مسافرت کا ولولہ سیاحتوں کا مشغلہ
جو تم میں کچھ زیادہ ہے، سفر کرو سفر کرو
اس سفرِ لا حاصل میں ہمارے اگلے ساتھی ہمارے دو عدد پکے پریٹھے، بغیر جوڑ کے اور الگ الگ فقہ جات سے ہو کر بھی باہم جڑ جانے والی دو انتہائیں، دو مشرق مغرب، دو نونہہ سس، دو لڑاکو ہمسائیوں جیسی ساٹھ سالہ عورتوں جیسے، دو ایک دوجے کے لیے راکھشس، دو مولانا اور دونوں اپنے اپنے فرقے کے مہان مولوی صاحبان ’’مولانا زبیر گورداسپوری صاحب‘‘ اور ’’مولوی سجاد حسین مصطفائی صاحب‘‘ ہیں۔ جو اپنے اپنے فرقے کی مسجد میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے ساتھ ایسے سلوک کرتے ہیں، جیسے کہ دو شیر اپنی اپنی کچھار میں بیٹھے ایک دوسرے کے لیے کرتے ہیں۔ تھوڑے زیادہ پڑھے لکھے اور ذی شعور ہیں۔ اس لیے وہ ایک دوسرے کے لیے یا دوسرے کے فالوور کے لیے کفر کا فتوا نہیں لگاتے۔ حیرانی کی بات تو اُس وقت ہوتی ہے، جب یہ دونوں اپنی اپنی بائیک پر ہمارے ساتھ سفر کر کے سیر سپاٹے کے لیے شمالی علاقوں کی طرف جاتے ہیں…… اور پھر اکٹھے بیٹھ کر کھانا بھی کھالیتے ہیں۔ مجال ہے جو اُن میں سے کوئی ایک اپنے دوسرے ہم عصر مولانا کے لیے ایک جملۂ معترضہ بھی کہے، بل کہ یہ دونوں ایک دوجے کے ساتھ یوں شیر و شکر اور باہم مل کر رہتے ہیں کہ ان کے درمیان سے تتی ہوا بھی نہیں گزر سکتی ہے۔ شاید ان دونوں کے پاس ایک دوسرے کی کوئی کم زوری ہے، یا پھر ان کی مثال کچھ ایسے سمجھ لیں کہ جیسے کسی شیر اور چیتے کو اکٹھے کسی گہرے کنویں میں پھینک دیں، تو دونوں بہ جائے ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے کے اپنی سروائیول کی جنگ لڑنے لگتے ہیں…… اور جیسے ہی دونوں کو اُس اندھے کنویں سے باہر نکال دیں، تو یہ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن کر پھر سے ایک دوجے کو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔
یہ دونوں مولانا بھی سارے سفر میں اندھے کنویں میں بند شیر اور چیتے کی طرح آپس میں بڑے صلح جو رہ کر سفر کرتے ہیں…… اور پھر یہاں بورے والا (پنجاب) پہنچتے ہی اپنی اپنی کچھاروں میں پہنچ کر اپنے ہتھیار سیت کر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے لیے کمر کس لیتے ہیں۔ یہ ایک دوجے کے خلاف اپنے اپنے منھ سے ہوائی فائرنگ بھی کرتے ہیں…… مگر اک دوجے کے خلاف سیدھی فائرنگ نہیں کرتے۔ اب تو دونوں پکے یار بھی بن گئے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے خلاف ہوائی فائرنگ بھی اپنے فالورز کو ڈرانے اور اُنھیں یقین دلانے کے لیے کرتے ہیں کہ تم فکر نہ کرو، مَیں اپنے مخالف کو سیدھا کر دوں گا۔ یوں اُن دونوں کی آپسی ہوائی فائرنگ کو دیکھ کر ہم سب بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ اُنھیں کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، ہمارے ساتھ سفر کرنے سے ہمیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ کوئی دینی و دنیاوی مسئلہ خواہ وہ دونوں میں سے کسی ایک مسلک سے ہو، فٹافٹ ہمیں اس کا حل مل جاتا ہے۔ اسلام میں کیا حلال ہے اور کیا حرام…… مشکل کے وقت کوئی چیز کتنی حرام اور کتنی حلال ہو سکتی ہے؟ کوئی فقہی مسئلہ درپیش ہو، یا کوئی فروعی اختلاف، ’’درد کا حل، دو گولی نئی ڈسپرین‘‘ کی طرح جھٹ پٹ مل جاتا ہے ۔ ہمیں ہر طرح کے مسئلے کا حل مل جاتا ہے، سوائے کھابا گردی سے جڑے مسائل کے۔
بورے والا ٹریکرز کلب کے تاتاری اپنی خاصیت ’’کھابا گردی‘‘ کی بنا پر مشہور ہیں۔ وہ ہر حلال شے منٹوں میں ڈکار جاتے ہیں۔ جب اُن سے ایسی اشیا کی حد کھابا کے متعلق دریافت کیا جاتا ہے کہ ایسی اشیا کی کھانے کی زیادہ سے زیادہ ’’لمٹ‘‘ (Limit) کیا ہے، تو وہ دونوں چپ رہ کر وقت گزار دیتے ہیں، یا پھر کسی حیلے بہانے سے بات گھما پھرا کر موضوع ہی بدل ڈالتے ہیں۔ کیوں کہ مولوی بھی تو تاتاریوں ہی کی ایک قسم ہوتے ہیں، بل کہ تاتاریوں سے بھی دو ہاتھ آگے ۔
’’کریلا اور نیم چڑھا‘‘ کی طرح ایک تو مولوی اور دوسرا نیم چڑھے کریلے کی طرح دو آتشہ قسم کے تاتاری مولوی…… وہ کھابا گردی کے متعلق کوئی فتوا دیں بھی، تو کیسے اور کیوں کر دیں؟ کیوں کہ ایسے فتوے کی زد میں وہ خود بھی تو آتے ہیں۔ لہٰذا ایسے مسائل پر ٹال مٹول سے کام لینا اُن کی مجبوری ہے۔ سمجھا کرو۔ اِدھر ہم بھی ایسے مسئلے مسئلوں پر کچھ زیادہ زور نہیں دیتے۔ کیونکہ ایسے مولویوں کا کوئی پتا نہیں کہ وہ کہیں سے کوئی ایسا ’’لاجک‘‘ نکال لائیں، جو اُن کے لیے بہتر ہو اور ہمیں وارا نہ کھاتا ہو۔ لہٰذا پرہیز علاج سے بہتر ہے ۔
ان دونوں کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ مکمل طور پر ’’مسیتڑے‘‘ (ضدی) نہیں، یعنی کہ ان کا سارا دارومدار یعنی گھر گرہستی اور روز مرہ کے دوسرے اخراجات مکمل طور پر مساجد سے نہیں جڑے ہوئے ہیں، بل کہ یہ مساجد میں امامت کے فرائض سرانجام دینے کے علاوہ اپنا اپنا کوئی دوسرا بزنس بھی کرتے ہیں۔ مولانا زبیر گورداسپوری صاحب سکول ٹیچر تھے، جو اب ریٹائر ہوچکے ہیں۔ اب اُنھوں نے اپنا ذاتی سکول اور ساتھ میں ایک ٹیوشن سینٹر بھی کھول رکھا ہے۔ جب کہ سجاد مصطفائی صاحب کا کتابوں کا کاروبار ہے۔ وہ مختلف اداروں میں جاکر کتابوں کی ہول سیل کرتے ہیں۔ کوئی داء شاء لگ جائے، تو پراپرٹی کو ٹچ کر لیتے ہیں۔ پراپرٹی میں کوئی پلاٹ وارے نہ کھاتا ہوا نظر آئے، تو کوئی گاڑی خرید لی اور پھر کچھ منافع لے کر آگے بیچ دی۔ یوں دونوں مولانا صاحبان ساتھ میں اپنا اپنا بزنس بھی کرتے ہیں۔
محمد اشفاق صاحب عرف ریڈی میڈ بہ ظاہر ایک ممی ڈیڈی قسم کا چھوکرا ہے۔ بنیادی طور پر تعلق رحیم یار سے ہے۔ عرصہ پندرہ سال پہلے کاروبار کی نیت سے بورے والا آیا تھا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ شہر میں کیبل نیٹ ورک کا کام ہے، مگر پیدایشی بائیکر ہے ۔ ہمارے گروپ ’’بورے والا ٹریکرز کلب‘‘ کے مرحوم ممبر بابا مدثر کے توسط سے اس کے ساتھ رابطہ ہوا تھا۔ بڑا ٹھنڈا، میٹھا اور مہمان نواز بندہ ہے۔ یاروں کا یار ہے۔ بہت شریف النفس اور اپنے کام سے کام رکھنے والا۔ نہ کسی سیاست گیری سے لین دین، نہ کسی سے جھگڑا، بس اپنے کام سے کام رکھنے والا۔ اس سال سکردو ٹور میں جب اس کے سارے بائیکر ساتھی ’’خپلو‘‘ سے واپس مڑ آئے، تو وہ وہیں اکیلا بائیکر ہونے کے باوجود بھی سکردو میں ہمارے ساتھ رکا رہا، بل کہ خپلو سے اگلے علاقوں میں تنِ تنہا اپنی بائیک پر ہمارے ساتھ ساتھ رہا۔ بڑا کمیٹیڈ اور اپنے ارادے کا پکا ہے۔
ریڈی میڈ کی ڈگری اس نے اپنی روزمرہ عادات سے حاصل کی ہے۔ وہ ہر روز صبح سویرے اُٹھ کر تیار ہونے میں ایک گھنٹے کا وقت لیتا ہے۔ پرفیوم، بیوٹی پراڈکٹس، صابن، کریم لوشن اور شیمپو سے لے کر شیونگ کے سامان سمیت مختلف اشیا سے بھرا وہ ایک چھوٹا بیگ ہمہ وقت اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ ہر صبح اُٹھ کر باری باری اُن کا استعمال کرنا بھی فرض سمجھتا ہے۔ سارے گروپ کے تیار ہونے کا وقت ایک طرف اور اکیلے اُس کی تیاری کا وقت دوسری طرف۔
وہ سب سے پہلے اُٹھ کر نہاتا دھوتا ہے، بل کہ وہ نہاتا کم ہے اور شاید دھوتا زیادہ ہے۔ نہا دھو کر شیو کرنا، غلطی سے سفید نظر آنے والے کسی بال کی سرکوبی کے لیے اُس کا منھ کالا کرنا۔ اگلا مرحلہ مختلف کریموں اور لوشنز کی لیپا پوتی ہوتی ہے۔ پہلے کوٹ کے بعد دوسرا کوٹ اور پھر آخر پر ایک بار پھر سے تسلی کوٹ۔ مبادا کہ پورے جسم کے کسی ظاہری حصے پر کوئی جگہ لیپا پوتی کی گولہ باری سے محروم نہ رہ گئی ہو۔ ہمیں تو اس کی بیرونی لیپا پوتی کا پتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی اندرونی لیپا پوتی بھی کرتا ہو۔ جو اُس کے شان دار لباس کے نیچے پنہاں ہوتی ہو۔ دراصل وہ ویل ڈریس ہی اتنا ہوتا ہے کہ ہر دیکھنے والے کی نظر اُس کے لباس پر اٹک کر رہ جاتی ہے اور آگے دور تک سرایت نہیں کر پاتی۔ اس معاملے میں وہ ذرا سی بھی بد احتیاطی نہیں کرتا، مگر شاید ابھی چند ماہ قبل چاہتے نہ چاہتے ہوئے کسی نہ کسی وجہ سے اُس سے یہ جرم سرزد ہو گیا۔ اُسے کسی کی نظر لگ گئی تھی شاید کہ وہ کسی بیماری کی زد میں آ کر سوکھ سوکھ کر تیلا ہوگیا تھا۔ یہاں پر ہمارے دونوں مولوی صاحبان نے نہ صرف اس کے لیے صدقِ دل سے دعا کی، بل کہ محلے کے ایک حکیم کے ساتھ مل کر اسے دم پھوکا بھی کرتے رہے…… جس کے نتیجے میں وہ تن درست ہو کر ٹور پر جانے کے قابل ہوگیا تھا۔ اس معاملے میں زبیر گورداسپوری صاحب بڑے زور و شور سے اپنی چھاتی کھڑکا کر اس کی صحت یابی کے لیے اپنی طرف سے کی جانے والی دعاؤں کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ جب کہ مولوی سجاد مصطفائی تو اس کے لیے دیسی ککڑ کی یخنی، کھچڑی اور صابو دانہ پکا پکا کر لاتا رہا تھا۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










