بونیر، سوات، باجوڑ اور شانگلہ میں سیلابوں کی وجہ سے حالیہ اندوہ ناک تباہی نے ہم سب کو ’’کلائمیٹ چینج‘‘ کا ماہر بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی مضامین دھڑا دھڑ لکھے اور شاید پڑھے بھی جا رہے ہیں۔ بہ ظاہر یہ ایک اچھا رجحان ہے، تاہم آیا یہ وقتی اگہی کسی دیرپا عمل میں بھی تبدیل ہوگی؟ یہ اپنی جگہ ایک بڑا سوال ہے۔
سوات میں 2010ء اور 2022ء کے سیلابوں کے بعد عوامی اور حکومتی سطح پر کوئی ایسا عمل دیکھنے کو نہیں ملا، جس سے عیاں ہو کہ ایسی تباہ کاریوں سے لوگ اور اہلِ اقتدار سبق حاصل کرسکتے ہیں۔ جہاں 2010ء کے سیلاب نے دریاؤں کے گرد آبادیاں گرائیں اور اپنا راستہ کھولا، وہاں اس نئی آبادکاری کے نام پر بعد کے سالوں میں دریاؤں کو مزید تنگ کیا گیا۔ 2022ء میں ایک بار پھر مذکورہ آبادیوں کو سیلاب نے صاف کیا، تاہم دریاؤں کے ساتھ چھیڑ خانی سے لوگ باز نہیں آئے۔
حکومتوں کی طرف سے بس اتنا ہوتا ہے کہ کسی سانحے کے بعد بھاری مشینری لاکر چند عمارات کو گرادیتی ہیں، تاکہ ان کے چہرے پر جو کیچڑ اس سیلاب نے ملا ہے، اُس کو صاف کیا جائے۔ اس کی مثال سوات میں مینگورہ بائی پاس کے قریب ایک ہی خاندان کے 18 افراد کی موت اور اس کے ردِعمل میں حکومت کی طرف سے چند عمارات کا گرانا ہے۔
ارضیات کے ماہرین کرۂ ارض پر ان تبدیلیوں کودو عہدوں میں تقسیم کرتے ہیں اور اب ایک نئے عہد کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پہلے کو "Pleistocene” کہا جاتا ہے، جس کی مدت ساڑھے دو ملین سال تا 11,70 0سال بتائی جاتی ہے۔ 11,700 سے اب تک کے کے عہد کو "Holocene” کا نام دیا گیا، جب کہ کئی ماہرین اب کے جدید عہد یعنی 20ویں صدی کے وسط سے اب تک کے عہد کو "Anthropocene” کہتے ہیں۔ اس سے مراد 20ویں صدی کے وسط سے جنگِ عظیم دوم کے بعد، وہ عہد ہے، جس میں بنی نوع انسان نے کرۂ ارض کے ماحولیات، موسم اور حیاتیاتی تنوع پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اسی اثر کی وجہ سے ’’کلائمٹ چینج‘‘ (Climate Change) کا عمل تیز تر ہوگیا ہے۔ زمین کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسموں کے اوقات میں غیر معمولی بدلاو دیکھنے کو مل رہا ہے۔
جنگِ عظیم دوم کے بعد دنیا میں کئی تاریخی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن میں جمہوریت کے پھیلاو، سماجی فلاحی پروگراموں اور خواتین کی تعلیم کا فروغ شامل ہیں۔ ان سب کو صنعت، تجارت اور کاروبار کی بڑھتی ہوئی عالم گیریت نے تقویت دی اور بین الاقوامی اور قومی اداروں نے اس عمل کو منظم کیا، خواہ وہ کمیونسٹ بلاک میں ہوں یا مغرب میں…… کیوں کہ دونوں طاقت کے حصول کے لیے کوشاں تھے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد بین الاقوامی قانون کے ڈھانچوں کے ذریعے عالمی ادارے قائم ہوئے، جیسے ’’عالمی تجارتی تنظیم‘‘ (World Trade Organization)، ’’بین الاقوامی مالیاتی فنڈ‘‘ (IMF) اور ’’عالمی بنک‘‘ (World Bank)۔ یہ عالم گیریت تقریباً تمام شعبوں میں تیز تر ہو گئی۔ ٹیکنالوجی میں پیش رفت نے زرعی خوراک کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کیا اور دنیا کی انسانی آبادی کی بلند شرحِ نمو میں حصہ ڈالا۔
بشریات، سیاسی نظریے، بین الاقوامی قانون اور اخلاقیات کے لیے ایسے نئے سوالات اُبھرنے لگے، جیسے کہ ’’انسانی قوتیں زندگی اور غیر فطری عمل پر غالب آنے کے کیا مضمرات رکھتی ہیں؟‘‘
دنیا بھر کے لوگ ایک تبدیل شدہ ارضیاتی نظام کے ساتھ نبرد آزما ہوئے، جس کا مختلف ثقافتیں اپنے اپنے زاویۂ نظر کے مطابق تجربہ کرتی ہیں، اس عمل کو سمجھتی ہیں اور اس پر ردِ عمل ظاہر کرتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کو توانائی، خوراک، رہایش اور لباس فراہم کرنے کے لیے پھیلتا ہوا ’’ٹیکنو سفیئر‘‘ (Techno-sphere) یعنی ٹیکنالوجی کے دامن کے پھیلاو نے عالمی عدم مساوات کو مزید وسیع کردیا، جس کی وجہ سے انتہائی غریب طبقے نے فی کس جی ڈی پی میں نہایت معمولی اضافہ دیکھا۔
’’نو کلاسیکی معیشت‘‘ (Neoclassical Economics) کے عقیدے کی ترقی کی گنجایش لامحدود ہے، کو اب ایک سکڑتے ہوئے کرۂ ارض کا بگڑتا ہوا نظام چیلنج کر رہا ہے، جہاں محدود وسائل ہیں اور جس کا نظامِ حیات تیزی سے غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی انسانی عمل سے عالمی ماحول میں آنے والی تبدیلیوں کی ایک نمایاں علامت ہے۔ اس بات کے شواہد بالکل واضح ہیں کہ زمین کا درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے اور انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں، خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2)، 20ویں صدی کے وسط سے اب تک زیادہ تر درجۂ حرارت میں اضافے کی ذمے دار ہیں۔ انسانوں کی بنائی ہوئی گرین ہاؤس گیسز نے پہلے ہی اتنی انفراریڈ توانائی کو جذب کرلیا ہے کہ وہ زمین کے درجۂ حرارت کو 2 درجے سینٹی گریڈ سے زیادہ تک بڑھا سکتی ہیں۔
اپنی ایک لاکھ ساٹھ ہزار سالہ تاریخ کے 90 فی صد سے بھی زیادہ عرصے تک ’’ہومو سیپیئنز‘‘ (Homo sapiens) صرف شکاری اور خوراک جمع کرنے والے کے طور پر زندہ رہے۔ اس دوران میں ہمارے آبا و اجداد نے اپنے ماحول پر واضح اثرات ڈالے، یہاں تک کہ براعظمی پیمانے پر بھی۔ مثلاً: آگ لگا کر زمین کو قابلِ کاشت بنانا (fire-stick farming) اور ’’پلیسٹوسین‘‘ (Pleistocene) کے آخری دور میں بڑے جانوروں کا شکار کرنا…… تاہم یہ انسانی اثرات عالمی سطح پر نہایت معمولی تھے اور زمین کے نظامِ کار (Earth System) کی کارکردگی زیادہ تر بغیر کسی بڑی تبدیلی کے جاری رہی۔
تقریباً 10 ہزار سال قبل، جب ’’ہولوسین‘‘ (Holocene) کا آغاز ہوا، دنیا کے چار مختلف حصوں میں کھیتی باڑی کا آغاز ہوا۔ اس نے بالآخر زیادہ مقیم طرزِ زندگی کو جنم دیا۔ گاؤں اور شہروں کی تعمیر ہوئی اور پیچیدہ تہذیبوں کی بنیاد پڑی، جو بڑے خطوں تک پھیل گئی۔
زراعت کے لیے زمین صاف کرنے کے عمل نے زمین کی سطح کے بڑے حصے کو متاثر کیا، مگر اس صفائی کی رفتار محدود تھی۔ کیوں کہ اُس وقت صرف انسانی اور حیوانی قوت ہی میسر تھی۔ یہ ابتدائی زرعی سرگرمیاں زمین کے نظامِ کار پر اثرانداز ہوسکتی تھیں۔
مثلاً: فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کی مقدار میں اضافہ، لیکن یہ اضافہ اتنا زیادہ نہ تھا کہ کاربن ڈائی اکسائیڈ کی سطح کو قدرتی تغیر کے دائرے سے باہر لے جاسکے۔ ابتدائی زراعت کے اثرات کے باوجود زمین کا نظام ’’ہولوسین‘‘ کی حالت میں ہی کام کر رہا تھا۔
تقریباً 1800 عیسوی میں صنعتی دور کا آغاز ہوا، جس میں ’’حیاتیاتی ایندھن‘‘ (Fossil fuels) کے استعمال میں زبردست اضافہ ہوا۔ زمین کی صفائی (Land-clearing) کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ہونے لگی اور زمینی ماحولیاتی نظام زیادہ تر قدرتی حالت سے نکل کر انسانی اثرات کے تابع ہوگیا، یہاں تک کہ 20ویں صدی کے اوائل میں یہ عمل 5 0 فی صد سے بھی تجاوز کرگیا۔ فضا سے نائٹروجن کو صنعتی طور پر حاصل کرنا، جو اَب حیاتیاتی ایندھن کی بہ دولت ممکن ہوا، کھاد کی بڑی مقدار پیدا کرنے لگا اور یوں خوراک کی پیداوار پر ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی۔
صفائی ستھرائی کے نظام (Sanitation systems) بہتر ہوئے، جس نے انسانی صحت کے لیے بڑے فوائد پیدا کیے اور شہری ماحول کو بہتر بنایا۔ اگرچہ فضلہ نچلے ماحولیاتی نظاموں میں منتقل ہوگیا، جن کی صفائی کی صلاحیت کئی دہائیوں تک کافی رہی، مگر حالیہ عشروں میں وہ بھی دباو کا شکار ہوگئی۔ آبادی تیزی سے بڑھنے لگی اور اوسط عمر اور فلاح و بہبود میں اضافہ ہوا۔ حیاتیاتی ایندھن پر مبنی صنعتی نظام نے سامانِ پیداوار میں اضافہ کیا اور آبادی کے ساتھ ساتھ کھپت بھی بڑھنے لگی۔
انسانی معاشروں کو اُس وقت علم نہ تھا کہ حیاتیاتی ایندھن کے تیز رفتار استعمال سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بہ تدریج بڑھ رہی ہے اور 20ویں صدی کے اوائل تک اس کی سطح ’’ہولوسین‘‘ کی قدرتی تبدیلیوں کی بالائی حد سے واضح طور پر بڑھ چکی تھی۔
انسانی سرگرمیوں میں 20ویں صدی کے وسط کے لگ بھگ آنے والا یہ نمایاں انقطاع (Discontinuity) ’’اینتھرو پوسین‘‘ (Anthropocene) کے دوسرے مرحلے کے آغاز کو واضح کرتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد تقریباً ہر چیز کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا، جسے بعض اوقات ’’گریٹ ایکسلریشن‘‘ (Great Acceleration) کہا جاتا ہے۔
انسانی آبادی تین گنا بڑھ چکی ہے، لیکن عالمی معیشت اور مادی کھپت اس سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھی ہے۔ 1950ء کے بعد سے انسانی روابط (Connectivity) میں حیران کن اضافہ ہوا ہے، جس کی جھلک غیر ملکی بہ راہِ راست سرمایہ کاری (Foreign direct investment)، بین الاقوامی سیاحت، موٹر گاڑیوں اور ٹیلی فونز کی تعداد میں نظر آتی ہے۔
اب بھی صرف اس بات پر بحث باقی ہے کہ شمالی نصف کرے کے درجۂ حرارت میں اضافے اور بڑی طغیانیوں کے بڑھنے کی وجہ انسان ہے، یا نہیں…… تاہم اس بات کے بھرپور شواہد موجود ہیں کہ درجۂ حرارت میں اضافہ بنیادی طور پر انسان کے باعث گرین ہاؤس گیسوں کی سطح بڑھنے کی وجہ سے ہے۔
چو ں کہ انسان زمینی مخلوق ہے، اس لیے ہم اپنی توجہ زیادہ تر ان تبدیلیوں پر مرکوز کرتے ہیں، جو خشکی (مثلاً: زمین کے بگاڑ اور جنگلات کی کٹائی) یا فضا (مثلاً: ماحولیاتی تبدیلی) میں آتی ہیں نہ کہ برفانی خطوں یا سمندروں پر…… لیکن فطرت کی نگہ بانی کے نقطۂ نظر سے سمندر، خشکی اور فضا دونوں سے زیادہ اہم ہیں۔ کیوں کہ وہ ماحولیاتی تغیر کے مختلف انداز کو منظم کرتے ہیں، خشکی پر برسنے والی بارش کے لیے نمی فراہم کرتے ہیں، جو زراعت اور شہروں کو سہارا دیتی ہے اور زمین اور فضا کے مقابلے میں کہیں زیادہ کاربن اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔
21ویں صدی میں انسانیت کو در پیش چیلنج کے بارے میں مزید بصیرت اس بات کے تجزیے سے حاصل کی جاسکتی ہے کہ ماضی میں انسانی معاشروں نے اپنے ماحول کے ساتھ کس طرح تعامل کیا؟ اس تجزیے سے معاشرتی ردِ عمل کی تین اقسام سامنے آتی ہیں جو ماحولیاتی دباو کے نتیجے میں ظاہر ہوئیں:
٭ زوال (Collapse)۔
٭ ہجرت (Migration)۔
٭ تخلیقی ایجاد (Creative Invention) جو دریافت کے ذریعے ممکن ہوئی۔
زوال سے مراد کسی معاشرے یا تہذیب کا بے قابو طور پر ڈھیر ہو جانا ہے، جس میں آبادی کی کمی اور پیداوار اور کھپت میں کمی شامل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسانی فلاح و بہبود میں تیز گراوٹ آتی ہے۔ تاریخی دور (اینتھروپوسین سے پہلے) میں بہت سے معاشرتی زوال رونما ہوچکے ہیں اور ان کے اسباب عموماً پیچیدہ اور ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہوتے ہیں، جو زیادہ تر ماحولیاتی، سماجی اور سیاسی عوامل کے باہمی تعامل پر مشتمل ہوتے ہیں ۔
ماضی میں معاشرتی زوال کے اسباب سے متعلق کچھ مفروضے اینتھروپوسین کے حوالے سے خاص طور پر اہم ہیں۔ مثال کے طور پر مسائل کے جواب میں معاشرتی پیچیدگی میں اضافہ ابتدا میں ایک موافق حکمتِ عملی (Adaptive Strategy) ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے یہ پیچیدگی بڑھتی ہے، معاشرے کی (Resilience) کم زور پڑتی جاتی ہے اور وہ بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں کم زور تر ہوجاتے ہیں۔
اگر بنیادی اقدار (Core Values) بیرونی دنیا کی تبدیلی کے ساتھ غیر موثر ہو جائیں اور معاشرے ابھرتے ہوئے مسائل کو پہچاننے سے قاصر رہیں، تو ایسے معاشرے پرانی اقدار میں جکڑے رہتے ہیں، جو نئی اقدار کی طرف منتقلی میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ یہ نئی اقدار مثلاً: حیاتیاتی نظام (Biosphere) سے دوبارہ جڑنے کی حمایت کرتی ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی جدید معاشرت کی ایک بنیادی قدر مسلسل بڑھتی ہوئی مادی دولت ہے، جو ایک ترقی پر مبنی معیشت کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے، جس کی بنیاد ’’نیو لبرل‘‘ (Neo-liberal) معاشی اُصولوں اور مفروضوں پر ہے۔ یہی قدر 1950ء کے بعد ’’گریٹ ایکسلریشن‘‘ (Great Acceleration) کی محرک بنی، لیکن اب موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی تغیرات اس پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔
٭ ماحولیاتی دباو کے باعث جدید دنیا میں زوال کے امکانات کس حد تک ہیں؟:۔ آج کی دنیا میں تجارت، نقل و حمل اور ابلاغ کے ذریعے بڑھتی ہوئی باہمی وابستگی اور مقامی زرعی پیداوار پر کم انحصار رکھنے والے معاشی ڈھانچوں نے معاشروں کی کم زوریوں (Vulnerability Profiles) کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ انسانی اور ماحولیاتی تعامل کی نوعیت بھی کئی جہتوں، پیمانے، رفتار اور پیچیدگی میں بدل چکی ہے، جو کم زوری کی نئی صورتوں کو جنم دیتی ہے ۔
اینتھروپوسین میں ماحولیاتی بگاڑ کے بڑھتے ہوئے عالمی پیمانے نے کچھ جزوی حل پیدا کیے ہیں (مثلاً: بین الاقوامی معاہدے، عالمی منڈی کے نظام)، لیکن ماحولیاتی اور معاشی اثرات کی تقسیم بے حد غیر مساوی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا کسی مقام پر مقامی اثرات اتنے شدید ہوسکتے ہیں کہ وہاں زوال پیدا کرے اور کیا مقامی زوال تیزی سے پھیل کر عالمی انسانی نظام کو متاثر کرسکتا ہے، جیسا کہ عالمی مالیاتی بحران میں ہوا۔ دوسری طرف ایک باہم مربوط انسانی نظام زیادہ علم اور مقامی مطابقت (Local Adaptation) کی تکنیکیں فراہم کرسکتا ہے، جو مقامی زوال کو پھیلنے سے پہلے روک یا قابو پاسکے۔
ایک بالکل نیا مسئلہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منسلک جمہوری خلا (Democratic Deficit) ہے، جو خود مختار ریاستوں کے مجموعے پر مشتمل ہیں۔ زمین کے نظامِ کار (Earth System) پر انسانی اثرات صرف انفرادی دائرۂ اختیار میں حل نہیں ہوسکتے۔ اس کے لیے مافوقُ الوطنی (Supranational) تعاون درکار ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کی رفتار کو سمجھنا بھی اہم ہے، تاکہ آہستہ آغاز (Slow-onset) اور اچانک آغاز (Quick-onset) واقعات کے مقابلے میں کم زوری کو الگ الگ پہچانا جاسکے۔ ماضی کے کئی زوال سست روی یا تدریجی تبدیلیوں کے نتیجے میں رونما ہوئے، جہاں تبدیلی کی رفتار اس کے اسباب کے دباو کے متناسب تھی۔ جدید معاشروں کے پاس ایسی تبدیلیوں سے نمٹنے کے کئی راستے موجود ہیں۔ اگرچہ تیز رو واقعات، جیسے قدرتی آفات، کے حوالے سے کم زوری کئی پہلوؤں میں کم ہوئی، لیکن موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ انتہائی واقعات کا تعدد اور شدت میں اضافے کی توقع ہے۔
آہستہ اور تیز دونوں قسم کے واقعات کا ملاپ اور انسانی نظام کی بڑھتی ہوئی باہمی ربط پذیری، کچھ غیر متوقع عالمی بحران پیدا کرسکتی ہے، جیسے خوراک کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور وبائیں۔ زمین کے نظامِ کار کا پیمانہ تبدیلی کی رفتار کے تصور کو ایک اور جہت دیتا ہے۔ کیوں کہ بعض بہت بڑے جغرافیائی تغیرات (Geophysical Changes) غیر معمولی طور پر طویل وقفے کے بعد اچانک رونما ہوسکتے ہیں۔ انسان جو اَب زیادہ تر زرعی بعد از دور (Post-agrarian Phase) میں ہے، نے اس پیمانے اور رفتار کی ایسی مرکب ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا کبھی کوئی تجربہ نہیں کیا۔
21ویں صدی کے چیلنجوں میں وسائل کی کمی، مالیاتی عدم استحکام، ممالک کے اندر اور ممالک کے درمیان عدم مساوات اور ماحولیاتی بگاڑ شامل ہیں۔ یہ سب اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ یہ سلسلہ مزید جاری نہیں رہ سکتا۔ ہم انسانی تجربے کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں اور ایک ایسی نئی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں جو اپنی نوعیت اور مقدار دونوں کے لحاظ سے اس دنیا سے مختلف ہوگی، جسے ہم جانتے ہیں۔
اینتھروپوسین ہمیں انسان کے پیدا کردہ تغیرات جیسے حیاتیاتی تنوع کے نقصان، فضا اور سمندر کی کیمیائی ساخت میں تبدیلی، شہری آبادی اور عالم گیریت کے پیمانے اور رفتار کی ایک خود مختار پیمایش فراہم کرتا ہے اور ان سب کو زمین کی تاریخ کے طویل زمانی تناظر میں رکھتا ہے۔ ابھرتی ہوئی اینتھروپوسینی دنیا زیادہ گرم ہے، برف کی تہہ سکڑ گئی ہے، سمندر زیادہ اور زمین کم ہو گئی ہے، بارش کے پیٹرن بدل گئے ہیں، حیاتیاتی کرۂ ارض شدید طور پر تبدیل اور کم زور ہو گیا ہے۔
ہم وہ نسل ہیں جس کے پاس یہ معلومات ہیں کہ ہماری سرگرمیاں زمین کے نظام (Earth System) کو کس طرح متاثر کرتی ہیں اور اسی لیے ہم پہلی نسل ہیں، جس کے پاس اس رشتے کو بدلنے کی طاقت اور ذمے داری ہے۔ ذمے دارانہ نگہ داشت (Responsible Stewardship) کا تقاضا ہے کہ ہم وسائل کے استعمال اور فضلے کی تبدیلی اور ’’ری سائیکل انگ‘‘ میں فطرت کی تقلید کریں اور زرعی، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے نظاموں کو تبدیل کریں۔
موثر عالمی نگہ داشت (Planetary Stewardship) کو سائنسی بنیادوں پر طے شدہ اُن حدود کے گرد تعمیر کیا جاسکتا ہے، جو زمین کے نظام کے اہم عملوں (Critical Earth System Processes) کے لیے ضروری ہیں، تاکہ زمین ہولوسین (Holocene) جیسی حالت میں برقرار رہ سکے۔
ایک موثر طرزِ حکمرانی کا ڈھانچا غالباً ’’کثیر مرکزی‘‘ (Polycentric) اور ’’کثیر سطحی‘‘ (Multi-level) ہوگا، نہ کہ مرکزی اور درجہ بندی پر مبنی ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










