مَیں نے دورانِ ملازمت دریائے سوات کے سیلاب کا دو دفعہ عملی مشاہدہ کیا ہے۔ دونوں دفعہ ہم محدود وسائل کے باوجود ’’ایوب برج‘‘ کو بچانے میں کام یاب ہوئے تھے۔ پہلی بار 1985ء میں اور دوسری بار 1987ء میں۔
لیکن حالیہ سیلاب کی مچائی ہوئی تباہی کی اس سے پہلے نظیر نہیں ملتی…… آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
مَیں نے اس بارے میں سوچ کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کی بڑی وجہ ’’کرش مافیا‘‘ کے گہرے گڑھے اور ’’ریور بڈ میٹریل‘‘ (River bed material) کے بہت بڑے پہاڑ نما زخیرے ہے، جنھوں نے دریا کے معمول کے راستے میں رُکاوٹیں کھڑی کیں،تو دریا بپھر کر پھیل گیا اور راستے میں جو بھی رُکاوٹ آئی، دریا اُسے روندتا ہوا گزر گیا۔
جب ہم بچے تھے، تو بڑے بوڑھے کہتے تھے کہ دریائے سوات ہر 30 سال بعد اپنا راستہ بدلتا ہے۔ مجھے بچپن میں اس کا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی ملا۔میرے بابا کو دفتر میں فون آیا کہ گاؤں میں تم لوگوں کی زمین دریا کے سیلابی بہاو میں دریا برد ہورہی ہے۔ مَیں اور بابا سیدو سے گاؤں آگئے اور سیدھا دریا کی طرف چل دیے۔دھان کی لہلہاتی فصل سے میرے لیے گزرنا مشکل تھا، تو ایک معزز شخص نے مجھے کاندھے پر بٹھایا۔ جب ہم اپنے کھیت تک پہنچے، تو دریا اُس کے اُخری بقایا حصے کو ایک لقمہ کرکے ساتھ لے گیا۔ اُس سال بہت زبردست فصل ہوئی تھی۔ ہمیں کم ازکم 50 من دھان کی توقع تھی…… دہقان کے حصے کے علاوہ۔
اُس روز ہم بوجھل قدموں کے ساتھ واپس ہوئے۔ایک آدمی نے بابا سے کہا ،آپ کا تو بڑا حوصلہ ہے۔کچھ تو کہتے……!
بابا نے کہا، تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ مَیں دریا کے ساتھ کشتی لڑوں؟میری روزی اللہ کے پاس ہے۔
پھر جب دریا اُتر گیا، تو زمین کو سوائے فصل برباد ہونے کے، کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا۔ اُن دنوں ’’کرش مافیا‘‘ نہیں تھا ۔لوگوں کو بہ حالی میں زیادہ محنت کرنی نہ پڑی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










