خیبر پختونخوا میں تعلیمی بحران کی بڑی وجوہات

Blogger Hazir Gul

خیبر پختونخوا اس وقت امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے ساتھ ساتھ ایک سنگین تعلیمی بحران سے بھی دوچار ہے۔ صوبے میں لگ بھگ 13 لاکھ بچیاں اسکول سے باہر ہیں اور آئین کے آرٹیکل ’’25-اے‘‘ کے تحت اپنے بنیادی تعلیمی حق سے محروم ہیں۔ صوبائی سطح پر بھی ’’خیبر پختونخوا مفت و لازمی پرائمری و ثانوی تعلیم ایکٹ، 2017ء‘‘ یہ واضح ضمانت دیتا ہے کہ 5 سے 16 برس کی عمر کا ہر بچہ مفت اور لازمی تعلیم حاصل کرے گا۔ اس قانون کے تحت حکومت پابند ہے کہ ہر بچے کو اسکول میں داخل کرے اور تعلیمی سہولیات فراہم کرے، جب کہ والدین پر بھی یہ ذمے داری عائد ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں…… مگر زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
یہ مسئلہ اُس وقت اور بھی سنگین ہوجاتا ہے، جب ہم ’’اسکول لینڈ ایکوزیشن پالیسی‘‘ (School Land Acquisition Policy) پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس پالیسی میں 2015ء سے لاگو منصوبہ بندی کے وہ اُصول شامل ہیں، جن کے مطابق نئی سرکاری اسکولوں کے قیام یا ’’اَپ گریڈیشن‘‘ کے لیے عوام کو زمین مفت فراہم کرنی ہے۔ پرائمری اسکول کے لیے دیہی علاقوں میں 2 کنال اور شہری علاقوں میں 1 سے 2 کنال، سیکنڈری اسکول کے لیے دیہی علاقوں میں 8 کنال اور شہری علاقوں میں 4 کنال، جب کہ ہائی اور ہائیر سیکنڈری سطح کے لیے 9 ہزار سے 10 ہزار اسکوائر فٹ زمین درکار ہے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ شرائط اُن پس ماندہ اور پہاڑی علاقوں میں بھی یک ساں ہیں، جہاں زمین نایاب ہے۔ شہری علاقوں میں اگرچہ مشروط خریداری پالیسی کا حصہ ہے، مگر دیہات میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں۔ یوں ریاست اپنی آئینی اور قانونی ذمے داری غریب عوام کے کندھوں پر ڈال چکی ہے۔ اگر گذشتہ دو دہائیوں کے تعلیمی بجٹ پر نظر ڈالی جائے، تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کی خریداری کے لیے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے گئے اور اس کا سب سے بڑا نقصان بچیوں ہی کو اُٹھانا پڑ رہا ہے۔
اعداد و شمار خود بولتے ہیں۔ صوبے میں لڑکیوں کے اسکولوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔ یعنی
٭ پرائمری سطح پر لڑکوں کے 14,963 اسکول ہیں، جب کہ لڑکیوں کے صرف 8,110۔
٭ مڈل سطح پر لڑکوں کے 1,528 اسکول ہیں اور لڑکیوں کے 1,049۔
٭ ہائی اسکولوں میں لڑکوں کے 1,333 ہیں اور لڑکیوں کے 647۔
٭ اس طرح ہائر سیکنڈری میں لڑکوں کے لیے 231 اسکول ہیں، جب کہ لڑکیوں کے صرف 114ہیں۔
نتیجتاً 3 لاکھ سے زائد بچیاں مجبوراً لڑکوں کے اسکولوں میں جاتی ہیں۔ کیوں کہ اُن کے لیے قریبی گرلز اسکول موجود نہیں۔
دیہی علاقوں میں شرحِ خواندگی بھی اس عدم مساوات کی کھلی گواہ ہے؛ مردوں کی شرحِ خواندگی 65 فی صد ہے، جب کہ خواتین کی صرف 34فی صد ہے۔
بعض اضلاع میں یہ فرق اور بھی شدید ہے۔ مثال کے طور پر لوئر دیر ہی کو لے لیجیے، جہاں
٭ لڑکوں کے 827 پرائمری اسکول ہیں، مگر لڑکیوں کے صرف 405 ہی ہیں۔
٭ ہائی اسکولوں میں لڑکوں کے لیے 52، جب کہ لڑکیوں کے لیے صرف 14 ہیں۔
٭ ہائیر سیکنڈری سطح پر لڑکوں کے 12 کے مقابلے میں لڑکیوں کے صرف 3 اسکول ہیں۔
یہ تمام اعداد و شمار صاف بتاتے ہیں کہ زمین کی پالیسی نے لڑکیوں کے اسکولوں کے قیام کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے اور موجودہ ڈھانچا بنیادی طور پر لڑکوں کے حق میں ترتیب دیا گیا ہے۔
مفت زمین کے حصول کی اس سرکاری پالیسی نے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ ندی نالوں، دریا کے کناروں یا پہاڑی ڈھلوانوں پر ناکارہ یا خطرناک زمین فراہم کریں۔ نتیجتاً سیلاب، لینڈ سلائیڈ اور شدید موسمی واقعات نہ صرف اسکولوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، بل کہ بچیوں کی زندگیاں بھی غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔ برسبیلِ تذکرہ، حالیہ دنوں میں منگلور کے ایک سرکاری اسکول میں اگر پرنسپل اور اساتذہ بچوں کو بروقت باہر نہ نکالتے، تو نہ جانے کتنے گھروں میں صفِ ماتم بچھ جاتی۔
ایسے حالات میں سب سے پہلے بچیاں ہی اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ کیوں کہ والدین اُن کی تعلیم پر نہیں، بل کہ حفاظت پر زور دیتے ہیں۔ یوں موسمیاتی خطرات صنفی رکاوٹوں کو اور بھی گہرا کر دیتے ہیں اور مسئلہ محض صنفی انصاف تک محدود نہیں رہتا، بل کہ ماحولیاتی انصاف کا تقاضا بھی بن جاتا ہے ۔
اس پالیسی اور صنفی فرق کے باعث خیبر پختونخوا کی لاکھوں بچیاں ابتدائی سطح پر اسکول میں داخل نہیں ہوپاتیں، ثانوی سطح پر قریبی ادارے نہ ہونے کے سبب تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں اور لاکھوں بچیاں لڑکوں کے اسکول جانے پر مجبور رہتی ہیں۔ نتیجتاً وہ کم عمری کی شادی، غربت اور صنفی عدم مساوات کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف آئینِ پاکستان اور ’’خیبر پختونخوا ایکٹ 2017ء‘‘ کی خلاف ورزی ہے، بل کہ عالمی اہداف یعنی ’’ایس ڈی جی 4‘‘ (معیاری تعلیم)، ’’ایس ڈی جی 5‘‘ (صنفی مساوات) اور ’’ایس ڈی جی 13‘‘ (ماحولیاتی اقدامات) کی بھی نفی کرتی ہے۔
یوں خیبر پختونخوا کی ’’اسکول لینڈ ایکوزیشن پالیسی‘‘ اور اس کے قواعد و ضوابط اب محض ایک انتظامی معاملہ نہیں رہے، بل کہ یہ بچوں،خصوصاً بچیوں،کی تعلیم کی سب سے بڑی رکاوٹ اور موسمیاتی خطرات کے بڑھنے کا سبب بن چکے ہیں۔ جب تک اس پالیسی سے مفت زمین، زمین کی لازمی مقدار اور ڈیزائن سے متعلق غیر ضروری اور تعلیمی ترقی میں مانع اُصولوں کو ختم نہیں کیا جاتا…… اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں زمین اور ڈیزائن کے انتخاب کو لازمی نہیں بنایا جاتا، صوبے کے لاکھوں بچے اور بچیاں، جو زیادہ تر دیہی علاقوں میں بستے ہیں، اپنے بنیادی تعلیمی حقسے محروم رہیں گے۔ ان کی زندگیاں ہر دم خطرے سے دوچار رہیں گی اور ہم سب ایک پس ماندہ معاشرے میں سانس لیتے رہیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے