جا نہیں سکتے ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ فحاشی یہ نہیں پھیلاتے، بل کہ معاشرے کے کچھ بے ضمیر مرد اُن پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ پھر کارروائی اُن مردوں کے خلاف کیوں نہیں جاتی…… ہمیشہ پولیس کی سختیاں صرف بے چارے خواجہ سراؤں کے لیے کیوں ہوتی ہیں؟‘‘
یہ الفاظ نہیں، بل کہ تیر و نشتر تھے۔ مقامِ افسوس ہے۔ خواجہ سرا معاشرے کا بوجھ نہیں، اس کا حصہ ہیں…… مگر ہم نے انہیں ہمیشہ تماشا سمجھا۔ گلی کوچوں میں یہ خوش دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی آنکھوں کی اُداسی اور زندگی کی تنہائی کو دیکھنے کی کسی کو فرصت نہیں۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے دروازے ان پر بند ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بھیک مانگنا یا شادی بیاہ میں ناچ گانا ان کی زندگی کا واحد سہارا بن گیا ہے۔
یہ تصویر بدلی جا سکتی ہے، بہ شرط یہ کہ ہم بہ حیثیت معاشرہ فیصلہ کر لیں کہ یہ بھی اسی دھرتی کے باسی ہیں۔ اس حوالے سے چند تجاویز یوں دی جاسکتی ہیں کہ
٭ انھیں قومی شناختی کارڈ اور بنیادی دستاویزات میں سہولت دی جائے، تاکہ وہ شہری حقوق سے محروم نہ رہیں۔
٭ ان کو سکولوں میں محفوظ ماحول اور خصوصی تعلیمی وظائف فراہم کیے جائیں، تاکہ یہ بھی پڑھ سکیں۔
٭ باعزت روزگار کے حصول کے لیے ان کو فنی تربیت، آسان قرضے اور چھوٹے کاروبار کے مواقع دیے جائیں۔
٭ ہسپتالوں میں ان کے لیے خصوصی کاؤنٹر اور نفسیاتی سہولتیں فراہم کی جائیں۔
٭ میڈیا، نصاب اور مساجد کے خطبات کے ذریعے یہ پیغام دیا جائے کہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور عزت کے حق دار ہیں۔
خواجہ سرا برادری ہمارے لیے محض تفریح کا ذریعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرتی رویوں کا آئینہ ہیں۔ اگر ہم آج بھی ان سے نظریں چرائیں گے، تو آنے والی نسلیں بھی انھی تعصبات کو دہرائیں گی۔
معاشرہ صرف چمکتی عمارتوں اور پختہ سڑکوں کا نام نہیں، بل کہ جیتے جاگتے انسانوں کا نام ہے…… اور انسان تبھی مکمل ہیں، جب سب کے ساتھ برابری کا عمل ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم طنز اور نفرت کو چھوڑ کر عزت اور برابری کا سفر شروع کریں۔
کبھی تمام تو کر بدگمانیوں کا سفر
کسی بہانے کسی روز آزما تو سہی
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے