اپنے حصے کی شمع جلانے کی ضرورت

Blogger Doctor Ubaid Ullah

جس معاشرے میں سچائی کو جھوٹ، دیانت کو بے وقوفی اور خیانت کو ہوش یاری سمجھا جانے لگے ، وہاں ایک ذی شعور شخص کے دل میں بے چینی اور سوالات کا جنم لینا فطری امر ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اخلاقی، سماجی، تعلیمی، عدالتی اور خاندانی زوال کی ایسی دلدل میں دھنس چکا ہے، جہاں نیکی اجنبی ہو چکی ہے، سچ بولنے والا تنہا ہے اور برائی فخر بن چکی ہے۔ یہاں ہر طرف مایوسی چھائی ہوئی ہے، ناانصافی عام ہوچکی ہے اور ایسا لگتا ہے، جیسے اجتماعی ضمیر مردہ ہو چکا ہے۔ عوام کو اپنے حقوق و فرائض کا شعور ہے اور نہ حکم رانوں کو اپنی ذمے داریوں کا احساس ہی ہے۔ ہر شخص خود غرضی، مفاد پرستی اور فوری فائدے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے…… ا ور اس دوڑ میں وہ دوسروں کو روندنا، جھوٹ بولنا، رشوت لینا، قانون توڑنا اور ظلم کرنا برا نہیں سمجھتا، بل کہ ضروری سمجھتا ہے۔
حکومتی ادارے، جنھیں عوام کی خدمت کے لیے قائم کیا گیا تھا، وہی اب ظلم، کرپشن اور اقربا پروری کے گڑھ بن چکے ہیں۔ افسر شاہی کام کرنے کے بہ جائے فائلیں دبانے اور رعایتیں دینے میں لگی ہے۔ پولیس محافظ بننیکے بہ جائے خوف کی علامت بن گئی ہے۔ عدلیہ انصاف فراہم کرنے کے بہ جائے طاقت ور کے حق میں فیصلے دینے لگی ہے۔ یہ سب قباحتیں ایسے حالات پیدا کرتی ہیں، جہاں ایک عام آدمی نہ صرف مایوس ہوتا ہے، بل کہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں بے یقینی محسوس کرتا ہے۔
تعلیمی ادارے جو کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں، وہ خود زوال کا شکار ہیں۔ اساتذہ علم دینے کے بہ جائے محض وقت گزارنے والے بن گئے ہیں اور طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے بہ جائے نمبروں کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ تعلیم کا مقصد کردار سازی نہیں، بل کہ روزگار حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ نتیجتاً، تعلیم یافتہ طبقہ بھی شعور، احساس، دیانت اور قومی ذمے داری سے خالی ہوچکا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم نہ صرف خود بگڑ رہے ہیں، بل کہ اپنے بچوں کو بھی اسی بگاڑ کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔
ہماری نئی نسل موبائل فون، سوشل میڈیا، فحش مواد، ویڈیو گیمز، گاڑی اورموٹرسایکل کے بلا ضرورت چلانے اور بے مقصد تفریح میں ڈوبی ہوئی ہے۔ والدین فخر سے کہتے ہیں کہ بچے کو موبائل دیا ہے، گاڑی دی ہے…… حالاں کہ یہی چیزیں اُس کی شخصیت، ذہن، وقت اور مستقبل کو تباہ کر رہی ہیں۔ ہم نے بچوں کو سوچنے، سوال کرنے، دین سیکھنے اور مقصدِ زندگی پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں نہ صرف دینی و اخلاقی لحاظ سے کھوکھلی ہو رہی ہیں، بل کہ ان میں ذمے داری، غیرت، شرم و حیا اور معاشرتی شعور بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ہمارا معاشرہ اب انحطاط کی اُس حد تک پہنچ چکا ہے، جہاں قتل و غارت عام ہو چکی ہے، عزتیں محفوظ نہیں رہیں، کم زور کے لیے انصاف خواب بن گیا ہے اور طاقت ور کی قانون شکنی گویا روایت بن گئی ہے۔ یونینز اور تنظیمیں اب مظلوم کی حمایت کے بہ جائے مجرموں کی پناہ گاہ بن چکی ہیں۔
یہ یونینز اور تنظیمیں جو مظلوم کی آواز بننی چاہیے تھیں، آج طاقت کے کھیل کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال مریضوں کی جان لے لیتی ہے، اساتذہ کی ہڑتال طلبہ کا مستقبل کھا جاتی ہے اور سرکاری دفاتر کی تالہ بندی عوامی مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔ اصلاح کے بہ جائے یہ یونینز بدعنوانوں کے تحفظ اور اداروں کے نظم و ضبط کو تباہ کرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔
ہر طرف اپنی ذات، اپنے مفاد اور اپنی برادری کا تحفظ ہی اولین ہدف ہے۔ کوئی یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ ہم اجتماعی طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
یہ صورتِ حال انسان کو دو راستوں پر لا کھڑا کرتی ہے……یا تو وہ سب کچھ دیکھ کر دل برداشتہ ہو جائے، سب کچھ چھوڑ دے، ملک یا معاشرے سے فرار حاصل کرے، یا پھر اس بگاڑ کے خلاف آواز بلند کرے، کوشش کرے، اصلاح کے لیے قدم اٹھائے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب کچھ ٹھیک ہونے کی اُمید باقی نہ ہو، تو فرار اختیار کرنا عقل مندی ہے، مگر اسلام ہمیں اس سوچ کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کا پیغام اصلاح، صبر، امید اور جدوجہد کا ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے…… یعنی اصلاح صرف اُس وقت ممکن ہے، جب ہر فرد خود سے آغاز کرے۔
ہمارا اولین فرض ہے کہ ہم سب سے پہلے خود کو درست کریں۔ اپنی ذات کا محاسبہ کریں، اپنی عبادات کو بہتر کریں، سچ بولنا سیکھیں، امانت میں خیانت نہ کریں، کسی پر ظلم نہ کریں، کسی کا حق نہ کھائیں اور ہر قدم پر اللہ سے ڈریں۔ پھر ہمیں اپنے گھر کی اصلاح کرنی ہے، اپنی اولاد کو دین سکھانا ہے، اُن کے اخلاق، اُن کی سوچ اور اُن کی صحبت پر نظر رکھنی ہے۔ ہمیں اُن کے ہاتھوں میں وہ آلہ نہیں دینا چاہیے، جو اُن کے ذہن کو زنگ آلود کر دے ۔ ہمیں اُن کے سامنے خود کو ایک عملی نمونہ بن کر دکھانا ہے، تاکہ وہ سچائی، دیانت اور عدل سیکھیں۔
اگر ہم تعلیم یافتہ ہیں، تو ہمیں اپنی صلاحیتوں کو محض اپنی ذات کے فائدے کے لیے نہیں، بل کہ معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہو گا۔ ہمیں تعلیمی اداروں میں ایسا ماحول بنانا ہوگا، جہاں صرف نصاب نہیں، بل کہ شعور پڑھایا جائے، کردار بنایا جائے، سوال کرنے، سوچنے اور سچ بولنے کی ہمت دی جائے ۔ ہمیں اساتذہ، طلبہ، والدین اور پالیسی سازوں کو ایک نئی سمت دکھانی ہو گی۔
اسی طرح ہمیں اپنے اردگرد کے ماحول میں بھی نیکی کا پرچار کرنا ہے، برائی سے روکنا ہے، خاموش تماشائی بن کر بیٹھنا اب جرم کے برابر ہے۔ جو لوگ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے مجرموں کو بچاتے ہیں، وہ خود بھی جرم کا حصہ ہیں۔ اَب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی بیداری پیدا کریں، قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے آواز اُٹھائیں اور ظلم کے خلاف بے خوف ہو کر کھڑے ہوں۔
یہ سب آسان نہیں۔ اس راہ میں مشکلات آئیں گی، مزاحمت ہو گی، طنز و تمسخر کا سامنا ہو گا، لیکن یہی تو انبیا، صدیقین اور صالحین کا راستہ رہا ہے۔ اللہ کی مدد اُن ہی کے ساتھ ہوتی ہے، جو حق پر کھڑے رہیں، خواہ وہ کتنے ہی کم زور اور تنہا کیوں نہ ہوں۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں، جو وقت کے ساتھ معاشرے کا رُخ بدلتے ہیں۔
اس لیے آج اگر کوئی شخص معاشرے کی بدحالی سے پریشان ہے، تو اُسے مایوس ہونے کے بہ جائے اللہ سے ہدایت مانگ کر خود اصلاح کی راہ پر چلنا چاہیے، دوسروں کو بھی دعوت دینی چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اگر نیت خالص ہو، تو ایک چھوٹا سا چراغ بھی اندھیرے میں روشنی کا پیغام بن سکتا ہے۔ فرار کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں، بل کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا اس کی تقویت ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر فرد بیدار ہو، اپنے حصے کی شمع روشن کرے اور اُمت کو بگاڑ سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے…… چاہے وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو……!
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے