آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں……!

Blogger Doctor Ubaid Ullah

آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب معاشرہ اپنی ذمے داریوں سے غافل ہو، اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے اور اجتماعی زندگی بددیانتی، بدانتظامی اور ظلم سے بھر جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور اُس فتنہ سے بچو، جو تم میں سے صرف ظالموں پر ہی واقع نہ ہوگا…… اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب معاشرے کے ہر طبقے میں فرائض کی ادائی اور اخلاقی قدروں کا شعور ناپید ہوچکا ہو۔ نئی نسل بدتہذیبی، بداخلاقی، بے راہ روی اور قانون شکنی کی دلدل میں دھنستی چلی جائے اور اس پر نادم ہونے کے بہ جائے فخر محسوس کرے۔
حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے: ’’جب تم میں حیا نہ رہے، تو جو چاہو کرو۔‘‘
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب قانون کے محافظین ہی سب سے زیادہ قانون توڑنے میں مصروف ہوں اور معاشرے کی نگرانی اور اعتدال قائم رکھنے والا کوئی سچا دل موجود نہ ہو، جب ہر شعبۂ زندگی بددیانتی، بدعہدی اور بدانتظامی میں ملوث ہو، تو پھر کس بنیاد پر معاشرے کی بہتری کی امید رکھی جائے……؟
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب ملازمین کی اکثریت اپنے فرائض کی انجام دہی سے غفلت برتتی ہو، کام چوری سے وقت گزارتی ہو اور فرض شناس لوگ آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہوں، افسران کی ایک بڑی تعداد رشوت ستانی کرتی ہو، ماتحتوں پر ظلم کرتی ہو اور نااہلی مذکورہ افسران کی شناخت ہو۔
اللہ کا فرمان ہے:’’اور لوگوں کو اُن کی چیزوں میں کمی نہ دو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔‘‘
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب انسانی حقوق کی پامالی زوروں پر ہو…… بازاروں، ہسپتالوں، اسکولوں، کالجوں اور دیگر اداروں کی وجہ سے تجاوزات ہوں، فٹ پاتھ پر قبضہ ہو، سڑکوں پر سامان اور راستوں کی بندش اور تنگی کی روش عام ہو…… اور کسی کو احساس تک نہ ہو کہ میری وجہ سے انسانیت کس اذیت سے دوچار ہے، اور مَیں دوسروں کے حقوق پامال کر کے حرام کی کمائی کما رہا ہوں۔
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب آمد و رفت کے قوانین کی خلاف ورزی عام ہو، سڑکوں کو ذاتی جاگیر سمجھا جانے لگے، خوراکی اجناس کے کارخانے غیر معیاری خوراک تیار کر کے دراصل زہر بیچ رہے ہوں، علما اور خطبا اصلاحِ معاشرہ کے بہ جائے اسلام کے مسخ شدہ تصورات پیش کرکے اپنی عصبیت اور تنگ نظری کے گل کھلا رہے ہوں، اور اساتذہ و تعلیمی اداروں کے مالکان نمبروں کی دوڑ میں اخلاقیات، ایمان داری اور ضابطے کی تمام حدیں پار کرکے نوخیز ذہنوں کے کردار کو ابھی سے بدعنوانی کی اینٹوں سے تعمیر کر رہے ہوں، تو پھر خوش حال اور تاب ناک مستقبل کی امید کیسے رکھی جائے؟
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب ڈاکٹروں کی اکثریت مریض کے علاج کے بہ جائے اُس کے مرض اور تکلیف کو اپنے مال بنانے کا ذریعہ بنا لے، مریضوں کے ساتھ دھوکا دہی کرے، لیبارٹریز، میڈیکل سنٹرز، فارمیسیز اور فارما کمپنیوں سے کمیشن وصول کرے اور مزے سے حرام مال کی تجوریاں بھر کر زمینوں، گاڑیوں اور کارخانوں کی مالک بنے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:’’جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب طلبہ کی کثیر تعداد اپنے اساتذہ کے احترام کو بھول کر بداخلاقی و بے احترامی پر اتر آئے اور اپنے اداروں کی نیک نامی کے بہ جائے بدنامی کا باعث بننے لگے۔
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب ٹھیکے داری نظام کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کی بنیاد پر عوامی وسائل کو ضائع کر رہا ہو، سڑکیں اور عمارتیں چند سالوں میں کھنڈر بن جائیں، معیار کا لحاظ ہو نہ اس کی نگرانی کرنے کے لیے کوئی ادارہ ہی موجود ہو…… بل کہ نگرانی کے ادارے اور ذمے داران خود اس میں ملوث ہوں۔
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب عدالتی نظام میں انصاف خرید و فروخت کی جنس بن جائے، مظلوم اور غریب برسوں مقدمات میں خوار ہوں، جب کہ بااثر افراد چند دنوں میں بری ہو جائیں۔
قرآنِ مجید میں ہے: ’’اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو۔‘‘
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب انتظامیہ اور پٹوار نظام میں رشوت اور سفارش کے بغیر عام آدمی کا کوئی کام نہ ہوتا ہو، زمینوں پر قبضے، جعلی کاغذات اور ناجائز الاٹمنٹ عام رواج بن جائے۔ جب پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ اور امید کے بہ جائے خوف کی علامت اور طاقت ور طبقے کا محافظ بنا جائے، جب کہ مظلوم انصاف کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہے، اور ظالم اور مجرم پولیس کے سائے میں محفوظ ہوں۔
آزمایشیں اور مشکلات کیوں نہ ہوں، جب سیاسی جماعتوں سے اُصول اور اہلیت کا جنازہ اُٹھ جائے اور کام یابی کا معیار صرف پیسا، خوشامد، تعلقات اور اقربا پروری بن جائے…… جب فیصلے ، ملازمتیں اور ذمے داریاں اہلیت کے بہ جائے سفارش، رشوت، تعلقات اور اقربا پروری کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگیں۔
ایسے میں ہم سب کا بڑا جرم اِس شعور کی کمی بھی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو جاننے اور اُن کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہم اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائی کے بارے میں سوچنے اور غور و فکر کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
قارئین! یہی وہ رویے ہیں، جو معاشرے کو اجتماعی طور پر بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ جب معاشرہ خرابی کو خوشی خوشی قبول کرلے، تو پھر آزمایشیں اور مشکلات مقدر بن جاتی ہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے :إِنَّ للَّھَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّیٰ یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنفُسِھِمْ۔ (ترجمہ): بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔ (الرعد: 11)
جب تک ہم بہ حیثیتِ فرد اور قوم ان گناہوں اور جرائم کا اعتراف کرکے سچے دل سے توبہ نہ کریں اور اصلاح کے لیے سنجیدہ عملی اقدام نہ اٹھائیں، تب تک مشکلات اور آزمایشوں کے ختم ہونے کی اُمید نہیں، بل کہ ان کے بڑھنے کا خدشہ رہے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے