سوات کی تقسیم: ترقی کا خواب یا نیا امتحان؟

Blogger Hilal Danish

حالیہ دنوں میں سوات کو دو انتظامی اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز نے نہ صرف مقامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے، بل کہ عوامی خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ اربابِ اختیار اسے ترقی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف ضلع بن جانا ترقی کی ضمانت ہے؟ اگر ضلع بن جانا ہی ترقی کی ضمانت ہوتا، تو شانگلہ آج بھی پس ماندگی کی دلدل میں کیوں پھنسا ہوتا؟ شانگلہ سوات سے الگ ہوکر کئی برسوں سے ایک علاحدہ ضلع کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن آج بھی تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع کے لحاظ سے شدید پس ماندگی کا شکار ہے۔ یہ ایک کھلی دلیل ہے کہ ضلع بندی خود ترقی کی ضامن نہیں، جب تک اس کے ساتھ مالی وسائل، عملی منصوبہ بندی اور عوامی فلاح کے اقدامات شامل نہ ہوں۔
سوات اپنی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی اور وسیع رقبے کا حامل ہے۔ اس کے بہتر اور مربوط حکومتی نظام کی ضرورت سے انکار نہیں، لیکن اس کا حل صرف نئے اضلاع بنانا نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ موجودہ تحصیلوں اور یونین کونسلوں میں سہولیات کی منصفانہ تقسیم کی جائے، صحت و تعلیم کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور عوامی رسائی بہتر بنائی جائے۔
چارباغ کی صورتِ حال اس تقسیم کی سب سے بڑی آزمایش ہے۔ یہ علاقہ مینگورہ سے محض 11 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور عوام کا انحصار…… علاج، کاروبار اور تعلیم کے لیے مینگورہ پر ہے۔ اگر چارباغ کو بالائی سوات میں شامل کر دیا گیا، تو عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
کیوں کہ چارباغ سے مٹہ کا فاصلہ 20 کلومیٹر ہے۔ خوازہ خیلہ 13 کلومیٹر، جب کہ بحرین تقریباً 50 کلومیٹر دور ہے۔
اگر دفاتر مٹہ، بحرین اور خوازہ خیلہ میں بکھر گئے، تو طلبہ، مریض اور سرکاری ملازمین روزانہ کی بنیاد پر سخت خوار ہوں گے۔ اس لیے مقامی آبادی کا مطالبہ بالکل درست ہے کہ چارباغ کو زیریں سوات کے ساتھ رکھا جائے، تاکہ عوامی زندگی آسان رہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر اپر سوات واقعی ضلع بنتا ہے، تو اس کا ہیڈکوارٹر کہاں ہوگا؟ سابق وزیرِ اعلیٰ محمود خان کے دور میں بھی یہ بحث چلتی رہی کہ ہیڈکوارٹر مٹہ ہوگا، کچھ دفاتر بحرین میں اور کچھ خوازہ خیلہ میں قائم ہوں گے۔ اگر یہی صورتِ حال رہی، تو عوام کو ایک دفتر کے لیے مٹہ، دوسرے کے لیے بحرین اور تیسرے کے لیے خوازہ خیلہ جانا پڑے گا۔ یہ فیصلہ سہولت نہیں، بل کہ عوامی مشقت میں اضافے کا سبب بنے گا۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قومی سطح پر فاٹا کے انضمام کے وقت بھی حکومت نے جلد بازی دکھائی تھی، جس کے اثرات آج تک عوام بھگت رہے ہیں۔ سوات کی ضلع بندی کے معاملے میں بھی اگر یہی رویہ اختیار کیا گیا، تو یہ فیصلہ عوامی فلاح کے بہ جائے ایک اور بوجھ ثابت ہوگا۔
ترقی کا تعلق کسی علاقے کے ’’نام‘‘ یا ’’درجے ‘‘ سے نہیں، بل کہ وہاں کے عوام کو دی جانے والی سہولیات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے ہے۔ اگر موجودہ نظام میں شفاف اور منصفانہ بہتری لائی جائے، تو شاید نئی تقسیم کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ لہٰذا اربابِ اختیار سے درخواست ہے کہ تمام فیصلے عوامی مشاورت کے ساتھ کیے جائیں۔مقامی جغرافیہ اور عوامی ضروریات کو مقدم رکھا جائے ۔ دفاتر کے مقام اور ہیڈکوارٹر کے تعین میں عوامی سہولت اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔
نیز کسی بھی قدم میں جلد بازی سے اجتناب کیا جائے اور پائیدار منصوبہ بندی کے بعد فیصلہ ہو۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے